روز بہ روز بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا ہے جب کہ ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی عوام کی برداشت سے باہر ہیں۔ ٹرانسپورٹرز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بناتے ہوئے اپنی مرضی سے کرائے بڑھا دیتے ہیں۔ اگر اس رویے کو درست مان لیا جائے تو کل کو سبزی ، گوشت اور دودھ فروش بھی جب چاہیں گے قیمتوں میں من مانا اضافہ کرلیں گے اور بے چارے عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر رہ جائیں گے۔ ٹرانسپورٹرز پہلے ہی شہریوں سے جو کرایہ وصول کررہے تھے وہ پٹرولیم کی قیمتوں میں شرح اضافہ سے زیادہ تھا۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ایک منی بس یا کوچ ایک ٹرپ میں چالیس کلومیٹر چلتی ہے، جس پر فی ٹرپ تقریباً دس لیٹر خرچ ہوتاہے یوں دیکھا جائے تو ٹرانسپورٹر پر فی ٹرپ 50 روپے کا بھی اضافی بوجھ نہیں پڑا جب کہ مسافروں کی تعداد کے پیش نظر 50پیسے فی سواری اضافہ کیا جاتا تو بھی بڑا مالی فائدہ ٹرانسپورٹرز ہی کو پہنچتا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کو چاہئے کہ ایسا نہ کریں۔ کرائے میں اضافے کے باوجود صورتحال یہ ہے کہ ان کی گاڑیوں میں پردے نہیں ہیں، شیشے نہیں یا ہیں تو ٹوٹے پھوٹے، سیٹیں چھوٹی ، تنگ اور گندی ، جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں مگر عوام سے کرایہ پورا لیا جاتا ہے چاہے وہ چھت پر بیٹھ کر سفر کریں یا لٹک کر ، یہ کہاں انصاف ہے؟۔اس صورتحال کے ذمہ دار صرف ٹرانسپورٹر ہی نہیں ہیں بلکہ حکومت کا محکمہ ٹرانسپورٹ بھی ذمہ دار ہے جو بسوں اور کوچوں کی اس خراب حالت کی طرف باوجوہ توجہ نہیں دیتا۔ (جاوید اختر۔ گلشن معمار)