Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Tuesday, February 09, 2010, Safar 24, 1431 A.H
 
  اہم خبریں 
 
اسلام آباد (جنگ نیوز) پاکستانی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ ممبئی حملوں نے خطے میں جس کشیدگی کو جنم دیا ہے وہ شاید کئی برسوں تک ختم نہ ہو سکے لیکن ان کی حکمت عملی نے بھارت کو فوجی، سفارتی اور سیاسی سطح پر اس مقام پر زیادہ دن قائم نہیں رہنے دیا جو اس نے ’ممبئی حملوں کے بعد بین الاقوامی برادری کی ہمدردی، پرجوش سیاسی بیانات اور پاکستان کے اندر محدود فضائی حملوں یا سرجیکل سٹرائیکس کی منصوبہ بندی کر کے حاصل کر لیا تھا۔‘ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی قیادت اپنی سب سے بڑی کامیابی ان کے ’اس موقف کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کئے جانے کو قرار دے رہے ہیں کہ ان ممبئی حملوں میں پاکستانی ریاست یا اس کا کوئی ادارہ ملوث نہیں ہے۔‘ ذرائع کے مطابق ’جس واضح انداز میں پاکستانی فوجی قیادت نے امریکی فوجی قیادت کو بتایا کہ پاکستان میں محدود فضائی حملے خطے میں ایک مکمل جنگ کا باعث بنیں گے، اس نے پاکستان کی اطلاعات کے مطابق بھارت کو پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس (حملوں) کے منصوبے پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ’باخبر عسکری ذرائع کے مطابق‘ پیر کی شب گئے ایڈمرل مولن کو بتایا تھا کہ پاکستان کے پاس ایسی مصدقہ اطلاعات موجود ہیں کہ بھارتی فضائیہ پاکستان کے اندر بعض مقامات پر حملوں کی تیاریاں مکمل کر چکی ہے۔ بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایڈمرل مولن کو اس بھارتی ایس- یو تیس جہاز کی تصاویر بھی دکھائی گئیں جو تمام اسلحے سے لیس پاکستان کے صوبے پنجاب کے مرکز میں واقع فوجی چھاؤنی کھاریاں کے اوپر سے پرواز کر رہا تھا۔ عسکری ذرائع کے مطابق جس جہاز نے بارہ دسمبر کے روز لاہور سیکٹر میں پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اسے پہلے سے منتظر پاکستانی لڑاکا طیاروں نے اپنی ’فائرنگ رینج‘ میں لے لیا تھا لیکن مار گرانے سے پہلے دی جانے والی تنبیہ پر اس طیارے نے واپسی کا راستہ اختیار کر لیا تھا۔ اس بھارتی طیارے کو مگ انتیس جہازوں کی ایک ٹکڑی کی پشت پناہی یا ضڈبیک اَپ سپورٹ بھی حاصل تھی جو بھارتی فضائی حدود سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ پاکستانی فوجی ذرائع کے مطابق ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر پاکستانی فضائیہ کا قبائلی علاقوں میں کئی ماہ سے جاری آپریشن محدود کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی حکمت کاروں کا کہنا ہے کہ بارہ دسمبر کو ہندوستانی فضائیہ کے ایک لڑاکا طیارے کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد پاکستان کی مسلح افواج کی فارمیشنز میں بعض اعلانیہ تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کے بارے میں امریکی فوجی حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ اسی بنیاد پر خیبر ایجنسی میں آئندہ چند روز میں متوقع فوجی آپریشن کو بھی موٴخر کر کے اس کی اطلاع بھی پاکستان کے دورے پر آئے امریکی چیف آف سٹاف ایڈمرل مائک مولین کو دے دی گئی تھی جنہوں نے امریکہ پہنچنے کے بعد ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے اثرات شمالی پاکستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس خیبر ایجنسی میں اس متوقع آپریشن پر تبصرہ کرنے کے لئے دستیاب نہیں ہو سکے تاہم قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں سے باخبر ایک اور فوجی افسر نے تصدیق کی کہ خیبر ایجنسی میں پاک فوج کی نقل و حمل جاری ہے، تاہم انہوں نے اس نقل و حمل کو معمول کی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ زیر کارروائی علاقوں میں فوجی دستوں کی تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔  
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback