حکومت سے اقتدارسنبھالنے کے بعد برطرف ملازمین کو بھی امیدیں وابسطہ تھیں جن کو سابقہ حکومتوں میں جبری طور پر ملازمتوں سے نکالا گیا تھا۔ یہ وہ ملازمین ہیں جنہوں نے کافی عرصہ عدالتوں کے چکر بھی کاٹے ہیں۔بل آخر ایک صدارتی آرڈنینس ان برطرف ملازمین کی بحالی کیلئے جاری کیا گیا جن کو مختلف محکموں سے جبری طور پر نکالا گیا تھا۔ آرڈنینس میں ملازمین کو تین سال کے بقایا جات اور سینیارٹی کا بھی واضح طور پر ذکر موجود ہے یعنی بقایا جات کی پہلی قسط 2009ء میں دوسری قسط جنوری 2010ء اور تیسری قسط جنوری 2011ء میں ملازمین کو ادا کی جائے گی۔ کئی محکموں نے تو فوری طور پر اس عمل کو کرتے ہوئے اپنے ملازمین کو بقایا جات ادا کرکے بحال کردیا لیکن سوئی سادرن گیس کمپنی نہ تو اپنے ملازمین کو بقایا جات کی ادائیگی کررہی ہے اور نہ ہی سینیارٹی اور میڈیکل وغیرہ کی سہولت فراہم کررہی ہے۔ حکومت سے درخواست ہے کہ اس سلسلہ میں فوری توجہ دی جائے۔ (میر بخت جمالی۔ لاڑکانہ)