Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Saturday, November 21, 2009, Zil`Haj 03, 1430 A.H
 
  ادارتی صفحہ 
 
گزشتہ دنوں مجھے افغانستان پر قابض امریکی اور نیٹوافواج کے خلاف لڑتے ہوئے ساڑھے سترہ سالہ نوجوان کی حالیہ شہادت پر ان کی والدہ امّ مصعب کی ایک پر اثر تحریر(جو ایک کتابچے کی شکل میں تھی) پڑھنے کو ملی۔ ایسے حالات میں جب اسلام کے دشمن جہاد کو دہشت گردی قرار دینے پر تلے ہوئے ہوں اور جب ہماری نظر میں بھی پاکستان کے اندر فضل اللہ اور بیت اللہ محسود جیسوں کی دہشت گردی اور افغانستان میں قابض کفر کی افواج کے خلاف برسرپیکار جہاد کرنے والوں میں فرق دھندلا گیا ہو، امّ مصعب کا مضمون شاید بہت سوں کی بند آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہو ۔نہایت طویل ہونے کی وجہ سے اس پورے مضمون کو کالم میں جگہ دینا ممکن نہیں اس لئے قارئین کی دلچسپی کیلئے امّ مصعب کی تحریر”تب و تاب جاودانہ“کے کچھ اقتباسات ذیل میں پیش کئے جا رہے ہیں۔
”کامیابی کی نوید گھر پہنچی۔ پہلے مصعب کا ایک پرانا خط ملا،جس میں اس نے کفر کی فوج کے خلاف معرکوں میں شمولیت اور کامیابیوں کا تذکرہ کیا تھا، تربیت کی سختی کا بھی ذکر تھا۔ وہ جو کھانے پینے کا دلدادہ تھا، سفر شوق میں آدھی روٹی دن بھر میں کھا کر سنگلاخ پہاڑوں، چٹانوں میں سعد بن ابی وقاص اور خالد بن ولیدرضی اللہ عنھم کے نقش پا ڈھونڈ رہا تھا۔ تربیت کی سختی میں پھٹ جانے والے جوڑے پر اپنے ہاتھوں سے ٹانکے بھرنے کا تذکرہ بھی تھا۔وعدے کی مدت ختم ہو رہی تھی۔ اسے اب لوٹنا تھا،لیکن خط میں واپسی کب کے آگے ایک سوالیہ نشان ڈال کر اس نے چھوڑ دیا تھا۔
اس سوالیہ نشان کا جواب دینے والا خط بھی ساتھ ہی تھا۔اسے کھولا تو چہرے پر پھیلی مسکراہٹ ایک لمحے کیلئے زلزلے کی نذر ہو گئی۔”آپ کو مبارک ہو،اللہ تعالیٰ نے آپ کا بیٹا قبول کر لیا۔کفر کی فوجوں سے لڑتے ہوئے مصعب شہید ہو گیا…!“
یہ وہ لمحہ تھا جو ساری سعادتوں اور بشارتوں سمیت امتحان کا کڑا لمحہ تھا۔شعوری زندگی میں ایمان کی پہچان پانے کے بعد کے تیس سالوں کے تمام اسباق کے امتحان کا لمحہ،وہ تھیوری تھی اور یہ پریکٹیکل تھا۔ اس امتحان میں ناکامی میں تو زندگی بھر کی کمائی لٹ جانے کا اندیشہ تھا۔مہربان مالک نے بڑھ کر تھام لیا....... وہ سننے جاننے والا ماں کے ساتھ تھا....... پھر باپ بھی آ گیا…بے پناہ مضبوط دل کے اندر بھی چھناکا تو ہوا لیکن کرچیوں کی آواز باہر نہ آئی۔ اللہ تعالیٰ ساتھ تھا امتحان کے اس لمحے میں ۔ شکر گزاری، قبولیت کی دعا، درجات کی بلندی، اپنے لئے شایان شان ثبات اور صبر مانگا گیا اور دینے والے نے بھر بھر کردیا۔مالک کی شان کریمی یہ ہے کہ راستہ خود دکھاتا ہے اور اپنے فضل خاص سے چلنے کی توفیق اور اذن بھی دیتا ہے پھر کئی گنا اجر کے وعد ے کر کے حوصلہ افزائی کرتا چلاتا لے جاتا ہے اور پھر امتحان کے لمحوں میں کہیں تنہا نہیں چھوڑتا۔ کام سب اسی کی مدد اور توفیق سے ہو رہے ہوتے ہیں،اس کے باوجود اجر اور کریڈٹ اپنے بندے کی جھولی میں ڈال دیتا ہے۔ موت اور شہادت کا فرق صرف شہید ہوجانے والے کیلئے نہیں ہے۔ پیچھے رہ جانے والے بھی بہ چشم سر اس فرق کو دیکھتے ہیں۔ صبر و سکنیت کی ایک ایسی ٹھنڈک جس میں تڑپ کا نام و نشان بھی نہ ہو۔ اس لئے کہ قرآن کے صفحات اور احادیث کی بشارتیں شہید کی زندگی اور راحتوں بھری زندگی پر گواہ ہیں۔ جوان بیٹے کامستقبل محفوظ ہو گیا تھا، اس کا کیریئر بن گیا تھا۔ بے مثال حسن کی مالک بہو والدین کومفت میں مل گئی، نہ جوتیاں گھسانی پڑیں نہ کسی کا منت کش احسان ہونا پڑا۔ وہ پی ایچ ڈی کر لیتا، کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں دو لاکھ تنخواہ پر مامور ہوجاتا، لیکن مستقبل تو پھر بھی مخدوش ہی رہتا۔ اب وہ ساری ڈگریاں سمیٹ کر امتحان زندگی میں بہت جلد سرخرو ہو کر دربار عالی میں حاضر ہوگیا تھا۔ حفظ قرآن کی ڈگری، تین سال تراویح پڑھانے اور اعتکاف کی ڈگری، فی سبیل اللہ جہاد کی ڈگری(خالص جہاد، کفر کی فوج کے خلاف صف آراء ہوکر، مسلمانوں کے شکار پر مامور ہو کر نہیں!)، اور بالآخر شہادت کی ڈگری!آج ہم پلاٹوں اور قبضہ گروپوں، رئیل اسٹیٹ کے کاروباروں کی دنیا میں ہیں۔ وہ ستتر (77 ) پلاٹوں کا کوٹہ لے کر وہاں جا بیٹھا، جس ”رئیل اسٹیٹ“ کا چپہ چپہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے(بحوالہ حدیث)،ستر پلاٹ شہادت کے اور سات پلاٹ حفظ قرآن کے۔ یہ پلاٹ عسکری پلاٹ ہیں جو اللہ کی راہ کے عسکریتوں کے لئے وعدہ کئے گئے ہیں، اس جنت میں جس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے۔ جہاں ہر طرف عظیم الشان سلطنت کا سروسامان نظر آئے گا ۔ جوان بچے کی جدائی پر بھی گھر والوں کو پرسکو ن دیکھ کر دنیا حیران ہوتی ہے۔
”بڑے سخت دل اور عجیب لوگ ہیں، چھوٹا سا بچہ بھیج دیا اور اب ایسے بیٹھے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں!!“
”یہ کہاں اٹھتا بیٹھتا تھا؟ اسے کس نے برین واش کیا؟“
ارے قرآن کھول کر تو دیکھو،اسے اسی نے برین واش کیا جس نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو چھوٹی چھوٹی عمروں میں اپنا اسیر کر لیا تھا اور کافر منافق چڑ کر کہتے تھے انہیں ان کے دین نے جھلا دیوانہ کر دیا۔ برین واش کر دیا۔انتہاپسند جنونی بنا دیا۔ تیرہ سال کے حضرت علی،سولہ سال کے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم، بعدازاں ان ہی کے نقش قدم پر چلتے سترہ سال کے محمد بن قاسم رحمہ اللہ…آخرت کا کیریئر بھی انہی عمروں میں بنا کرتا ہے، پھر تاریخ رقم ہوتی ہے۔ فاتح خیبر، فاتح ایران اور فاتح ہندوستان…ستر سال کے بوڑھے جرنیل نہیں ہوئے! وہ تو ہتھیار ڈالنا اور دنیا سنوارنا ہی جانتے ہیں! مگر زبانیں نہیں رکتیں…لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کے پروردہ،مغرب کی ہیبت اور محبت کے اسیر، گرین کارڈ اور سٹیزن شپ کے پیچھے دیوانہ وار لپکتے لوگ اس کے علاوہ کہہ بھی کیا سکتے ہیں…؟ہونہہ کہتے ہیں کہ …
