پھرکوئی آئے گا اور خدا جانے وہ کیسا ہو گا۔ اگر ہم تدبیر نہیں کرتے تو مقدر حکمرانی کرے گا۔ تب خدانخواستہ یہ حالات کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ چیلنج بہت بڑا ہے۔ داخلی بھی اور خارجی بھی۔ کبھی ایک لمحے کو ہم رکتے ہیں، ادراک کرتے ہیں، لیکن پرانی عادتیں چونکہ مشکل سے مرتی ہیں ! لہٰذا پھر سے چھوٹے چھوٹے جھگڑوں میں الجھ جاتے ہیں۔ غیبت کے عادی ایک شخص کی طرح جوکسی کا قصہ لے کر بیٹھ جاتا ہے اور مردہ بھائی کا گوشت کھاتا رہتا ہے۔ 1707ء میں اورنگ زیب عالمگیر اس حال میں دنیا سے اٹھا کہ یہ شعر ورد زبان تھا۔ بہر لحظہ، بہر ساعت ، بہر دم دگرگوں میشود احوال عالم عالمگیر کے بارے میں بعد ازاں بہت سے قصے تراش لئے گئے۔ علامہ اقبال نے جسے ” ترکش مارا خذنگِ آخریں“ ہمارے ترکش کا آخری تیرکہا تھا۔ اور یہ کہا تھا لے دے کے ساری داستاں سے تمہیں بس یاد ہے اتنا کہ عالمگیر ہندوکش تھا، ظالم تھا، جفا جو تھا عالمگیر کو الگ رکھیے، جس کی موت کے پانچ برس بعد مسلم اقتدار کا شیرازہ بکھرنے لگا۔ اقلیت ہمیشہ اکثریت پر حکمران نہیں رہ سکتی۔ سوال دوسرا ہے۔ ہمیں ایک قوم بننا ہے یا نہیں بننا۔ ہماری بقا کا تمام تر انحصار اسی ایک سوال کے جواب پر ہے۔ اس لیے کہ اگر ہم ایک قوم نہ ہوں گے تو بحرانوں کا سامنا کس طرح کریں گے۔ اتحاد لازم ہے اور اتحاد ظاہر ہے کہ محی الدین اورنگ زیب عالمگیر پر نہیں۔ 1973ء کے دستور پر ہو گا۔ اجلے نجیب الطرفین اور ایثار کیش سید ابو الاعلیٰ مودودی کے مرقد پر کھڑا ہو کر انشاء اللہ میں ان کی بلندیٴ درجات کے لیے دعا کروں گا مگر یہ ماننا مشکل ہے کہ سیاست کا پیمبری ہے۔ پیمبر معاشرے کی علمی اور اخلاقی اصلاح کے لیے بھیجے گئے۔ سیاست میں ایجنڈا مختصر ہوتا ہے۔ یہ بات نہ دیو بند سمجھ سکا اور نہ مرحوم و مغفور سید مودودی۔ یہ مسلم برصغیر کی آبرو مندانہ زندگی کا مسئلہ ہے، نفاذ اسلام کا نہیں۔ مسلمان بچے رہیں قرار پائیں اور اقلیت ہمیشہ اکثریت پر حکمران نہیں رہ سکتی، اصلاح کر گزریں تو ایک دن اجلا اسلامی معاشرہ، چنانچہ اسلامی حکومت بھی بن جائے گی۔ فی الحال تو زندگی کا مسئلہ ہے، زندگی کا۔ عمران خان اور سید منور حسن نہ سمجھ سکے کہ ضد پر اڑے ہیں مگر ساٹھ سال سے سری نگر کے مقتل میں کھڑے سید علی گیلانی نے بات کو پا لیا۔ صاف الفاظ میں انہوں نے کہا کہ طالبان پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام بھی یہی کہتے ہیں۔ گیلپ کے مطابق ان میں سے51 فیصد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حامی ہیں، 13 فیصد مخالف اور 36 فیصد غیر جانبدار اورکنفیوژن کا شکار۔ یہ جو مخمصے میں مبتلا ہیں، ہمارے بھائی بہنیں ہیں اور وہ 13 فیصد بھی جو فوجی کارروائی کے حامی نہیں۔ ان کی مذمت اور تحقیر نہیں، ان سے مکالمہ اور تبادلہٴ خیال ہونا چاہیے۔ بلوچ محروم رکھے گئے اور بجا طور پر نالاں ہیں، پشتون آئے دن لہو میں نہاتے ہیں۔ قوم ایک پیکر کی طرح ہوتی ہے، اگر بازو پر زخم لگے تو کیا قلب اور دماغ آسودہ رہیں گے؟ محفوظ تو اب پنجاب اور سرحد بھی نہیں۔ سچ یہ ہے کہ صرف بلوچ ہی نہیں، ہر غریب اور کمزور غلام ہے اور مدتوں سے۔ فوج نے تین بار جو کیا سو کیا، لیکن جمہوریت کے دیوتا جاگیردار ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان کی بے نوا مخلوق اور جمہوریت کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ صدر آصف علی زرداری نے معافی مانگی تو بہت اچھا کیا۔ ان کے تین کارنامے ہیں۔ بے نظیر کے مرقد پر ”پاکستان نہ کھپے “ کے جواب میں ”پاکستان کھپے “ کا نعرہ، قاف لیگ کی بجائے نون لیگ سے مل کر حکومت کی تشکیل، پنجاب کو شریف برادران کے سپرد کرنے کا فیصلہ اور بلوچوں سے معافی۔ اندمال میں مگر تاخیر ہوگئی۔ بہت تاخیر۔ حکومت کرے بھی توکیا کرے۔ ہر روز ایک نیا بحران۔ کچھ ورثے میں ملے مثلاً بجلی کمپنیوں کو 400/ ارب کی ادائیگی، چوہدری صاحبان کو الیکشن جتانے کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر شاہ خرچی لازم تھی۔ کچھ بحران اس نے تخلیق کر لیے۔ آٹے کا، چینی کا، پنجاب حکومت کی برطرفی کا۔ اس سے پہلے ججوں کی بحالی سے انکار اور اس کے بعد کیری لوگر بل کا مسخرہ پن۔ حسین حقانیوں اور پرویز اشرفوں پر برہمی بجا مگر اب بار بار میں خود سے ایک سوال کرتا ہوں۔ جب ہم حکمران جماعت کو خوف زدہ رکھیں گے تو حماقتوں کے سوا، امریکہ پر انحصار کے سوا وہ کیا کرے گی۔ فیلڈ مارشل ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق اور پھر دو، دو بار بے نظیر اور نواز شریف اور آخر میں جنرل مشرف کو دھتکارکر ہم نے کیا حاصل کیا۔ صدر زرداری کو نکال کر اب کیا ملے گا؟ ناراضی کا جواز تھا۔ اب بھی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کوئی قومی منصوبہ، کوئی قومی لائحہ عمل موجود نہ تھا۔ اب بھی نہیں۔ منصوبہ جس پر پوری قوم متفق ہو، اتنا اتفاق جو جمہوریت کے لیے لازم ہے۔ کابل میں امریکی افواج اور نتیجے میں دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کو لازم ہے۔ کیا میاں محمد نواز شریف کے پاس کوئی لائحہ عمل موجود ہے؟ عمران خان اور کئی تھنک ٹینک رکھنے والی جماعت اسلامی کے پاس؟ صدر زرداری سے میں اتنا ہی نالاں ہوں، جتنا کہ کوئی بھی پاکستانی شہری۔ مسئلہ مگر دوسرا ہے۔ اول تو انہیں گھر بھیجنے سے مسائل پیدا ہوں گے۔ فرض کیجئے کہ نہ ہوں اور آسانی سے زمام وزیراعظم گیلانی کے سپرد کر دی جائے۔ مثال کے طور پر سندھ سے میرانی ایسے مرد شریف کو صدر بنا دیا جائے تو کیا بحران ختم ہو جائے گا؟ نہیں ہو گا۔ ایک قومی منصوبہ درکار ہے، قومی منصوبہ۔ امریکہ پاکستان کو ختم کرنے کے درپے نہیں، اگرچہ یرغمال رکھنا چاہتا ہے، لیکن بھارت اور اسرائیل تو ہیں۔ برہمن تمامِ نفرت ہے۔ وہ مسلم اقتدار کی صدیوں کا انتقام چاہتا ہے۔ ناجائز اسرائیلی، پاک فوج، اس کی غیر معمولی صلاحیت اور غیر معمولی اسلحے سے خوف زدہ ہے۔ ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ایک قومی اتفاق کی کوشش کرنی چاہیے۔ کل اخبار نویسوں اور وکیلوں نے ایک دوسرے کے گریبان پکڑے۔ آج کل سیاستدان تیاری کر رہے ہیں کہ صحافیوں کو پامال کریں۔ جواب میں انہوں نے توپیں گاڑ دی ہیں کہ تم کس کھیت کی مولی ہو، ہم نے تو مشرف کو نمٹا دیا تھا۔ ہر کہیں وحشت، ہر کہیں خودشکنی، باہم دست و گریبان۔ بے شک حکومت کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ بے شک صدر زرداری نے زیادہ غلطیاں کیں، لیکن باقیوں کا فرض کیا ہے؟ محض احتجاج؟ محض نعرہ بازی؟ جی نہیں، راہ دکھائیے۔ اگرکسی کو قیادت کا دعویٰ ہے تو۔ قائداعظم محمد علی جناح کی طرح، ایک واضح لائحہ عمل پیش کرے۔ یہ محض شور شرابا کیا؟ رہنماؤں کا کام رہنمائی ہوتا ہے، محض چیخ و پکار نہیں۔ میاں محمد نواز شریف صاحب کیا آپ سنتے ہیں؟ آخر آپ ملک کے سب سے مقبول لیڈر ہیں؟ سید منور حسن صاحب کیا آپ سنتے ہیں؟ آپ اسلامی تحریک کے سرخیل ہیں۔ عمران خان کیا آپ سنتے ہیں؟ آپ کو بہت ناز ہے کہ آپ کی ساکھ سب سے زیادہ ہے۔ زیادہ سہی لیکن اس ساکھ کو ہم کیا کریں۔ منصوبہ پیش کیجئے۔ کس طرح، کن اقدامات کے ذریعے ملک کو دلدل سے نکالا جا سکتا ہے۔ کس طرح امن ہو گا۔ کس طرح بتدریج عدل کی حکمرانی اور قومی اداروں میں آہنگ۔ کس طرح سب کو ساتھ لے کر چلا جائے گا۔ گریہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں کوئی اور آئے گا اور خدا جانے وہ کیسا ہو گا۔ تب خدانخواستہ، مقدر حکمرانی کرے گا۔ تب خدانخواستہ ہم حالات کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ پیش قدمی چاہیے، ایک مکمل INITIATIVE ایک پوری حکمت عملی۔