Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Saturday, November 21, 2009, Zil`Haj 03, 1430 A.H
 
  ادارتی صفحہ 
 
اپنے پچھلے کالم میں 1952کے پیارے پاکستان کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کر چکا ہوں باتیں اور یادیں اتنی پیاری ہیں کہ آنکھیں بند کرتا ہوں تو لاتعداد پیاری باتیں یاد آجاتی ہیں ۔ آج آپ کو اس پیارے علاقہ لیاری کے بارے میں کچھ بتلانا چاہتا ہوں جس کے بارہ میں پچھلے دنوں ٹی وی اسٹیشن رحمن ڈکیت اور گینگ لڑائی جھگڑوں کی خبروں سے بھرے پڑے تھے۔ آپ کی خدمت میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ میں کھوکھراپار کے راستہ 14اگست 1952کو پاکستان میں داخل ہوا اور بذریعہ مال گاڑی کراچی پہنچ گیا۔ ریلوے اسٹیشن سے تانگہ لیا اور تین چار گھنٹہ میں ناظم آباد پہنچ گیا وہاں میری بڑی بہن اور بہنوئی قیام پذیر تھے ، دوسرے روز میرے دو بڑے بھائی رؤف ، قیوم، اُن کے دوست احسان ، سعید اور عنایت مجھ سے ملنے پہنچ گئے ۔ بڑے بھائی اور ان کے دوست اس وقت لیاری کے قریب شیرشاہ میں رہتے تھے وہاں انھوں نے تین بڑے کمرے کرائے پر لئے ہوئے تھے ، یہ بہت بڑے کمرے تھے اور ان کے ساتھ کچن اور باتھ روم منسلک تھے ، ایک کمرے میں میرے بھائی ،دوسرے میں احسان اور قیوم انجینئر اور تیسرے میں ہمارے بھوپالی دوست اقبال خان اپنے والدین کے ساتھ رہ رہے تھے ۔ ایک نہایت شریف بیوہ سندھی عورت صبح آکر آٹا گوندھ کر تندور سے روغنی نان لگوا لاتی تھی، ہم چائے بنا لیتے تھے، ناشتہ کیا اور بھائی کام پر اور میں پڑھنے چلا جاتا تھا۔ اس علاقہ میں ملی جلی آبادی تھی سندھی ، پٹھان ، اور مکرانی یہاں نہایت محبت سے مل کر رہتے تھے، میں شام کو پٹھانوں کے دائرہ میں بیٹھ کر ”بھیا قربان“”بھیا قربان“ گانے اور دف کی آواز آج تک نہیں بھولا مگر جو اہم بات میں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں وہ مکرانیوں کے اخلاق کے بارے میں ہے، آپ میں سے جو کراچی میں رہے ہیں اور خاص طور پر لیاری کے علاقہ میں رہ چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ عرب بدوؤں سے بہت ملتے جلتے ہیں ، سیاہ رنگ ، گھونگھر والے چھوٹے بال ، دراز قد ، ہمیشہ چہرے پر مسکراہٹ اور آپس میں ہنسی مذاق ، مرد زیادہ تر یا تو کیماڑی بند ر گاہ پر ، یا سینماگھروں میں چو کیدار تھے یا گدھے گاڑیا ں چلاتے اور سامان لاتے لیجاتے تھے۔ اگر آپ کو کبھی مشاہدہ کا موقع ملا ہو تو دیکھا ہو گا کہ ان کے گدھے نہایت خوبصورت اور صحت مند تھے ، یہ لوگ وقت کی پابند ی پر عمل پیرا تھے ، شام چار بجے کام ختم کر کے واپس آ جاتے تھے میں نے دیکھا کہ یہ گدھوں کو کھول کر کھلے میدان میں لاتے تھے ان کو ریت میں خوب لوٹنے دیتے تھے اور بُرش سے ان کی صفائی اور مالش کرتے تھے مالک اورگدھے میں محبت اور خلوص دیکھ کر طبیعت خوش ہو جاتی تھی ، میں نے کبھی کسی مکرانی کو اپنے گدھے کو مارتے نہیں دیکھا ۔ یہ سگریٹ کے ڈبہ میں چند کنکریاں ڈال کر رکھتے تھے اور جب گدھے کو بھگاناہوتا تو ڈبہ کو ہلا کر ڈگڈگی کی طرح آواز پیدا کرتے اور گدھے سر پٹ دوڑنے لگتے تھے۔ چھٹی کے دن بندر روڈ پر خالق دینا ہال سے کیماڑی تک ریس ہوتی تھی اس کے بر عکس میں نے شمالی علاقہ میں جانوروں پر ڈنڈے برساتے اورلاتیں مارتے دیکھی ہیں۔ زخمی جانوروں پر ظلم کیا جاتا ہے اور جب وہ قابل خدمت نہیں رہتے تو ان کوباہر بھوکے مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ ایک نہایت دلچسپ اورقابل تقلید واقعہ بیان کرتا ہوں۔ ایک روز میں نے چاکیواڑہ سے بس لی جو کہ ناظم آباد جا رہی تھی ، جب بس کچھ آگے میران محمد شاہ کے علاقہ میں پہنچی تو ڈرائیور نے جو کہ مکرانی تھا بس روک دی اور مسکرا کر بلند آواز سے کہا ، ارے بھیڑاں! تم نے کیا سوچا ہے کہ کیا اپنے باغ میں سیر کر رہے ہو ؟ میں نے باہر جھانک کر دیکھا تو دیکھا کہ بلی کا چھوٹا سا بچہ بیچ سڑک پر کھڑا تھا ۔ ڈرائیور بس سے اترا ، بچہ کو اٹھایا ، پیار کیا اور فٹ پاتھ پر رکھ دیا اور واپس آکر بس لے کر روانہ ہو گیا ۔ میں اس محبت اور نرم دلی کے مظاہرے کو آجتک نہیں بھولا ہوں۔ اس کے بر عکس یہاں کے دو واقعات آج بھی میرے لئے تکلیف دہ یادیں ہیں۔ ایک روز میں کہوٹہ جا رہا تھا تو میں نے اپنی کار سے دیکھا کہ آگے جانے والا ٹرک تیزی سے دائیں بائیں جانب حرکت کرنے لگا میں نے سمجھا کہ اس کی”ٹائی راڈ“ ٹوٹ گئی ہے اور ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گیا ہے مگر میں نے پھر دیکھا کہ ایک نیولا سڑک کو عبور کر رہا تھا اور یہ بے رحم کو شش کر رہا تھا کہ اس کو کچل دے۔ خدا کی پناہ کیا ظالمانہ اقدام ۔دوسرا واقعہ کہوٹہ کے راستہ میں علیوٹ کے مقام پر پیش آیا ، میں تقریباََ روز ہی وہاں ایک فاختہ کے جو ڑے کو سڑک کے کنا رے گندم وغیرہ کے دانے تلاش کرتے دیکھتا تھااور ان کی خوبصورتی اور معصومیت دیکھ کر بے حد خوش ہوتا تھا۔ ایک روز ہماری گاڑی سے آگے جانے والی گاڑی نے جان بوجھ کر اور رفتار تیز کر کے ایک فاختہ کو ہلاک کر دیا ، میں اس درد اور دکھ کو بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ کئی دن وہ درد ناک واقعہ میری نگاہوں میں گھومتا رہا اور آج بھی جب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو بے حد تکلیف ہوتی ہے ، آپ کو شاید یہ علم نہ ہو کہ فاختہ ، بلبل ، طوطے وغیرہ زندگی بھر کی جوڑی بناتے ہیں اور اگر ایک فوت ہو جائے تو دوسرا زندہ درگور ہو جاتا ہے۔ ہم لوگ تقریباََ ایک سال شیر شاہ کے علاقہ میں رہے اگرچہ غریب علاقہ تھا مگر لوگ بے حد ہنس مکھ ،ملنسار اور ہر وقت ایک دوسرے کی مدد کو تیار ۔ مکرانی کھجور بے حد پسند کرتے ہیں اس وقت ہر جگہ کئی اقسام کی کھجوریں ملتی تھیں اور جب ٹڈی دل کا حملہ ہوتا تھاتو یہ لوگ ان کو پکڑ کر سڑک کے کنارے چھوٹی چھوٹی کڑاہیوں میں تل کر بیچتے تھے ، میں نے بھی ان کا مزہ چکھا ہے جو خاصا اچھا تھا ۔ مکرانی بچے نہایت ہنس مکھ اور شریر تھے لیکن یہ شرارت معصو م ہوتی تھی ہماری رہائش کے باہر شیر شاہ روڈ تھی جو چاکیواڑہ سے شیر شاہ ہوتی ہوئی ماری پور جاتی تھی، گھرسے تھوڑی دور اس سڑک میں کچھ نشیب تھا اور بارش کے بعد اس میں پانی رک جاتاتھاجو تقریباً ڈیڑھ ، دو فٹ گہرا ہوتا تھا۔ ایک روز بارش کے بعد ہمارے دوست احسان سائیکل پر نکلے اور اس نشیب سے پہلے رفتار تیز کر کے پیر اوپر کر لئے کہ پانی میں سے گزر جائیں لیکن ابھی درمیان میں ہی تھے کہ ایک مکرانی لڑکا پیچھے دوڑااور کرئیر پکڑ کر سائیکل روک دی جونہی احسان پانی میں گرے وہ قہقہہ لگاتا بھاگ گیا۔
وہاں میں ہر جگہ بچوں کو فٹ بال کھیلتا دیکھتا تھا اور بعدمیں قومی فٹ بال ٹیم میں اس علاقہ کے کئی بہترین کھلاڑی نظر آئے ۔
ان چند سالوں میں حالات کیا سے کیا ہو گئے ہیں ان کا قصور نہیں، یہ حکمرانوں اور ان کی خود غرضانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ اتنا پیار ا محبت ، خلوص سے بھرا معاشرہ ایک ظالم و دہشت گر د معاشرے میں تبدیل ہو گیا ہے۔
 
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback