کراچی (ٹی وی رپورٹ) سابق وزیراعظم پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ 8 سالہ آمریت نے ملک کو ناقابل حکمرانی بنا دیا ہے، ملکی بہتری کیلئے نیا سوشل کنٹریکٹ اور ایک روڈ میپ طے کیا جائے۔ جیو نیوز کے پروگرام ”آج کامران خان کیساتھ“ میں میزبان کامران خان سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہمیں سب سے پہلے اپنا گھر صحیح کرنے کی ضرورت ہے، ممبئی حملوں میں اگر اجمل قصاب ملوث نہیں ہے تو پھر فرید کوٹ کے محاصرے کی کیا ضرورت تھی، میں نے فرید کوٹ کو چیک کرایا ہے، اجمل قصاب کے گاؤں کو چاروں طرف سے کاٹ دیا گیا ہے، اس کے والدین کو کسی سے ملنے کی اجازت نہیں ہے؛ ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے یہ سب کیا گیا ہے، اگر اجمل قصاب ملوث نہیں تو پھر وہاں سب کو سب سے ملنے کی اجازت ہونی چاہئے، صحافیوں کو روکا جا رہا ہے، یہ سب باتیں اس طرف نشاندہی کرتی ہیں کہ پہلے ہمیں اپنے گھر کو صحیح کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک ناکام ریاست کا منظر پیش کر رہا ہے، مجھے کچھ نہیں چاہئے، میرے صرف تین مطالبات (آئین کو اصلی جگہ پر لانا، آمر کی جانب سے آئین میں کی گئی تبدیلیوں کا خاتمہ، چارٹر آف ڈیموکریسی پر عملدرآ مد اور آزاد عدلیہ) ہیں ان پر عملدرآمد کردیا جائے تو میں زرداری صاحب کے ساتھ میں کسی رکاوٹ کا باعث نہیں بنوں گا۔ تفصیلات کے مطابق میاں نواز شریف نے کہا کہ حکومت کو بار بار یاد دلایا جانا چاہئے کہ 17 ویں ترمیم اور صدارتی اختیارات کا خاتمہ 18/ فروری کا مینڈیٹ ہے اور جس ڈگر پر حکومت چل رہی ہے وہ اس سے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مینڈیٹ کے مابق عملدرآمد کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی یا کسی کا ذاتی ایجنڈہ پاکستان کے ایجنڈے سے متصادم ہے تو اس سلسلے میں ہم جمہوری انداز میں جو بھی جدوجہد ہوسکتی ہے ہم کریں گے، ہم 17ویں ترمیم سے متعلق بل پارلیمنٹ میں لائیں گے لیکن اس سے پہلے ہم حکومت کو ایک اور موقع دیں گے کہ وہ اپنے وعدے پورے کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی پوری توجہ پارلیمنٹ پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں، سڑکوں پر احتجاج کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ اس سے پورا نظام غیر مستحکم ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک ایسی صورتحال کا شکار ہے جس میں حکومتی کنٹرول کا فقدان ہے اور ملک ایک ناکام ریاست کا منظر پیش کر رہا ہے، ہمیں پاکستان کو ان تمام حالات سے باہر نکالنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت ہی دراصل شہید بینظیر بھٹو کی سیاسی وصیت ہے، پیپلز پارٹی کو چاہئے کہ وہ کم از کم اس وصیت کو تسلیم کرے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کو 10 ماہ ہوچکے ہیں لیکن آئینی ترمیم سامنے آنے کی کوئی جھلک نظر نہیں آرہی، اگر پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا نہ کیا تو پھر کوئی اور راستہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اعلان مری کے طے شدہ روڈ میپ پر عمل کرتے تو 10 ماہ میں مسائل پر قابو پاچکے ہوتے، مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد بھی ہمیں کئی مواقع ملے لیکن اب تمام صورتحال بگڑتی نظر آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آج بھی کہتا ہوں کہ تمام وزارتیں، منصب اور عہدے اپنے پاس رکھیں، مجھے آصف زرداری کی جگہ نہیں لینی، میں چاہتا ہوں کہ زرداری صاحب اور ان کی حکومت 5 سال کا مینڈیٹ پورا کریں لیکن اس کے عوض ہمیں 17ویں ترمیم کا خاتمہ، ملک کی عدلیہ آزاد اور ملک میں قانون کی حکمرانی چاہئے؛ ہمارا پیپلز پارٹی سے اس کے علاوہ کوئی مطالبہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کو خوش ہونا چاہئے کہ ملک کی حزب اختلاف کے ملک کو صحیح ڈگر پر چلانے کے علاوہ اور کوئی مطالبات نہیں ہیں۔ غیر موثر حکومتی نظام اور ناکام ریاست کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ میں اس کا سارا ملبہ حکومت پر گرا رہا ہوں اور نہ ہی صرف موجودہ حکومت کو اس کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج ملک کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ جس پر حکومت نہیں کی جاسکتی تو اس میں گزشتہ 8 سال میں پرویز مشرف کا کردار بھی دیکھنا چاہئے، ان کے دور میں کیا کیا گل نہیں کھلائے گئے، سپریم کورٹ کے ساتھ ظلم کیا گیا، ججوں کو نظر بند گیا گیا۔ نواز شریف نے کہا کہ اگر مشرف کا بس چلتا تو شاید وہ پارلیمنٹ پر ایف سولہ طیاروں سے حملہ اور سپریم کورٹ پر بمباری کروا دیتے، یہی وہ سب باتیں ہیں جنہوں نے ملک کو UnGovernable بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں چاہئے کہ پاکستان کیلئے ایک روڈ میپ طے کریں، اگر موجودہ حکومت اس روڈ میپ پر نہیں چلتی تو پھر میرے خیال میں پاکستانی میڈیا، سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی، وکلاء، طلبہ، دانشور طبقے کو ایک ہوجانا چاہئے جو ایک نیا معاشرتی معاہدہ (سوشل کنٹریکٹ) بنائے، پورے ملک کی ایک نیشنل کانفرنس بلائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کام پارلیمنٹ کے کرنے کے ہیں لیکن اگر پارلیمنٹ نہیں کرتی تو کم از کم پارلیمنت سے باہر پارلیمنٹ کو یہ بات بتانے والے لوگ ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ یہ کام اس لئے نہیں کرنا چاہتی کہ ارباب اقتدار ایسا نہیں چاہتے تو پھر انہیں چاہئے کہ وہ قوم کو یرغمال نہ بنائیں۔ ایک سوال کہ آئندہ سال کے اوائل میں موجودہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد نیا چیف جسٹس کون ہوگا، کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ سب سے پہلے موجودہ چیف جسٹس کو اپنا فیصلہ کرنا ہوگا، انہوں نے قوم کے بچوں اور بیٹیوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے، اپنی بیٹی کیلئے سب کا حق مارا ہے، ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی جسے بھی جیالا جج کہہ کر لیکر آئی ہے اس نے کیا کیا، جسٹس سجاد علی شاہ نے جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ججوں کی تعیناتی کا طریقہ کیا ہوگا؛ ججز کسی کی سفارش پر بھرتی نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں چارٹر آف ڈیموکریسی کو لایا جائے، اگر اس میں موجود ججوں کی بھرتی کے طریقے میں کسی بہتری کی ضرورت ہے تو پھر لاء کمیشن بنایا جائے اور یہ کام اسکے سپرد کیا جائے لیکن جب تک ایسا نظام وضع نہ ہوجائے اس وقت تک میں کہوں گا کہ خدارا سفارش پر جج بھرتی نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ یہ ملک کو ناکام ریاست کی طرف دھکیلنے کی جانب دوسرا فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے تحت جج بھرتی نہ ہونے کی صورت میں ہم بھرپور احتجاج کریں گے، ہم یہ نہیں سمجھتے کہ ایڈہاک بنیادوں پر لگائے گئے موجودہ ججوں کو بھی کنفرم کرنے کا یہی طریقہ ہونا چاہیے، ہم ایڈہاک تقرری کے بھی خلاف ہیں۔ چیف جسٹس معاملے پر خاموشی کی پیشکش کس نے کی تھی، کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے بتایاکہ جو لوگ اس کی تردید کررہے ہیں انہیں کو خود بھی نہیں معلوم کہ مجھ سے کس نے رابطہ کیا تھا اور کس نے مجھے پیشکش کی تھی، میں ذمہ دارشخص ہوں اور غیر ذمہ داری کی بات نہیں کرسکتا، 8سال تک آمر کیخلاف جدوجہد کی، مجھے کی جانیوالی پیشکش نہ صرف گھناؤنی بلکہ گھٹیا بھی تھی۔ آئندہ تین ماہ میں سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے میاں نواز شریف نے کہا کہ بحیثیت چیئرمین سینیٹ جو بھی آئین و قانون کے مطابق آئیگا میں اس کا راستہ نہیں روکوں گا۔ ممبئی دھماکوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، پاکستان پر خارجہ دباؤ، تنقید اور پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ اس سلسلے میں بھارتی میڈیا کا رویہ مناسب نہیں تھا، بھارتی حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ پاکستانی انٹیلی جنس کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتی لیکن بھارت نے پاکستان سے بات کرنے کی بجائے سلامتی کونسل سے رجوع کیا اور پاکستان مخالف قرارداد منظور کرالی، اس میں بھارت کی بھی کچھ غلطیاں ہیں جو اسے نہیں کرنی چاہئے تھیں، ہمارے حکمرانوں نے بھارتی فضائیہ کی خلاف ورزی کی صفائی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح اجمل قصاب کا معاملہ بھی ہے، ہمیں پہلے اپنے گھر کو درست سمت میں لے جانا ہوگا، ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دنیا میں جہاں بھی دھماکا ہوتا ہے تو پاکستان کا نام لیا جاتا ہے، یہ سب ایک مذموم سازش کے تحت ہو رہا ہے ۔ گزشتہ روز فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ کی صدر زرداری سے ملاقات اور صدر مملکت کی جانب سے امریکی میزائل حملوں سے متعلق ایک بیان پر میاں نواز شریف نے کہا کہ میں اس بیان پر افسوس کا اظہار ہی کرسکتا ہوں، گزشتہ 8 سال سے پاکستان کی خود مختاری پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، غیر مند قوم کو مذاق بنایا جا رہا ہے، میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہمیں پہلے اپنے گھر کی خبر لینی چاہئے ایسا نہ ہو کہ ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں، آج قوم کو ان تمام چیزوں کی طرف دیکھنا اور سوچنا چاہیے کہ کس دوراہے پر ہم کھڑے ہیں، یہاں کیا ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مذاکرات کی راہ اور کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی اور باہر کے ملکوں کو بھی اسی بات پر قائل کرنا ہوگا، معاملات اسی راستے پر چلنے کی صورت میں ہی حل ہوں گے۔ ایک سوال کہ آیا وہ سیاست میں بدستور نیم خاموش کردار ادا کریں گے یا زیادہ متحرک سیاسی کردار، کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ میں پارلیمنٹ کے کردار کو نظرانداز کرنیکا حامی نہیں، قوم بھی اپنا پروگرام بنا کر پارلیمنٹ کے سامنے لا سکتی ہے کہ اس پر بحث و عملدرآمد کریں۔ ہر کسی کو اپنا اپنا کام کرنے کے عزم کا اظہار کرنا چاہئے، عدلیہ کو اس عزم کا اظہار کرنا چاہئے کہ وہ وہ کسی نظریہ ضرورت کے تحت قانونی حیثیت نہیں دے گی، صرف اسی صورت میں ہی ملک Governable ہوسکتا ہے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ ملک کیساتھ بہت مذاق ہوچکا، اب یہ مزید کسی مذاق کا متحمل نہیں ہوسکتا، ہم آدھا ملک گنوا چکے ہیں اور باقی آدھے کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے، اس ملک اور پاکستان کے 16 کروڑ عوام پرترس کھائیں، اتنے بڑے مینڈیٹ کے باوجود اگر معاملات آگے نہیں بڑھ رہے تو اس سے بڑی بدنصیبی اور کیاہوسکتی ہے، اس بدنصیبی کو خوش نصیبی میں بدلنے کیلئے ہی میں یہ راستہ تجویز کررہا ہوں۔