پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک ایک منہ پھٹ سفارتکار کے طور سے مشہور ہیں۔ اپنی اس شہرت کے عین مطابق‘ گزشتہ روز انہوں نے جو چند دلچسپ باتیں کیں وہ کچھ یوں ہیں۔ ”کیری لوگر بل کی مخالفت کرنے والے حکومت کے مخالف اور طالبان کے حامی ہیں۔“ آگے انہوں نے ایک اور بڑا انکشاف کیا۔ یہاں کے باخبر لوگوں کیلئے یہ حیرت انگیز بھی نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ”پاکستان کی موجودہ داخلی سیاسی صورتحال 16 مارچ جیسا ماحول پیدا نہیں کرے گی‘ جب امریکی حکام کو پاکستانی قیادت کو فون کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ ہمیں 16 مارچ کے واقعات میں زبردستی لایا گیا تھا کیونکہ عدلیہ کا مسئلہ گلیوں میں احتجاج کی صورت اختیار کر گیا تھا اور خیال کیا گیا تھا کہ ہماری مداخلت اور فون سے اس مسئلے کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔“ اور آخری بات ”پاکستانی اپنی خودمختاری کے معاملے میں بہت حساس ہیں لہذا اس بارے میں مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔“ سفارتکار کو اتنا منہ پھٹ نہیں ہونا چاہیے لیکن ہالبروک کی یہ صفت ‘ہمارے لئے کافی معلومات افزا ثابت ہو رہی ہے۔ ہمارے ہاں صحیح خبریں عموماً رازوں کے اندر چھپی رہتی ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی من پسند دعوے کر کے ہمیں متاثر اور مرعوب کر سکتا ہے۔ 16 مارچ کے حوالے سے ہم کس کس سے متاثر اور مرعوب ہوئے۔ نوازشریف نے دعویٰ کیا کہ ججوں کو ان کے احتجاجی مظاہرے نے بحال کرایا۔ انکی تقریروں اور بیانات میں یہی تاثر ملتا تھا اور ہے کہ ججوں کی بحالی کے راستے میں صدر زرداری رکاوٹ تھے۔ ایک بار انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہمارے مطالبے پر آصف زرداری ججوں کو بحال کر دیتے‘ تو کریڈٹ کسی دوسرے کو کیوں جاتا؟ یہاں پر ”دوسرے“ کی وضاحت نہیں کی گئی‘ جس پر بیشتر پاکستانی یہی سمجھے کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا ذکر کررہے ہیں۔ کیونکہ یہاں جتنی خبریں اور تبصرے سامنے آئے تھے‘ سب میں یہی کہا گیا کہ جنرل کیانی نے وزیراعظم ہاؤس جا کر حکومت کو ججوں کی بحالی کے فیصلے پر مجبور کیا اور انہوں نے بیرسٹر اعتزاز احسن کیلئے نوازشریف کو پیغام پہنچایا اور پھر ٹیلی فون پر یہ کہہ کے جلوس روک دینے کا مشورہ دیا کہ آپ کا مطالبہ پورا کیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ سارے دعوے اور انکشافات ہالبروک کے اس بیان کے بعد کچھ اور ہی نکلے۔ اصل کام واشنگٹن سے ہوا اور اس کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے۔ یہ تاثر کہ ججوں کی بحالی میں پاکستانی فوج حائل تھی‘ کیونکہ وہ لاپتہ افراد کے حوالے سے ایسا دباؤ ڈال رہے تھے جو سکیورٹی آپریٹس کی کارکردگی پر اثرانداز ہو سکتا تھا۔ لیکن واضح ہوا کہ ہماری فوج کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ صدر زرداری کا اپنا بیان یہ ہے کہ وہ چیف جسٹس ڈوگر کی ریٹائرمنٹ کے بعد‘ موجودہ چیف جسٹس کو بحال کرنیوالے تھے۔ ظاہر ہے ان کی یہ خواہش ضرور ہو گی لیکن واشنگٹن سے ٹیلی فون آئے بغیر‘ وہ چاہتے بھی تو ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ سارے پاکستانی کردار امریکی دباؤ میں تھے۔ یہ تو آپ کو یاد ہو گا کہ رچرڈ ہالبروک‘ چیف جسٹس آف پاکستان سے خصوصی ملاقات کر گئے تھے۔ عمومی خیال یہ تھا کہ امریکہ کو دوباتوں کی فکر تھی۔ ایک یہ کہ امریکہ کے حوالے کئے گئے افراد کا معاملہ زیربحث نہ آ جائے اور دوسری یہ کہ لاپتہ افراد کی تلاش کا مسئلہ کھڑا نہ ہو۔ یقینا اس معاملے میں امریکہ کو کسی نہ کسی قسم کا اطمینان ضرور حاصل ہوا ہو گا۔ یہی وجہ تھی کہ 16 مارچ کو اعلیٰ امریکی عہدیدار نے ٹیلی فون پر ججوں کی بحالی کا سگنل دے دیا۔ بحالی کا مشورہ چیف آف آرمی اسٹاف نے دیا اور صدر زرداری کو وزیراعظم گیلانی نے اسکی اطلاع دی۔ گویا ججوں کی بحالی کسی بھی طور صدر زرداری کی شکست نہیں تھی اور اگر یہ شکست تھی تو ان سب کی شکست تھی‘ جن کا اس معاملے میں کوئی بھی موافقانہ یا مخالفانہ کردار رہا ہے۔ آپ نے دیکھ لیا ہو گا کہ لاپتہ افراد کا مقدمہ خود انہی کی طرح آج تک لاپتہ ہے۔وکلا کے لیڈروں کے بیانات یاد کریں۔ ہر کسی نے دعویٰ کیا تھا کہ ججوں کے بحال ہوتے ہیں لاپتہ افراد کو برآمد کر کے‘ ان کے خاندانوں سے ملا دیا جائے گا۔ سب کے خاندان ابھی تک بھٹکتے پھر رہے ہیں اور وہ میڈیا جو برامدگی کی تحریک چلانے والی خواتین کو مسلسل سامنے لا رہا تھا‘ اب ان کا حال تک نہیں پوچھتا۔ سیاستدانوں کے بارے میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ انسانی مسرتوں‘ دکھوں اور المیوں کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کرتے ہیں اور جب مطلب پورا ہو جائے تو سب کچھ بھول جاتے ہیں۔لیکن میڈیا سے سب کو امید ہوتی ہے کہ وہ انسانی معاملات کو خالص انسانی بنیادوں پر دیکھتا ہے‘ اس کی کوئی مصلحت نہیں ہوتی۔ مفاد نہیں ہوتا۔ صرف سچائی اور انسانی فلاح مطلوب ہوتی ہے۔ وکلا تحریک میں تو یہ دعوے بھی کئے گئے تھے کہ جج بحال ہو گئے تو دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائیگا۔ چوہدری اعتزاز احسن بھی جانتے ہوں گے کہ ججوں کی بحالی کے بعد دہشت گردی سے جتنی انسانی جانیں گئیں‘ اتنی تعداد میں پورے دو سالوں میں نہیں گئی ہوں گی۔ مگر اس معاملے پر ان کا کوئی بیان دیکھنے میں نہیں آیا۔ تحریک کے لیڈروں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ جج بحال ہو گئی تو مہنگائی بھی ختم ہو جائے گی۔ عدالتی فیصلہ اور بازار میں چینی کے نرخ کیا ظاہر کرتے ہیں؟ عوام دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ اپنی طاقت کیسے منواتی ہے؟ وکلا تحریک کے لیڈر اس پر کیوں چپ ہیں؟ سچی بات تو یہ ہے کہ جس معاشرے میں قانون‘ اخلاق اور آئین کی بے حرمتی رواج بن گیا ہو‘ وہاں کوئی ایک ادارہ پاک صاف نہیں رہ سکتا۔ لیکن سچ کا اظہار تو کوئی نہ کوئی کرتا رہتا ہے خصوصاً بااصول اور باضمیر لوگ۔ علی احمد کرد بھی ججوں کی بحالی کی جدوجہد میں صف اول کے رہنما تھے۔ وہ سچ بول دیتے ہیں اور کسی کو سچ بولتے ابھی تک نہیں سنا گیا۔ مگر وکلا برادری نے سچ بول کے دکھا دیا۔ ججوں کی بحالی میں پیش پیش رہنے والے علی احمدکرد گزشتہ الیکشن میں سات آٹھ سو ووٹوں کی برتری لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ اس مرتبہ حامد علی خان گروپ کا امیدوار بمشکل 44 ووٹ زیادہ حاصل کر سکا۔ یہ اکثریت بھی لاہور سے ملی جبکہ باقی سارے پاکستان میں اس گروپ کو شکست ہوئی اور لاہور میں مخالف امیدوار باچہ خان نے دھاندلی کا الزام لگایا۔ وہ ثبوت جمع کرتے پھر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ اپنا دعویٰ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں ‘ مگر ایک بات واضح ہو گئی کہ ججوں کی بحالی سے وکلا کو جو امیدیں تھیں‘ ان کی کیفیت ووٹوں میں ظاہر ہونے والے رحجان کے اندر موجود ہے۔ یاد رہے کہ حامد علی خان گروپ کے مخالف امیدوار‘ باچہ خان تعلقات عامہ کی دوڑ میں کبھی شامل نہیں رہے۔ اگر وہ روایتی امیدواروں کی طرح سرگرم شخصیت ہوتے تو وہ وکلا کا وہ گروپ جسے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی حمایت کیلئے جانا جاتا ہے‘ شکست کھا سکتا تھا۔ رچرڈ ہالبروک نے 16 مارچ کے حوالے سے جو بات کھولی‘ میں بھی اسی کی رو میں بہہ کر اپنی طرف سے بہت کچھ لکھ گیا۔ اس منہ پھٹ سفارتکار کی یہ بات قابل غور ہے کہ ”پاکستانی اپنی خودمختاری کے معاملات میں بہت حساس ہیں لہذا اس بارے میں مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔“ ضرورت واقعی نہیں۔ انہوں نے جو کچھ کہہ دیا ہے اس میں وہ بات موجود ہے جو کہنے سے انہوں نے ”گریز“ کیا۔ 16 مارچ کی صبح کو آنے والی ٹیلی فون کال اور اس کا نتیجہ یاد کر لیں‘ جس کا ذکر رچرڈہالبروک نے کیا اور پھر خودمختاری کے بارے میں اپنی حساسیت کی درجہ بندی کر لیں۔کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہمارے اہل اقتدار ان کٹھ پتلیوں کی طرح ہیں‘ جن کے دھاگے صاف نظر آتے ہیں۔ مگر کوئی کٹھ پتلی ان کا وجود تسلیم نہیں کرتی اور ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم ان کی خودداری اور غیرت کے چرچے کریں۔ ہم ایسا کرتے بھی ہیں۔