کہاں گئیں محترمہ فوزیہ وہاب صاحبہ؟ پیر کی صبح موصوفہ بڑے غضب ناک انداز میں یہ اعلان سنا رہی تھیں کہ این آر او ایک دو روز میں پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات نے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے کوئی روحانی طاقت حاصل کر لی ہے جس کی مدد سے وہ پاکستانی میڈیا کو اسی طرح تباہ کر دیں گی جس طرح امریکہ نے دوسری جنگ عظیم میں ہیروشیما اور ناگاساگی کو تباہ کر دیا تھا لیکن افسوس کہ یہ روحانی طاقت ان کے کسی کام نہ آئی اور پیر کی رات تک فوزیہ آپا کا محبوب این آر او خود ملیا میٹ ہو چکا تھا۔ کہاں گئے وہ کرائے کے ڈھول بردار جو اپنے مخصوص پیشہ ورانہ انداز میں نئے نئے کڑکتے نوٹوں کی ویلیں وصول کر کے این آر او کے ناقدین پر تابڑ توڑ حملے کر رہے تھے؟ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ پورے کا پورا میڈیا زرداری حکومت کے خلاف صف آراء ہو چکا ہے۔ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اردو اور انگریزی اخبارات کے کالم نگاروں کی ایک قابل ذکر تعداد نے کیری لوگر بل اور این آر او پر زرداری حکومت کا نہ صرف ساتھ دیا بلکہ تنقید کرنے والوں کو دشنام طراز اورکوّے قرار دیتے ہوئے فوزیہ وہاب کے انداز میں اعلان کیا کہ ان کوّوں کی کائیں کائیں سے این آر او کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ کچھ ٹی وی چینلز پر این آر او کے حق میں ” کلمہٴ باطل“ بلند کرنے کی ناکام کوششیں بھی ہوئیں۔ این آر اوکا دفاع کرنے والوں میں اکثر وہ تھے جو پہلے پرویز مشرف کے ساتھ تھے اور اب آصف علی زرداری کے ساتھ ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ زرداری پیپلز پارٹی کے منشور پر عمل درآمد نہ کریں بلکہ مشرف بنے رہیں۔ سیاسی بے یقینی ختم نہ ہو اور یہ پیشہ ور قلمی ڈھول بردار اس بے یقینی کا فائدہ اٹھا کر حکومت کے ناقدین کو اپنے بھانڈ پن کا نشانہ بناتے رہیں اور بھاری بھرکم ویلیں وصول کرتے رہیں۔ یہ ویلیں ان 48 کروڑ روپوں میں سے جاری کی جا رہی ہیں جو پچھلے سال انٹیلی جینس بیوروکے خفیہ فنڈ سے غائب کئے گئے تھے۔ اس خفیہ فنڈ کے ذریعہ معزول ججوں کی بحالی کی تحریک کو ختم کرنے کی کوشش بھی ہوئی لیکن یہ خفیہ فنڈ نہ ججوں کی بحالی روک سکا اور نہ این آر اوکو بچا سکا، تاہم خفیہ فنڈ کے روپوں میں نشہ خوب تھا اور اس نشے سے ڈگمگانے والے قلم اور زبانیں زبردست اول فول بکتی رہیں۔ جب یہ اول فول انتہا پر تھی تو اس خاکسار نے یہ لکھا تھا کہ این آر او کی حمایت کرنے والوں کے نام یاد رکھیے گا کیونکہ آخر میں ہوگا وہی جو عوام کی اکثریت چاہتی ہے اور اس اکثریت کا مستقبل صرف اندھیرے نہیں بلکہ ہمیں روشنی بھی ملے گی۔ روشنی ابھی کافی دور ہے لیکن اب واضح طور پر نظر آنے لگی ہے، تاہم عقل کے اندھوں کے لیے یہ روشنی نہیں بلکہ ایک ایسی آگ کا الاؤ ہے جس میں آخرکار وہ سب جل کر بھسم ہو جائیں گے جو عوام کی اکثریت کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔ این آر او پر حکومت کی شکست اتنی اچانک نہیں ہے۔ یہ کہنا محض خود فریبی ہے کہ کسی کے اشارے پر الطاف حسین کی ایک فون کال نے صدر زرداری کے بنے بنائے کھیل کا نقشہ بگاڑ دیا۔ الطاف حسین نے کوئی اچانک فیصلہ نہیں کیا۔ وہ ایم کیو ایم کو کراچی اور اندرون سندھ سے نکال کر پنجاب اور دیگر علاقوں تک منظم کرنا چاہتے ہیں اور ان حالات میں وہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کر سکتے جو رائے عامہ کے خلاف ہو۔ میں نے26 / اکتوبر 2009ء کے کالم میں الطاف حسین صاحب کے ساتھ لندن میں اپنی حالیہ ملاقات کے حوالے سے لکھا تھا… ” الطاف حسین صاحب کے ساتھ تفصیلی گفتگو کے بعد مجھے یہی تاثر ملا کہ این آر او پر ایم کیو ایم کا صدر آصف علی زرداری سے پھڈا ہو سکتا ہے، اگر ایم کیو ایم نے صدر صاحب کو این آر او پر اپنی حمایت کا یقین دلایا ہوتا تو صدر صاحب کبھی نواز شریف کو فون کر کے ملاقات کی درخواست نہ کرتے۔