خیرپور (بیورو رپورٹ) شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے جساف کے گرفتار 18 طلبہ کو یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد اے سیکشن تھانے سے رہا کر دیا گیا۔ جساف کے طلبہ کو دو روز قبل وائس چانسلر کے دفتر کے سامنے تعلیم کو سستا کرنے، داخلہ فیس کم کرنے اور دیگر مطالبات منوانے کے لیے احتجاجی مظاہرے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ مشتعل طلبہ نے شہر چھتری چوک پر دھرنا دے کر غیر معینہ مدت تک احتجاجی مظاہروں اور کلاسوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا جس کے بعد یونیورسٹی کی انتظامیہ اور احتجاجی طلبہ کی قیادت کے ساتھ مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کی کامیابی کے بعد گرفتار طلبہ انعام الحق لوند، خادم سندھی، دودو سومرو، نعیم سولنگی، امتیاز جسکانی، بابر شیخ، عرفان سولنگی، خالد بوزدار، شکیل مہر، نور جلبانی، شہباز میمن اور اقبال سمیجو سمیت تمام گرفتار طلبہ کو رہا کر دیا گیا۔ طلبہ کی رہائی کے بعد جساف نے یونیورسٹی میں کلاسوں کا بائیکاٹ اور احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان واپس لے لیا جس کے بعد یونیورسٹی میں تدریس شروع ہوگئی۔