جو لوگ کسی مسلمہ حقیقت کو بغیر کسی لمبی چوڑی بحث و تمحیص کے مان لیتے ہوں ، انہیں کیا پتہ کج بحثی کیا چیز ہے اور اس میں کتنا مزہ ہے؟ اس لذت سے صرف میں واقف ہوں، چنانچہ میں ہی جانتا ہوں کہ مسلمہ حقیقتوں کو چیلنج کرنے میں مزہ ہی نہیں۔ اس سے محفل میں مرکز نگاہ بھی بنا جاسکتا ہے میں یہ گر اکثر آزماتا ہوں اوربحمد للہ سرخرو ہوتا ہوں۔ مثلاًمیرا ایک دوست اکثر میری سگریٹ نوشی پر مجھ سے الجھتا رہتا ہے، وہ کہتا ہے تمہاری زندگی بہت قیمتی ہے حادثے کی صورت میں اس کی قیمت پانچ لاکھ تک لگ سکتی ہے لہٰذا اس لعنت سے جتنی جلد ممکن ہو چھٹکارا حاصل کرو۔ میرا دوست سگریٹ نوشی کے خلاف دلیل یہ دیتا ہے کہ یہ کینسر اور دوسری بہت سی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔ میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ اس وقت انسانوں میں جتنے موذی امراض پائے جاتے ہیں ان سب کی بنیادی وجہ سگریٹ نہیں بلکہ ٹینشن ہے، ٹینشن سے بلڈ پریشر کا مرض لاحق ہوتا ہے، ٹینشن سے شوگر ہوتی ہے اور ٹینشن سے ہارٹ اٹیک کی نوبت آتی ہے جبکہ سگریٹ اس ٹینشن میں کمی واقع کرتا ہے ،اگر آزمانا چاہو تو کبھی سخت ذہنی کھچاؤ کے عالم میں ایک” سوٹا“ لگا کر دیکھو تمہارے اعصاب پرسکون ہوجائیں گے۔ اس پر میرا دوست بجائے قائل ہونے کے جنجھلا اٹھتا ہے اور کہتا ہے کسی دن ہسپتال کا چکر لگا کر دیکھو تمہیں پتہ چلے گا کہ مریضوں کی ایک بڑی تعداد سگریٹ نوشی کی وجہ سے مختلف امراض میں مبتلا وہاں پڑی ہے۔ میں اس پر ہنستا ہوں اور کہتا ہوں”تم بھی کسی دن ہسپتال کا چکر لگا کر دیکھو اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرو کہ ان میں سے کتنے سگریٹ نوشی کی وجہ سے بیمار ہیں اور کتنے وہ ہیں جو سگریٹ نہ پینے کی وجہ سے اس حال کہ ”پہنچے ہیں“۔ جب میرا دوست میری اس دلیل سے متفق نہیں ہوتا تو میں اسے اپنے ایک دوست کا واقعہ سناتا ہوں، شادی کے فوراً بعد ان کی بیگم نے ان سے کہنا شروع کردیا کہ سگریٹ چھوڑ دو، اس نے کچھ عرصہ تو یہ سب کچھ سنا مگر ایک دن اپنی بیگم کو مخاطب کیا اور پوچھا” میری تمہاری شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے“ بیگم نے جواب دیا”تین مہینے“ دوست نے کہا ”میں سگریٹ 25سال پی رہا ہوں، چنانچہ مجھے بے وفائی کا درس نہ دو، میں اگر پچیس سالہ رفاقت چھوڑ سکتا ہوں تو یہ تین مہینے تو کوئی چیز ہی نہیں ہیں“۔ میرے ان ”دلائل“ سے جب میرا دوست بہت بری طرح زچ ہوجاتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے ابھی کہا ہے وہ سب کج بحثی کا مزہ لینے کے لئے تھا اور کج بحثی کی افادیت تسلیم نہ کرنے والے تم ایسے شخص کو یہ جتانا بھی کہ یہ ہنر کوئی حقیقت تسلیم نہ کرنے کے حوالے سے کس قدر سود مند ہے؟ سو میرے دوست حقیقی صورتحال یہ ہے کہ میں سگریٹ نوشی کی اس لعنت کے مضمرات سے اچھی طرح واقف ہوں، چنانچہ بیسیوں مرتبہ اسے چھوڑنے کی کوشش کرچکا ہوں جب اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوتا تو پھر اس کا عذر تلاش کرنے لگتا ہوں جو بدتر از گناہ نہیں ہے، تم مطمئن رہو میں انشاء اللہ ایک دن سگریٹ نوشی ترک کرنے کی اپنی اس کوشش میں ضرور کامیاب ہوں گا۔ چند روز قبل میرے ایک اور دوست میرے پاس تشریف لائے وہ این آر او کے خلاف تھے، چنانچہ مجھے مجبوراً این آر او کے حق میں دلائل دینا پڑے تاکہ کج بحثی کا لطف اٹھایا جاسکے۔ میں نے اس آرڈیننس کے فائدے گنواتے ہوئے کہا ”تم جانتے ہو اللہ تعالیٰ کی ذات غفور الرحیم ہے اور رحم کرنے کی یہ صفت اس کے نیک بندوں میں بھی پائی جاتی ہے، چنانچہ جو لوگ این آر او کی حمایت کریں گے وہ مفت کی جنت کمائیں گے اور انہیں دنیاوی فائدے بھی حاصل ہوں گے۔ اب دیکھ لو جنرل پرویز مشرف کو اس آرڈیننس کی وجہ سے کتنے بھاگ لگے ہیں انہیں اہل مغرب ایک لیکچر کے دو لاکھ ڈالر دے رہے ہیں، این آر او کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ جیلوں میں بند قتل، ڈکیتی ، رہزنی اور غبن وغیرہ کے ملزم بھی ایک نہ ایک دن اپنے لئے این آر او کا مطالبہ کریں گے اور یوں مطالبہ پورا ہونے کی صورت میں ایک بار پھر ڈکیتیاں وغیرہ کرکے سرمائے کے ایک جگہ جمع ہونے کے غیر اسلامی فعل کا سدباب کرسکیں گے۔ این آر او کی توثیق کا تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ یہ سہولت حاصل کرنے والی ٹیم ملک میں ترقی کی رفتار کو تیز سے تیز کرتی چلی جائے گی، یہ بڑے بڑے پروجیکٹس بنائے گی کیونکہ میگا پراجیکٹس میں کمیشن کی شرح بھی کافی تسلی بخش ہوتی ہے اور یوں ملک معاشی انقلاب کی راہ پر گامزن ہوجائے گا ۔ این آر او کا چوتھا فائدہ یہ ہے کہ… لیکن مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا کے میرا دوست میرے دلائل کی تاب نہ لاکر مجھ سے ہاتھ ملائے بغیر اٹھ کر چلا گیا اور یوں میرے دلائل ادھورے ہی رہ گئے“۔ میں نے اپنے یہ تجربات عوام کے فائدے کے لئے یہاں درج کئے ہیں، چنانچہ وہ تمام خواتین و حضرات ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہوں نے طے کرلیا ہو کہ وہ کسی بھی مسلمہ حقیقت کو نہیں مانیں گے، ویسے بھی ہم لوگوں کے پاس وقت وافر مقدار میں ہوتا ہے اس کے صحیح استعمال کا یہی طریقہ ہے کہ کج بحثی سے کام لیا جائے، کیونکہ اگر آپ اپنے مخاطب سے اتفاق کریں گے تو یہ گفتگو تو ایک آدھ منٹ میں ختم ہوجائے گی اس کے بعد باقی سارا دن آپ کو دیواروں سے باتیں کرنا پڑیں گی، چنانچہ آپ کے لئے بہتر ہے کہ اپنی تنہائی دور کرنے اور شوق گفتار پورا کرنے کے لئے کج بحثی سے کام لیں آپ یقین کریں کج بحثی کا اپنا ہی مزہ ہے۔