“ اسی کالم میں اس ناچیز نے یہ بھی لکھا تھا کہ صدر زرداری این آر او کو بھول جائیں تو ان کیلئے بہتر ہو گا بصورت دیگر وہ این آر او پر ایک بڑی سیاسی تحریک کے مقابلے کیلئے تیار ہو جائیں۔ آپ خود ہی فیصلہ کر لیجئے کہ اگر زرداری صاحب ہماری بات 26/ اکتوبر کو مان لیتے تو ان کی اتنی رسوائی نہ ہوتی جو 2 نومبر کی رات کو ہوئی۔ 29/ اکتوبر کے کالم میں دوبارہ میں نے اصرار کے ساتھ لکھا کہ ایم کیو ایم این آر او کو پارلیمنٹ سے منظور کروانے کے گناہ میں شریک ہونے کیلئے تیار نہیں، لیکن نجانے وہ کون سے باخبر ذرائع تھے جو زرداری صاحب کو یقین دلا رہے تھے کہ ایم کیو ایم بدستور ان کی جیب میں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ 16/ مارچ کو ججوں کی بحالی میں وکلا، میڈیا اور سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ نواز شریف کے لانگ مارچ نے اہم کردار ادا کیا اور 2 نومبر کو این آر او کا راستہ روکنے میں میڈیا کے ایک حصے کے علاوہ الطاف حسین نے اہم کردار ادا کیا۔ صدر آصف علی زرداری کو ان کے ایک سے زائد خیر خواہ یہ مشورہ دے چکے ہیں کہ وہ صدارت سے استعفیٰ دے کر دبئی چلے جائیں اور اپنے بچّوں کی دیکھ بھال کریں لیکن زرداری صاحب کا کہنا ہے کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اور ایوان صدر سے ان کی لاش ہی نکلے گی۔ وہ بھول رہے ہیں کہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی سے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹوکا سیاسی ورثہ تباہ ہو سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ وہ جمہوری طریقے سے صدر منتخب ہوئے لیکن کیا یہ درست نہیں کہ انہوں نے ایک جمہوری حکومت کو اپنے چند غیر منتخب مشیروں اور دوستوں کے ہاتھوں یرغمال بنا رکھا ہے؟ ان ہی مشیروں کے کہنے پر آپ نے پنجاب میں گورنر راج لگایا اور ان ہی مشیروں کے کہنے پر این آر او کی حمایت شروع کی۔ ان ہی میں سے ایک مشیر صاحب نے مجھے کہا کہ فوج کا مسئلہ کیری لوگر بل کی بعض شرائط نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آرمی چیف اشفاق پرویزکیانی اپنی مدت ملازمت میں توسیع چاہتے ہیں۔ کچھ اور اصحاب بھی اسی قسم کے پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ میری اطلاع کے مطابق آرمی چیف نے اپنی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے صدر، وزیراعظم یا کسی وزیرکے ساتھ کوئی بات نہیں کی۔ کچھ خیر خواہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے حکومت کو مشورہ تو دے سکتے ہیں لیکن ایسے کسی مشورے یا خواہش کو خبر بنانے کی کوشش نہ کی جائے تو بہتر ہوگا۔ پچھلے دنوں جب این آر او پر ہارس ٹریڈنگ کا سلسلہ جاری تھا تو حکومت کی ایک اہم شخصیت نے مسلم لیگ (ق) کے ایک ایم این اے سے کہا کہ آپ بے فکر ہوکر ہمارا ساتھ دیں کیونکہ ہمارے فلاں وزیر صاحب آرمی چیف کے رابطے میں ہیں اور ہم آرمی چیف کو ایک سال کی توسیع دے دیں گے۔ مذکورہ ایم این اے کے ذریعہ یہ بات مجھ تک پہنچی تو میں نے متعلقہ وزیر سے پوچھا۔ وزیر نے اس سلسلے میں لا علمی کا اظہار کیا بلکہ کہا کہ آرمی چیف کو اپنے عہدے کی مدت پوری کرنی چاہیے لیکن مدت میں توسیع حاصل نہیں کر نی چاہیے۔ بہتر ہوگا کہ حکومتی شخصیات آرمی چیف کے بارے میں غیر ضروری گفتگو سے پرہیز کریں، کیری لوگر بل پر پارلیمنٹ کے ذریعہ کوئی حتمی فیصلہ کریں۔ ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ صدر زرداری اپنے عہدے کی میعاد پوری کریں لیکن وہ عہدہ جو پیپلزپارٹی کے منشور اور میثاق جمہوریت کے مطابق ہو۔ ان کے پاس وقت بہت کم ہے۔ جو بھی کرنا ہے اسی نومبر میں کر لیں لیکن اگر انہوں نے تاخیری حربے اختیار کرکے پھر سے کوئی نیا کھیل شروع کر دیا اور منشور پر عمل درآمد نہ کیا تو یاد رکھیں کہ مشرف تو بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا لیکن اس مرتبہ عوام کا جم غفیر کسی کو بھاگنے کی مہلت نہ دے گا۔