روزنامہ جنگ کے ذریعے عرض ہے کہ افغان مہاجرین پاکستان کے ہر شہر ہر گلی کوچے میں پھیلے ہوئے ہیں دہشت گرد انہیں پناہ بنا کر کارروائیاں کرتے ہیں نہ حکومت نہ ہی انتظامیہ ان کی طرف توجہ کرتی ہے۔اس لئے گزارش ہے کہ پہلی فرصت میں افغان مہاجرین کی واپسی کا انتظام کیا جائے جب تک ان کی واپسی مکمل نہیں ہوتی ہے اس وقت تک ان کا باقاعدہ رجسٹریشن وغیرہ کیا جانا چاہئے۔اس سے طرح ممکن ہے کہ دہشت گردی میں کمی آئے۔دوسرا کام جو انتظامیہ کو فوری کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں سے نمٹنے کے لئے عوام کی آگاہی کے لئے کوئی باقاعدہ پروگرام میڈیا کے ذریعے کیا جائے۔ انتظامیہ کی نفری تک یہ نہیں جانتی کہ ایسے حالات میں کیا کرنا چاہئے۔ہر حادثہ پر ایک ہڑبونگ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ تین،چار دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے بھیڑ اکھٹی ہو جاتی ہے نہ ان میں کوئی نظم ہوتا ہے نہ کوی طریقہ ہوتا ہے اول تو اتنی نفری اکھٹی نہیں ہونی چاہئے دوئم یہ کہ طرح طرح کی فورس بلا لی جاتی ہے۔جن میں رابطے کا فقدان ہوتا ہے۔ انتظامیہ کم از کم اتنا تو پہلے سے آپس میں بیٹھ کر فیصلہ کر سکتی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں کون کون سی فورس بلائی جائے اور ان میں کون کیا کرے گا۔آج تک جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ان میں ہماری فورس کا کئی گنا زیادہ نقصان ہوتا ہے لیکن پھر بھی انتہائی کامیابی کے دعوے کئے جاتے ہیں۔پورے عوام کو پابند کردیا جائے کہ کوئی بھی مالک مکان جب بھی مکان کرائے پر دے تو وہ کرایہ دار کے شناختی کاغذات علاقے کے تھانے میں جمع کروائے اورمتعلقہ تھانہ اس کی شناخت نادرا سے فوری کروائے۔اس طرح علاقے میں کوئی بھی آئے گا تو اس کی اطلاع اور کوائف تھانے میں آ جائیگی،مشکوک ہونے کی صورت میں فوری کارروائی بھی ممکن ہوگی۔مذید یہ کہ حکومتی اداروں اور خاص کر پولیس کو اپنی ادارے کی حفاظتی دیواریں اور گیٹ وغیرہ فوری درست کروانا چاہئے جبکہ ایسے کاموں کے لئے جو فنڈ ملتے ہیں اس سے قیمتی کاریں خرید لی جاتی ہیں۔ قانون نافذ کر نے والے تمام اداروں کو اپنی ٹریننگ پر بھی توجہ دینی چاہئے خاص کر ان کے افسران کی ٹریننگ زیادہ ضروری ہے کیونکہ جو افسران ٹی وی پر یہ بیان دیں کہ ان کی ٹریننگ دہشت گردوں سے لڑنے کے لئے نہیں ہے تو قابل حیرت ہے۔پہلے ہمارے ملک میں سول ڈیفنس کا شعبہ ہوتا تھا،اسکولوں میں اسکاؤٹ ہوتے تھے جن کو ایسے حالات سے نمٹنے کی بنیادی تربیت دی جاتی تھی وہ ایک ڈسپلن میں اپنے تجربہ کار افسران کے ماتحت ہنگامی حالات سے نبردآزما ہوتے تھے۔دنیا کے بیشتر ملکوں میں یہ دونوں تنظیمیں آج بھی فعال ہیں مگر ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہے جبکہ اس کی اشد ضرورت ہے۔ جب زلزلہ آیا تھا تو ان تنظیموں کی کمی کا احساس ہوا تھا بجائے اس کے کہ انہیں دوبارہ فعال کیا جاتا اس کی جگہ سابقہ حکومت نے کوئی ادارہ نیا قائم کیا تھا وہ کہاں ہے۔درخواست ہے کہ ان اداروں کو فوری بحال کریں ان کی ٹریننگ کا ہنگامی بنیادوں پر انتظام کیا جائے اوران کے لئے ضروری ساز و سامان ہر بڑے شہر میں فوری فراہم کیا جائے۔ (عرفان احمد ۔ کراچی)