Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Sunday, November 22, 2009, Zil`Haj 04, 1430 A.H
 
  ادارتی صفحہ 
 
بپھری ہوئی رائے عامہ اور پارلیمنٹ کے عمومی احساس کے سامنے جھک جانا لائق تحسین اقدام ہے۔ دو برس پہلے پرویز مشرف اسی طرح کے چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے بظاہر جیت گیا تھا لیکن درحقیقت اسے ایسی شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا جو رہتی عمر تک اس کے چہرے کی کالک بنی رہے گی۔ صدر زرداری ایک بڑے چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے بظاہر ہارگئے لیکن یہ ان کی فتح ہے۔ اگر وہ اس فتح کو پوری طرح سمیٹنے اور مستقبل کی حکمت کار کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوگئے تو آگے کا سفر خوش گوار نہ سہی کسی حد تک ہموار ضرور ہو جائے گا۔
لیکن ایک بار پھر وہی بنیادی سوال کہ کیا ایسا ہو سکے گا؟ کیا صدر زرداری کی افتاد طبع انہیں اپنے مزاج کی جولانیوں اور چال چلنے کی ہنر کاریوں پر قابو پانے دے گی؟ کیا ہر آن کچھ نہ کچھ کر گزرنے کا جنوں انہیں فارغ بیٹھنے دے گا؟ کیا وہ ان نورتنوں سے فاصلہ کر پائیں گے جو مسلسل ان کی تلوار کی دھار تیز کرتے رہتے ہیں؟ کیا وہ اس حقیقت کا ادراک کر سکیں گے کہ ان کے اردگرد طوفانوں کی شورش بڑھ رہی ہے۔ اور ان کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں؟
کم از کم مجھے ان میں سے کسی ایک سوال کا جواب بھی ہاں میں نہیں مل رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ پونے دو برس کے دوران آصف علی زرداری حالات کے تناؤ اور واقعات کے بہاؤ کے مطابق دانش مندانہ فیصلے نہیں کر سکے۔ ایک بہت بڑا موقع ججوں کی بحالی کے وقت ملا تھا۔ 16/ مارچ 2009ء کی شب، شدید دباؤ تلے ججوں کی بحالی پر سپر انداز ہو جانے کے بعد انہیں اپنے انداز فکر اور اپنی حکمت کار کو یکسر بدل دینا چاہیے تھا۔ پرویز مشرف جیسے مطلق العنان آمر کی ڈھلوان کا سفر 9/ مارچ 2006ء کی سہ پہر سے شروع ہوگیا تھا، جب اس نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو مستعفی ہونے کا حکم دیا تھا اور انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ آصف علی زرداری کے لئے بھی صدارت کی کشادہ شاہراہ اس دن یکایک بال سے باریک اور تلوار سے تیز پل صراط میں بدل گئی تھی، جس دن ڈوگرہ عدالتیں دم توڑ گئی تھیں اور جسٹس افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب پر آ بیٹھے تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب صدر زرداری اپنے فتنہ گر مشیر بدل کر تازہ ذہن اور تازہ فکر کے ساتھ نئے سفر کا آغاز کرتے۔ آزاد عدلیہ کے سبب حالات میں آنے والی جوہری تبدیلی کا پہلا پیغام یہی تھا کہ جناب صدر اب چومکھی لڑائی لڑنے کی پوزیشن میں نہیں رہے اور اب انہیں خانہ پری اور اعداد شماری والے سیاسی ساتھیوں کی نہیں ایسے معتبر اور موٴثر سیاسی اتحاد کی ضرورت ہے جو استحکام جمہوریت میں ان کا حقیقی دست و بازو بن سکے اور وہ دلجمعی کے ساتھ حکومت کر سکیں۔ ایسا نہ ہوا جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عدلیہ کی بحالی سے ملکی سیاست میں بپا ہونے والے انقلاب عظیم کی اہمیت کا اندازہ نہ لگا پائے۔ انہیں تو شاید اس امر کا احساس بھی نہ ہوا کہ ان کی حکمت کار، ان کی دانش اور بساط سیاست پر ان کی چال غلط بھی ہو سکتی ہے۔
این آر او کے حوالے سے بھی وہ نہ جان پائے کہ ایوان صدر سے باہر کے موسموں کے تیور کیا ہیں اور بظاہر لطیف ہوائیں کیسی چنگاریاں لئے پھرتی ہیں۔ ان کا اولین موقف یہ تھا کہ این آر او سے جس کو جو ملنا تھا مل گیا، اب وہ قصہٴ ماضی ہو چکا ہے اور اسے اسمبلی میں لانے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ پیپلز پارٹی کے وزراء اور راہنما اسی موقف کے پھریرے لہراتے رہے۔ سپریم کورٹ کے 31/ جولائی کے فیصلے کے بعد بھی یہ کلّی طور پر حکومت پہ منحصر تھا کہ وہ این آر او پارلیمنٹ میں لائے یا نہ لائے۔ عدالت نے کوئی جبری قدغن نہیں لگائی تھی اگر صدر اپنی پارٹی کو اسی موقف پر قائم رہنے کی ہدایت دے دیتے تو صورت حال مختلف ہوتی۔ جب وزیراعظم، پی پی پی کے کچھ سینئر راہنماؤں اور بعض اتحادیوں نے انہیں توجہ دلائی تو وہ بھی اس اعلان کے لئے مناسب وقت تھا کہ حکومت این آر او پارلیمنٹ میں نہیں لائے گی۔ اگر نواز شریف کے اعزاز میں دیئے جانے والے عشائیے کی شب ہی ایوان صدر سے بیان جاری ہو جاتا کہ صدر زرداری نے این آر او اسمبلی میں نہ لانے کا فیصلہ کر لیا ہے تو صورت حال کتنی مختلف ہوتی؟ لیکن ” ہمیشہ دیرکر دیتا ہوں میں “ کی رسم کہن زندہ رہی۔ آبرو مندی کے سارے راستے بند کرکے صدر زرداری اپنے آپ کو بند گلی میں لے آئے اور جبر کا ہتھوڑا عین اسی انداز میں برسا جس انداز میں 16/ مارچ کو برسا تھا۔ تب بہارکی آمد آمد تھی جب رات ڈھلے صدر زرداری کے سامنے ججوں کی بحالی کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا تھا۔ اب پت جھڑ کی اداس رتوں کا سندیسہ لاتی خنک رات کا تیسرا پہر تھا جب صدر زرداری نے فرحت اللہ بابر سے کہا کہ وہ این آر او اسمبلی میں نہ لانے کا اعلان کر دیں۔
پیچھے پلٹ کر دیکھیے۔ بنیادی طور پر این آر او کے دو فریق تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف۔ محترمہ انتخابات سے پہلے ہی خنجر قاتل کا لقمہ ہوگئیں اور افق تا افق پھیلی ان کی جماعت نے اپنی شہید قائد کے لہو کو فراموش کر دیا۔ پرویز مشرف رسوائیوں کے پشتارے پیٹھ پر لاد کر فرار ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی این آر او کاغذ کا لاوارث پرزہ بن کر رہ گیا۔ اس کے فریقوں میں سے کوئی موجود نہیں۔ صرف وہ ہیں جنہوں نے اس سے فیض پایا اور اقتدار کے ایوانوں میں جا بیٹھے۔ اگر طے شدہ مفاہمت کے مطابق آج پرویز مشرف صدر ہوتے اور محترمہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر بیٹھی ہوتیں تو شاید این آر او بھی سایہ فگن رہتا لیکن اب وہ قطعی طور پر غیر متعلق ہو چکا ہے، البتہ بارود کا یہ ٹوکرا کسی لمحے صدر زرداری کے لئے مہلک دھماکے کا سبب ضرور بن سکتا ہے۔
وزیراعظم نے معاملہ عدلیہ پر چھوڑ دیا ہے۔ اگر صدر زرداری بھی اس پر آمادہ ہوگئے ہیں تو انہیں دل بڑا رکھتے ہوئے ہر طرح کی صورت حال کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ 28/نومبر این آر اوکے مردے کی باضابطہ تجہیز و تکفین کا دن ہے۔ اس رات بارہ بجے کے بعد صدر اور ان کے بہت سے رفقاء کے خلاف وہ مقدمات زندہ ہو جائیں گے جو این آر او کے ”حوض صافی “ میں ڈال دیئے گئے تھے۔ معاملات عدالتوں میں جائیں گے اور جانے کیا کیا کچھ تماشا بن جائے گا۔ ماضی تو ماضی، حال کی کہانیاں بھی موضوع بن جائیں گی۔ انصار عباسی نے ” جنگ “ اور ” دی نیوز “ میں شائع شدہ اسٹوری میں بتایا ہے کہ کس طرح اسلام آباد کے نواح کی ڈھائی ہزار کنال سے زیادہ زمین ایک ایسی کمپنی نے اونے پونے داموں خرید لی جس کے مالکان میں آصف زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول زرداری شامل ہیں۔ ابھی تک اس کی تردید نہیں آئی۔ جناب صدر اس آئینے میں آنے والے موسموں کی دھندلی سی تصویر دیکھ سکتے ہیں۔
حالات میں بہتری کی ایک صورت یہی ہے کہ صدر زرداری، مسلم لیگ (ن) سے معاملات ٹھیک کریں۔ نواز شریف اب بھی کسی غیرجمہوری تبدیلی کے سخت خلاف ہیں۔ وہ زرداری صاحب کی صدارت پر کسی بھی ناروا حملے کو استحکام وفاق کے تقاضوں کے منافی خیال کرتے ہیں۔ صدر کو میاں صاحب کی اس مثبت سوچ سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ شعبدوں اور کرتبوں کا باب ہمیشہ کے لئے بند کر دینا چاہیے۔ بلاشک بدترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے ہزار گنا اچھی ہوتی ہے بشرطیکہ جمہوریت کے پاسبان افہام و تفہیم کا جذبہ زندہ رکھیں اور کوئی فریق اپنے آپ کو مرقع عقل و دانش سمجھ کر بے مہار ہو جائے نہ حساس قومی معاملات کو شطرنج کا کھیل سمجھے۔
 
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback