Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Saturday, November 21, 2009, Zil`Haj 03, 1430 A.H
 
  ادارتی صفحہ 
 
لندن میں جس سے بھی ملتا ہوں سب ایک ہی بات پوچھتے ہیں کہ ہم نے کیا قصور کیا تھا کہ خدا نے ہماری قسمت میں کیسے کیسے لیڈران لکھ دیئے تھے۔ بڑے بڑے شریفوں کی عزت سر بازار عام نیلام ہو رہی ہے۔ کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں ہے کہ وہ لوگ جو اس ملک کے وزیراعظم رہے ہیں وہ سکریٹ ایجنسیوں سے چند لاکھ روپوں کے عوض اپنی سیاسی وفاداریاں بیچتے رہے ہیں۔ کچھ روپوں کے لیے اس وقت کے فوجی افسران اور انٹلیجنس والے ان بڑے بڑے شرفاء کو اپنی انگلیوں کے اشاروں پر نچواتے رہے۔ اگر جنرل ضیاء نے یہ فرمایا تھا کہ میں ایک انگلی کا اشارہ کروں تو یہ سیاستدان دم ہلاتے ان کے پاس دوڑے آئیں گے۔ کیا بے نظیر بھٹو کا راستہ روکنا اتنا ضروری تھا جس کے لیے بڑے بڑے شریف سیاستدان اپنی سیاسی روح اور اپنے ضمیر کا سودا کرنے پر تُل گئے تھے۔ سیاستدانوں اور جرنیلوں نے گٹھ جوڑ کر لیا تھا۔ بے نظیر بھٹو انہیں بڑی دشمن لگ رہی تھیں۔ آپ ذرا وہ نام تو پڑھیں جنہوں نے تین فوجی افسروں سے رقومات وصول کیں۔ ایک لمحے کے لیے بھی ان کے ضمیر نے ملامت نہیں کی۔
اس وقت بریگیڈیئر امتیاز اچھا تھا جب وہ بعض سیاستدانوں کو پروموٹ کر رہا تھا۔ اب یکدم بریگیڈیئر امتیاز ولن بن گیا ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ ایک ماہ پہلے تک بریگیڈیئر امتیاز کو رائے ونڈ میں وہی عزت و احترام دیا جاتا تھا جو اسے 1993ء میں بحیثیت IB کے DG کے طور پر ملتا تھا۔ اب بریگیڈیئر امتیاز نے زبان کھول لی ہے تو وہ برا بن گیا ہے۔ باقی چھوڑیں کیسے ہمارے میڈیا نے اپنی توپوں کا رخ بریگیڈیئر امتیاز کی طرف کر لیا ہے۔ مان لیا کہ بریگیڈیئر امتیاز حکومتیں بنانے اور گرانے میں شامل رہا ہے۔ وہ سیاستدانوں کو کرپٹ کرتا رہا ہے۔ لیکن یہ پوچھنے کی گستاخی کی جا سکتی ہے کہ اس نے کن سیاستدانوں کو کرپٹ کیا تھا۔ اگر وہ کرپٹ اور غلط تھا تو اسے 1991ء میں اتنی بڑی پوسٹنگ کیوں دی گئی تھی۔ اگر بریگیڈیئر امتیاز نے بے نظیر بھٹو کے خلاف آپریشن مڈ نائٹ جیکال شروع کیا تھا تو کیا اس کا سارا فائدہ نواز شریف کو نہیں ہونا تھا۔ نواز شریف اس کے کہنے پر کیوں ملک ممتاز کے گھر سیکرٹ میٹنگ کے لیے مری سے چل پڑے تھے اور زاہد سرفراز نے انہیں راستے میں روک کر اس سازش میں پھنسنے سے بچا لیا تھا۔ اگر بریگیڈیئر امتیاز پر تنقید ہوتی ہے جو کہ بجا ہے تو پھر جن لوگوں کے لیے وہ کام کر رہا تھا ان سے بھی بات ہونی چاہیے۔ بریگیڈیئر امتیاز کو بھی یکدم مشہور ہونے کا شوق ہو گیا۔ کیا وجہ تھی کہ انہوں نے ہر ٹی وی چینل پر جا کر انکشافات کی بارش کر دی۔
ہر کوئی اس سے ان سیریس ایشوز پر مزاقیہ اور مزاحیہ انداز میں سوالات کرتا ہے۔ جب بریگیڈیئر امتیاز بولنے لگتا ہے تو اسے بات پوری نہیں کرنے دی جاتی۔ ٹی وی اینکرز کے پاس صرف 40 منٹ ہیں اور اس نے 30 منٹ خود گفتگو کرنا ہوتی ہے اور دس منٹ بریگیڈیئر امتیاز کو درمیان میں ٹوک کر گزر جاتے ہیں۔ ویسے ہمارے میڈیا کو داد دینی چاہیے جس نے بریگیڈیئر امتیاز کو بات پوری نہیں کرنے دی۔ وہ ان لوگوں کے بارے میں انکشافات کر رہا ہے جو زندہ ہیں۔ دنیا بھر میں سیکرٹ ایجنسیوں کے لوگ کتابیں لکھتے ہیں۔ رازوں سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر کوئی یہ بات کر رہا ہے تو اسے چپ کرایا جا رہا ہے۔ بریگیڈیئر امتیاز جھوٹا ہے یا سچا کم از کم ایک بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ اسلام، جمہوریت اور آزاد عدلیہ کا نعرہ مارنے والوں نے کھل کر اپنی سیاسی روحوں اور ضمیر کا سودا کیا۔ جب ان سیاستدانوں کے ماضی کے راز باہر نکلنے کی باری آتی ہے تو ہمارا میڈیا اسے سازش قرار دے دیتا ہے۔ ان شریف سیاستدانوں کے دفاع میں میڈیا خود تحریک چلاتا ہے۔ ہمارا دنیا کا واحد میڈیا ہوگا جو سیاستدانوں کے کرتوت چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ جو نئے لوگوں کو آگے آنے کا موقع نہیں دے گا۔ ہمارا اس سے بڑا دیوالیہ پن کیا ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں نے سیکرٹ ایجنسیوں سے رقوم لیں انہیں ہم نے وزیراعظم بنایا، اپنے کندھوں پر بٹھایا، انہیں اپنی زندگی اور موت کے فیصلے کرنے کا اختیار دیا۔ اب ہم ان کا دفاع بھی دل و جان سے کر رہے ہیں۔
بریگیڈیئر امتیاز کی مذمت ہمیں کرتے رہنی چاہیے تاہم ان شریف سیاستدانوں سے بھی سوال پوچھ لینے میں ہرج نہیں ہے۔1996ء میں لاہور کی سڑکوں پر اپنی بیروزگاری کے دن گزارتے ہوئے میں نے شہرہ آفاق ناول The Godfather کا اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ اس ناول کو ترجمہ کرنے کا جنون صرف پہلا فقرہ پڑھنے سے ہی سر پر چڑھ گیا تھا۔
ناول نگار ماریو پزو نے بھی کیا کمال اس ایک فقرے پر پورا ناول لکھ ڈالا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ جن شریف سیاستدانوں نے ISI سے رات کے اندھیرے میں پیسوں سے بھرے بریف کیس وصول کیے تھے انہوں نے وہ فقرہ نہیں پڑھا ہوگا تاہم انہوں نے مشہور فرانسیسی ناول نگار ہنری ڈی بالزاک کے اس فقرے جس پر پورا گاڈ فادر لکھا گیا، سچ ثابت کیا کہ
Behind every great fortune, there is a crime!
 
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback