| ملتان (نمائندہ جنگ/ایجسیاں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حالات کسی وقت بھی بدل سکتے ہیں بہرحال جنگ کا امکان مسترد نہیں کیا جاسکتا، بھارت سرجیکل اسٹرائیک کی غلطی کبھی نہ کرے، اگر ایسی غلطی ہوئی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا، انہوں نے کہا کہ حکومت حالات کا مکمل جائزہ لے رہی ہے، اشتعال میں آئیں گے نہ دباؤ قبول کیا جائے گا، پاکستانی فورسز پوری طرح چوکس ہے اور ہر صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے، ملتان ائیرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے جنگ نہیں چاہتا لیکن ہمیں یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ سب ٹھیک ہے۔ پاکستان حالات کا مکمل جائزہ لے رہا ہے۔ ہمیں بھارت سے غافل نہیں رہنا چاہئے، اشتعال میں آئیں گے اور نہ دباؤ قبول کریں گے۔ افواج پاکستان اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا جانتی ہیں اور پوری طرح چوکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک سے رابطے میں ہیں، انہیں حالات سے باخبر رکھا جا رہا ہے، پاکستان اس حوالے سے او آئی سی سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان اور انٹرپول کے سیکرٹری جنرل نے بھی ہمارے موٴقف کی تائید کی ہے۔اے پی کے مطابق وزیرخارجہ نے کہاکہ ہمیں بہتری کی امید رکھنے کے ساتھ بدترین صورتحال کے لئے تیار رہنا چاہئے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت کو پیغام دے دیا ہے کہ محدود پیمانے پر جنگ کی غلطی نہ کرے، پاکستان بھر پور جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ پاکستان اپنے ایلچی دنیا کے مختلف ممالک میں بھجوائے تاکہ پاکستان کے موٴقف کے حق میں عالمی رائے عامہ ہموار ہو۔ قوم متحد ہے اور اپنی جغرافیائی حدود کا دفاع کرنا جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر مسلط کی گئی تو باوقار، غیرت مند اورغیور قوم کی طرح ملک کا دفاع کریں گے۔ موجودہ صورتحال میں پارلیمنٹ کے ممبران کا کردار مثبت ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے کچھ عناصر ایسے ہیں جو جارحانہ گفتگو کر رہے ہیں۔ جارحانہ گفتگو کرنا تو بہت آسان ہے لیکن ہمیں اس کی ضرورت محسوس نہیں ہورہی، ہمیں اللہ پر بھروسہ ہے، اپنے پر اعتماد ہے خدا کے فضل سے قوم متحد ہے۔ |
|