وطن عزیز میں کی گئی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے سامنے پیش کئے جانے اور کمیٹی کی طرف سے ان ثبوتوں کو بین الاقوامی فورموں اور خود بھارتی حکام کے سامنے پیش کرنے کی سفارش پر عمل درآمد میں مزید تاخیر کی اب نہ کوئی گنجائش ہے نہ ضرورت۔ یہ درست ہے کہ ہم اپنا پڑوس تبدیل نہیں کرسکتے۔ اس لئے ہمسایہ ملک سے اچھے تعلقات قائم رکھنا ہماری ضرورت ہے۔ اس کے لئے کشمیر سمیت دیرینہ تنازعات کے تصفیے کی کوششیں، مختلف سطحوں پر رسمی و غیررسمی بات چیت، سفارتی رابطوں اور تجارتی و سماجی سرگرمیاں بڑھانے کی تدابیر کی جارہی ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم ماضی میں پاکستان کی بقا و سلامتی کے خلاف کئے گئے سنگین اقدامات اور اس وقت بھی مختلف سطحوں پر جاری سازشوں کو نظرانداز کردیں اور بھارتی وزیر اعظم سے اظہار محبت میں نئی دہلی کو ماضی، حال اور مستقبل میں وطن عزیز کے لئے کوئی خطرہ نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ دیدیں۔ ایسی باتوں کے پیچھے کتنی ہی مخلصانہ خواہشیں کارفرما ہوں، ان کے نتائج ملک و قوم کے لئے اچھے نہیں ہوتے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی معاملات سے تعلق رکھنے والے حقائق کو نہ صرف پوری طرح ملحوظ رکھا جائے بلکہ حکیمانہ و دانشمندانہ تجزیے کے ساتھ ملکی مفاد میں ایک ایک لفظ کو تول کر اس طرح استعمال کیا جائے کہ اس سے کسی بدخواہ کو فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ اسی لئے بیشتر مدبر سیاستداں دوسرے ملکوں سے تعلقات یا خارجہ امور کے بارے میں عموماً ماہرین کے لکھے ہوئے بیانات پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں اور ذاتی گفتگو میں بھی پوری طرح محتاط رہتے ہیں۔ جہاں تک سرحد اور بلوچستان کی دہشت گردی میں نئی دہلی کے ملوث ہونے کا تعلق ہے، اس کے لئے قیام پاکستان کے وقت بھارتی لیڈروں کی طرف سے اس مملکت کے چھ یا آٹھ مہینے سے زیادہ نہ چلنے کی پیش گوئیاں، وطن عزیز سے الحاق کرنے والی ریاستوں حیدرآباد دکن، جونا گڑھ، ماناودر، منگرول پر حملے اور قبضے، مسلم اکثریت والے علاقے جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کو روکنے کے لئے وہاں بھارتی فوجیں اتارنے، اقوام متحدہ میں کشمیریوں کو استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے وعدے سے انحراف کرکے نو لاکھ فوجیوں کے ذریعے ظلم و ستم کا بازار گرم کرنے، رقم کے بٹوارے میں پاکستان کا حصہ دبالینے، بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام کرکے نوزائیدہ مملکت پر لاکھوں مہاجرین کا بوجھ لادنے اور وطن عزیز پر کئی جنگیں مسلط کرنے کے واقعات نئی دہلی کی مخصوص ذہنیت کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں۔ پھر جس انداز سے ملک کے مشرقی بازو کو پہلے مکتی باہنی کی دہشت گردیوں کی پشت پناہی اور پھر ننگی جارحیت کے ذریعے علیحدہ کیا گیا، اس کے بعد نئی دہلی پر کسی بھی معاملے میں آنکھیں بند کرکے اعتماد کرنے کا کوئی جواز نہیں رہا ہے۔ بھارتی رہنماؤں کا یہ طرز عمل اسلام آباد پر اپنی بقا و سلامتی کے لئے ہتھیاروں کی ایک ایسی دوڑ مسلط کرنے کا سبب بنا جس کے نتیجے میں اسے کم از کم ڈیٹرنس کی پالیسی کے تحت مئی 1998ء میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد خود بھی ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کرنا پڑا۔ نیپال، سکم، بھوٹان، سری لنکا، مالدیپ، میانمار حتٰی کہ چین جیسے پڑوسی ملک کو بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور ہمسایوں پر دباؤ اور دھمکیوں کے ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس منظر نامے میں افغانستان میں پاکستانی سرحد کے قریب قائم کئے گئے متعدد بھارتی قونصل خانوں کے مقاصد واضح ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت سے ہمارے سرحدی علاقوں میں گڑبڑ کی کئی ایسی کوششیں کی گئیں جن میں نئی دہلی کا ہاتھ نمایاں تھا۔ گوادر کی بندرگاہ پر بھی اسکی نظریں رہی ہیں اور اومان کی طرف سے یہ علاقہ پاکستان کو فروخت ہونے کے بعد نئی دہلی کی جھنجھلاہٹ کے کئی واضح اشارے سامنے آچکے ہیں۔ افغانستان پر غیر ملکی فوجوں کے قبضے کے بعد بھارتی خفیہ ایجنسی را، اسرائیلی ایجنسی موساد، روسی ادارے کے جی بی اور افغان خفیہ ادارے خاد کا گٹھ جوڑ ڈھکا چھپا نہیں۔ جبکہ ان سب اداروں کا اشتراک افغانستان پر قابض طاقت اور اس کے اداروں کے تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کے ذاتی مفادات اور شخصی مصلحتیں ہمارے اداروں کی کارکردگی پر اس بری طرح اثرانداز ہوتی رہی ہیں کہ عالمی برادری کو خطے کے حقائق سے درست طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ نئی دہلی کی جارحانہ سفارتی سرگرمیوں کے شور تلے اسلام آباد کاگو مگو والا موقف یا تو دب جاتا ہے یا ہمارے لوگوں کی پالیسیوں کے باعث معتبر نہیں ٹھہرتا۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے شواہد پیش کرنے میں غیرمعمولی تاخیر کی گئی جبکہ قوم کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کون سا پراسرار دباؤ ہے جو اب تک فاٹا میں ملنے والے غیرملکی اسلحے، دواؤں اور بعض مرنے والوں کی واضح شناخت سے دنیا کو آگاہ کرنے میں مانع رہا ہے۔ یہاں تک کہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کئی روز وطن عزیز میں گزارنے کے بعد جب واپس امریکہ پہنچیں تو ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو بلوچستان میں نئی دہلی کی مداخلت کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اب آئی ایس پی آر کی بریفنگ کے مطابق وزیرستان آپریشن کے دوران اسلحے اور پاسپورٹوں سمیت متعدد ایسی چیزیں ملی ہیں جن سے شورش اور دہشت گردی میں بھارت کا ملوث ہونا ثابت ہوتا ہے۔ وزیر داخلہ رحمٰن ملک متعدد بار بلوچستان اور صوبہ سرحد کی گڑبڑ میں بھارتی پشت پناہی کا حوالہ دینے کے علاوہ پارلیمینٹ کے ایک بند کمرے کے اجلاس میں اس بارے میں بریفنگ بھی دے چکے ہیں۔ اب پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں بلوچستان اور وزیرستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت پیش کئے جانے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو طلب کرکے امور خارجہ کے حوالے سے بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو توقع کی جانی چاہئے کہ کمیٹی کی سفارش کے بموجب مذکورہ شواہد امریکہ، بھارت اور عالمی برادری کے سامنے جلد پیش کئے جائیں گے۔ اور پاکستان کے ہر سفارت خانے کی کارکردگی کو ملک کے مفادات سے ہم آہنگ کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔اس ضمن میں دنیا کو تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ نئی دہلی کے معاندانہ طرز عمل، بھارت میں چلنے والی سیکڑوں علیحدگی کی تحریکوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے پڑوسیوں پر الزام تراشیوں، داخلی مسائل کی سنگینی اور الیکشن کے انعقاد کے وقت پاکستانی سرحدوں پر فوجیں جمع کرنے اور خود اپنے ملک میں سرکاری سرپرستی میں بابری مسجد کے انہدام، سمجھوتہ ایکسپریس کی بہیمانہ آتشزدگی اور احمد آباد کے انسانیت سوز قتل عام سمیت ہزاروں مسلم کش فسادات کرانے کے حربوں کی طرف مبذول کرانا بھی ضروری ہے۔ تاکہ نئی دہلی کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے آسکے۔ عالمی برادری کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایک ایسے وقت جبکہ امریکی فوجی ماہرین افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ سے پاکستان کو لاحق خطرات کی نشاندہی کررہے ہیں، بھارتی وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ نے پاکستان میں مداخلت کی تردید کرنے کے لئے بھی اسلام آباد کو مطعون کرنے اور دھمکی آمیز الفاظ استعمال کرنے کو ترجیح دی ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟ امریکی وزیر خارجہ کے اس اعتراف کے بعد کہ واشنگٹن کی غلط حکمت عملی کے باعث القاعدہ کو افغانستان سے فرار ہوکر پاک افغان سرحدی علاقوں میں ٹھکانے بنانے کا موقع ملا، وہائٹ ہاؤس سمیت عالمی برادری کو جدید ٹیکنالوجی، معیاری فوجی سامان، تیل و گیس کی ضروریات پوری کرنے، معیشت کو درپیش مسائل حل کرنے اور جنگی صورت حال کے مالی بوجھ سے نمٹنے میں اسلام آباد کی بھرپور مدد کرنی چاہئے۔ اور اسی کے ساتھ نئی دہلی کو پاکستان کے لئے ہر روز نئے مسائل پیدا کرنے کی روش سے روکنا بھی ضروری ہے۔