ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ بات وہ اچھی ہوتی ہے جو مبنی بر انصاف ہو۔ انصاف نہایت وسیع لفظ ہے اور سچائی کے ساتھ ساتھ توازن کو بھی اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے سیاسی کارکن اور دانشور اپنی اپنی وفا کے ڈھول پیٹ رہے ہیں اور اپنے اپنے دنیاوی ان داتاؤں کو خوش کرنے کے لئے ان کی قصیدہ گوئی میں مصروف ہیں۔ قصیدہ گوئی صرف کسی کی بے جا تعریف ہی نہیں ہوتی بلکہ کسی کے سیاہ کارناموں، لوٹ مار اور خزانہ چوری پر اپنے خوبصورت الفاظ کا پردہ ڈالنا یا اس کی سیاہ کاریوں کا جواز ڈھونڈھنا اور اپنے آقا یا ممدوح کے بارے میں تلخ حقائق سے انکار کرنا بھی قصیدہ گوئی کی ہی ایک قسم ہے۔ ویسے اگر آپ اس فہرست میں ان وفا داروں کو بھی شامل کر لیں جو اپنے لیڈر کے ہر جائز و ناجائز کام کا دفاع کرتے اور اسے قومی مفاد کے عین مطابق سمجھتے ہیں اور اپنے ضمیر خان کا گلہ گھونٹ کر نمک حلال کرتے ہیں تو قصیدہ گوئی کے مفہوم کا حق ادا ہو جائے گا۔ ان حضرات کا یہ حال ہے کہ ساری خدائی اک طرف۔ جورو کا بھائی اک طرف۔ یہاں جورو کے بھائی سے مراد ان حضرات کے دنیاوی ان داتا ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ بعض ایشوز پر ساری خدائی اک طرف ہوتی ہے لیکن انہیں سمجھ نہیں آتی، چنانچہ وہ قلم یا زبان کی تلوار ہوا میں چلاتے رہتے ہیں۔ پرسوں اترسوں مسلم لیگ (ن) کے ایک جیالے ٹی وی پر فرما رہے تھے کہ ہمارے لیڈران نے جلا وطنی کے لئے کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا۔ یہ بات کبھی کبھی مسلم لیگ (ن) کے دانشور بھی اپنے اپنے انداز میں لکھتے رہتے ہیں یا الفاظ کا جادو جگا کر ایسا تاثر دینے کی کوششیں کرتے ہیں۔ خدا کے بندو کس کو دھوکہ دے رہے ہو؟ کس کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں؟ یاد کرو وہ دن جب سعودی حکومت اور شاہی خاندان کے ایک اہم رکن اور سعودی انٹیلی جنس کے چیف نے اسلام آباد کی سرزمین پر پریس کانفرنس کر کے وہ معاہدہ دکھایا تھا اور سعودی اپنے مہمان کو پھر ایک بار جدہ لے گئے تھے۔ درست ہے کہ لوگوں کا حافظہ کمزور ہوتا ہے لیکن اتنا بھی نہیں کہ آپ اس کے سامنے ڈٹ کر جھوٹ بولیں اور وہ یقین کر لیں۔ خدارا سمجھنے کی کوشش کیجئے کہ جھوٹ بولنا کوئی بہادری یا کارنامہ نہیں۔ اسی معاہدے کا سہارا لے کر کبھی کبھی چوہدری شجاعت حسین مٹی ڈالنے کی پالیسی ترک آگ بھڑکانے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے فرما دیتے ہیں کہ معاہدے کے مطابق تو میاں صاحب دس سال تک سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔ چوہدری صاحب ایسے مواقع پر بھول جاتے ہیں کہ وہ اس معاہدے میں پارٹی نہیں تھے۔ وہ تو صرف این آر او کے گناہ کبیرہ میں پارٹی تھے۔ البتہ پرویز مشرف یہ بات کہہ سکتا ہے لیکن ذرا غور کیجئے کہ وہ مشرف جس نے پاکستانی سیاستدانوں کو جلا وطن کیا تھا اور کہتا تھا کہ وہ میری ڈیڈ باڈی یعنی موت کے بعد ہی وطن واپس آئیں گے آج خود جلا وطنی کی ٹھوکریں کھا رہا ہے، اسے اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور چند ایک آمریت پرستوں کے علاوہ اس کے تمام جام بردار اور حواری اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ اسے کہتے ہیں مکافات عمل۔ اسی طرح مجھے ان مخلص وفا داروں پر بھی رحم آتا ہے جو این آر او کا دفاع کرتے ہوئے بار بار ایک ہی نعرہ لگاتے ہیں کہ زرداری صاحب پر تو کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوا تھا، وہ جعلی مقدموں کی سزا نو برس تک قید رہ کر جھیلتے رہے۔ یہ حضرات اچھی طرح جانتے ہیں کہ سیاسی مقدمات بنانے والوں کا مقصد مخالف کو عدالتوں میں گھسیٹنا اور خوار ہونا ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تمام کے تمام مقدمات جھوٹے تھے۔ اگر انہیں یہ یقین تھا کہ یہ مقدمات جھوٹے ہیں تو پھر این آر او کے بدبو دار پانی سے اپنے داغ نہ دھوتے اور نہ ہی آمر سے سمجھوتہ کرتے بلکہ ڈٹ کر کہتے کہ ہم عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کریں گے کیونکہ تمام تر نقائص کے باوجود جب تک عدالتیں کسی کو بے گناہ نہ کہیں وہ بے گناہ نہیں ہوتا۔ پرویز مشرف جان بوجھ کر محترمہ کو ملک سے باہر رکھنے کے لئے مقدمات لٹکاتا رہا، وہ چاہتا تو ان کا فیصلہ چند ماہ میں ہو جاتا اس لئے اس سے ڈیل کرنے کی بجائے اسے یہ کہنا چاہئے تھا کہ ہمارے اہم مقدمات کا فیصلہ چند ماہ میں کراؤ باقی مقدمات کا ہم وطن لوٹ کر سامنا کریں گے کم از کم اس طرح قوم کی باقی لٹیروں سے خلاصی ہو جاتی جو این آر او کے ذریعے قوم پر مسلط ہو گئے ہیں لطف کی بات یہ ہے کہ میرے ان مہربانوں کو یہ بھی نظر نہیں آتا کہ محترم زرداری صاحب کی سینکڑوں جائیدادیں دنیا بھر میں بکھری ہوئی ہیں جن کی مالیت ایک اندازے کے مطابق پانچ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے، وہ اتنے تھوڑے عرصے میں کہاں سے آئیں؟ اگر آپ گوگل پر جائیں تو ان کی ساری تفصیل موجود پائیں گے۔ ان میں سے سات جائیدادیں انگلستان، سات امریکہ اور کچھ فرانس، سوئٹزر لینڈ یو اے ای اور دوسرے ممالک میں واقع ہیں۔ بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات حیران کن ہیں۔ چلئے آپ کی وفا کے پردے آپ کو ان پر نظر ڈالنے نہیں دیتے لیکن آپ یہ کس طرح بھول جاتے ہیں کہ جناب صدر پر سوئٹزر لینڈ میں منی لانڈرنگ کا کیس ثابت ہو گیا تھا اور ایس جی ایس اور کوٹیکنا کمپنی کی دی ہوئی رشوت پاکستان کو واپس ملنے والی تھی کہ این آر او کے تحت ملک قیوم سابق اٹارنی جنرل نے انگلستان اور سوئٹزر لینڈ جا کر مقدمات واپس لئے جن کے نتیجے کے طور پر سوئٹزر لینڈ میں زرداری صاحب کے بنک اکاؤنٹ میں تین کروڑ ڈالر کی رقم بحال ہو گئی اور انگلستان کا مقدمہ واپس ہو گیا۔ دوسروں کو آئینہ دکھانے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان کے لیڈروں نے تو 365 ایکڑ پر محیط سرے محل کی ملکیت سے بھی انکار کر دیا تھا اور ان کا یہ انکار پاکستانی اخبارات میں سینکڑوں بار چھپا تھا لیکن گزشتہ تین برسوں سے وہ انکار سے انکار کر کے سرے محل کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ ذرا کھلے ذہن سے سوچئے کہ صرف اور صرف تین کروڑ ڈالر کا اپارٹمنٹ نیو یارک میں اور لاکھوں پاؤنڈ کی پراپرٹی لندن شہر میں کہاں سے آئی جو سرے محل کے علاوہ ہے چلئے ہم ان کی سہولت کے لئے فی الحال فرانس، دبئی، سپین، سوئٹزر لینڈ وغیرہ وغیرہ کا ذکر نہیں کرتے۔ اربوں روپے کی پراپرٹی اور حکومت پاکستان کو ٹیکس ہزاروں روپوں میں دیا جاتا ہے۔ یہی حال ہمارے محترم میاں صاحب کا ہے کہ کروڑوں روپے کا ماہانہ خرچ اور حکومت پاکستان کو انکم ٹیکس صفر۔ رہے ہمارے چودھری برادران تو ان کی لوٹ مار کی کہانیاں لاہور میں زبان زد عام ہیں اور ان کی جائیدادوں کا سلسلہ بھی انگلستان، سپین، امریکہ، اور دبئی سے لے کر پاکستان تک پھیلا ہوا ہے لیکن آمدنی اور ٹیکس قابل رحم حد تک کم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے غریب وطن کو اس کے لیڈروں نے دونوں ہاتھوں سے دن رات لوٹا ہے اور میرے غریب ہم وطنوں کو ابھی تک یہ احساس نہیں ہوا کہ یہ لوٹ مار بھی ان کی غربت کی ذمہ دار ہے اور جب تک ان کی آنکھوں سے پردہ نہیں ہٹے گا اور ان میں یہ شعور پیدا نہیں ہو گا نہ ان کی حالت بدلے گی اور نہ غربت کم ہو گی۔ سارا ملبہ لیڈروں پر ڈالنے والو، ذرا یہ تو سوچو کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ میرے نزدیک ہم بھی اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں ورنہ ہم نہ این آر او کی حمائت کریں جس کا مقصد لوٹ مار کو حلال کرنا ہے اور نہ ہی لوٹنے والوں کی حمائت کریں نہ ان کی تعریف اور دفاع میں اپنے قلم گھسائیں اور نہ انہیں ووٹ دے کر اقتدار کے بانس پر چڑھائیں۔ سچ یہ ہے کہ ہم تمام کسی نہ کسی حد تک اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں؟؟ سچ بولاں تے بھانبڑ بلدا اے اے کاش۔ ہماری منافقت اس بھانبڑ اور آگ میں جل کر راکھ ہو جائے…!!