”اتنی بڑی قوت کے خلاف یوں سرپھرے بن کر کھڑے ہونے کا یہی انجام ہونا تھا!بچہ گنوا دیا“ لا حول و لا قوة الا باللہ۔
جب اللہ کی طرف سے امتحان کا لمحہ آیا تو ماں نے فوراً کتاب کھولی۔اللہ نے ہر اٹھنے والے اعتراض اور سوال کا جواب بہ زبان قرآن خود دیا۔
”اے لوگو!جو ایمان لائے ہو!کافروں کی سی باتیں نہ کرو، جن کے عزیزواقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں(اور وہاں کسی حادثے سے دوچار ہو جاتے ہیں“تووہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل ہوتے۔ اللہ اس قسم کی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت و اندوہ کا سبب بنا دیتا ہے، ورنہ دراصل مارنے اور جلانے والا تو اللہ ہی ہے اور تمہاری تمام حرکات پر وہی نگران ہے، اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرو یا مارے جاؤ بہرحال تم سب کو سمٹ کر اللہ ہی کی طرف جانا ہے“۔(آل عمران:56 تا58 )
اور یہ کہ …”یہ وہی لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے اور ان کے بھائی بند جو مارے گئے ان کے متعلق انہوں نے کہہ دیا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے۔ ان سے کہو، اگر تم اپنے پاس اس قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت جب آئے تو اسے ٹال کر دکھا دینا۔“(آل عمران:154)
”ان سے کہہ دو کہ، اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے“(آل عمران:154 )
............" وہ دورجس میں سعادتیں اور شہادتیں جرم بن جائیں، دین غربت اور اجنبیت کے اس دور میں داخل ہوجائے کہ فرائض تک کی پہچان جاتی رہے،ایسے میں اللہ تعالیٰ بڑھ کر غربت اور اجنبیت کے ان لمحات میں گویا اپنے بندے کا کمزور دل اپنے ہاتھ میں تھام کر قوی کردیتا ہے۔ وگرنہ لوگوں کے ردعمل امت کی حالت زار کے بسااوقات عکاس ہوتے ہیں۔ ایک خاتون کہنے لگیں،”میں تو سمجھتی تھی کہ یہ راستہ تو صرف پہاڑوں میں رہنے والے کم پڑھے لکھے لوگوں کا راستہ ہے۔ میں تو کبھی سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ پڑھے لکھے خاندانوں سے بھی کوئی اس راستے کا راہی بن سکتا ہے! اب یہ سمجھانا بھی ضروری ٹھہرا کہ ”پڑھا لکھا“ کون ہوتا ہے۔ لارڈ میکالے کے نظام تعلیم سے پڑھا ہوا تو نرا ایک ڈھکوسلا ہی ہے۔ اصل تعلیم سے بے بہرا۔ قرآن و حدیث سے ان پڑھ، نابلد۔ایک مصنوعی غیرحقیقی دنیا کا باسی۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر۔“
 
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback