Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Sunday, November 22, 2009, Zil`Haj 04, 1430 A.H
 
  مراسلات 
 
اس سال حکومت پنجاب کی جانب سے جینیئس طلبہ کی پذیرائی کی گئی جسے دیکھ کر یقیناً ہر پاکستانی خوش ہوا۔ان بچوں کے مستقبل کی کامیابیوں کیلئے مالی اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کے وعدہ کئے گئے ہیں۔ امید ہے اس عمل سے ان طلبا کی صلاحیت نکھرے گی اور ایسے دروازے کھول دے گی جو 62 برسوں سے بند پڑے ہیں۔امام ابوحنیفہ نے ہزاروں طالب علموں کی خدمت کے ساتھ علم کی خدمت بڑے بڑے نامساعد حالات میں کی لیکن بڑے مدبرانہ انداز میں ایک اسٹریٹیجی کے ساتھ کی اس کا نتیجہ یہ تھا کہ عباسی حکمران جو ان کے سب سے بڑے مخالف تھے انہیں حکومت کے طول و ارض میں عدالتوں کے جج مقرر کرنے کیلئے صرف امام ابوحنیفہ کے شاگرد ملتے تھے۔ ضروری ہے کہ چند جینیئس طالب علموں کی خدمت کے ساتھ اس ملک میں ”علم و ہنر“ کی خدمت اور فروغ کا بیڑا اٹھا یا جائے اس سے پاکستان میں اور مسلم دنیا میں علم کا سمند امڈے گا۔ بات اسٹریٹجی کی ہے جیسے امام ابو حنیفہ اور کسی حد تک سرسید احمد خان نے اپنی ”ملت“ کیلئے بنائی۔ علامہ اقبال کو اس عہد غلامی میں بھی شدت سے یہ احساس تھا کہ مسلمانوں کیلئے ٹیکنیکل تعلیم کا انتظام کیا جانا چاہئے۔اس سلسلہ میں 2004ء میں ایک اسکیم مرتب کی گئی اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھیجی گئی کہ وہ اس وقت حکومت کے مشیر کی حثیت میں کام کرتے تھے اور وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں ان کا دفتر تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے ہمت افزائی کی لیکن یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ایسے عظیم الشان اعلٰی تعلیمی ادارے کے قیام میں مالی مشکلات حائل ہوجائیں گی۔اب پانچ سال بعدامید کی ایک کرن نظر آتی ہے۔مسلمانوں نے آٹھویں صدی سے اٹھارویں صدی تک یعنی ایک ہزار سال تک دنیا کے بہت بڑے بڑے علاقوں پر حکومت کی ہے اور اپنے علوم کی بدولت اقوام عالم میں ایک منفرد مقام کے حامل رہے ہیں لیکن اس کے بعد کی صدیوں میں علوم سے بے اعتنائی کے نتیجے میں امت مسلمہ کے زوال کا عمل شروع ہوا اور ان کا سب کچھ لٹ گیا یہاں کہ پوری امت مسلمہ نے ایک صدی مغرب کی غلامی میں گزاری۔زوال کی انہی صدیوں میں بغداد، قرطبہ، قاہرہ اور دیگر علوم کے خزانے لندن، پیرس، بوسٹن اور واشنگٹن منتقل ہوگئے اور عالم اسلام علوم اور ہنر کا ایک بانجھ ریگستان بن گیا۔ بایں ہمہ گذشتہ 50 برسوں میں چین، جاپان اور بھارت نے شب و روز اکتساب علم کرکے مغرب کی برابری حاصل کرلی ہے اور اب قدم بہ قدم برتری کی طرف گامزن ہیں۔ کیا وہ کام جو چین، جاپان اور بھارت کرسکتے ہیں پاکستان نہیں کرسکتا! اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے نقش قدم پر چل کر ان سے کم وقت میں کرسکتا ہے۔ سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے۔ افسوس صد افسوس۔ 18کروڑ انسانوں میں کوئی ایک عبدالستار ایدھی یا عبدالقدیر خان اٹھے تو سہی، حوصلہ کرکے علم کا چراغ روشن تو کرے پھر دنیا دیکھے گی کہ اہل مغرب نے جن علوم کو بٹورنے میں چار صدیاں لگا دی تھیں وہ صرف 25برس میں اپنے وطن واپس پہنچ گیا ہے۔
(طارق علوی ۔ کراچی)
 
Print Version


 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback