کراچی (جنگ نیوز) پاکستان اور ملائشیا نے مشترکہ وزارتی کمیٹی، بزنس کونسل اور ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے طے پانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کو آگے بڑھایا جا سکے۔ یہ فیصلہ بدھ کو یہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ملائشیا کے بین الاقوامی تجارت کے وزیر داتو مصطفی بن محمد کے درمیان ملاقات میں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نومبر2007ء میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے آزادانہ تجارت کے معاہدہ سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ نے مشترکہ وزارتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری میں نتیجہ خیز تعاون کیلئے اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے فیصلے پر عملدرآمد کیا جا سکے۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت کے فروغ کیلئے دونوں ملکوں کے صنعتی و تجارتی ایوانوں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ بزنس کونسل کی تشکیل کی بھی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری سے ملائشیا بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے کیونکہ پاکستان17 کروڑ افراد کی منڈی ہے اور جہاں ہر سال ساڑھے چھ لاکھ سستے مکانات کی ضرورت ہوتی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ملائشیا کیلئے سندھ میں خصوصی اقتصادی زون قائم کیا گیا ہے اور حکومت وہاں صنعتیں لگانے کیلئے ملائشیا کے سرمایہ کاروں سے مکمل تعاون کرے گی۔ انہوں نے ملائشیا کے تاجروں اور صنعت کاروں کو3 سے5 دسمبر تک ہونے والی ایکسپو پاکستان میں شرکت کی بھی دعوت دی۔ ملائشیا کے وزیر نے مشترکہ وزارتی کمیٹی، بزنس کونسل اور ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی تجویز سے اتفاق کیا اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ملائشیا کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ ملاقات کے دوران ہلال ڈویلپمنