منگل کو لانڈھی جمعہ گوٹھ کے قریب علامہ اقبال ایکسپریس اور مال گاڑی کے تصادم میں خواتین اور بچوں سمیت 20 افراد جاں بحق اور 42 زخمی ہو گئے۔ جن میں سے کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ حادثے کے بعد عام لوگوں کے علاوہ ریلوے حکام ، ریلوے پولیس، رینجرز اور امدادی اداروں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر زخمیوں کی مدد کی۔ ماضی میں بھی ایسے کئی المناک حادثات رونما ہوچکے ہیں لیکن ان کے اسباب کا تعین نہیں کیا گیا اور نہ ذمہ داروں کے خلاف کوئی موٴثر کارروائی کی گئی۔ ظاہر ہے کہ ایسے حادثات کے ذمہ دار بالعموم متعلقہ حکام ہی ہوتے ہیں ان کی غفلت اور لاپروائی سے انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اور محکمہ کو بھاری مالی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ اکثر بیرونی ملکوں میں حادثات کی صورت میں ذمہ دار اہلکار مستعفی ہوجاتے ہیں لیکن ہمارے یہاں ایسی کوئی روایت قائم نہیں ہوسکی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس سانحہ کے اصل اسباب کو سامنے لائے اور غفلت کے مرتکب ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ متاثرین کی ہرطرح امدادی کی جائے اور مستقبل میں اس قسم کے حادثات کی موٴثر روک تھام کی تدابیر وضع کی جائیں۔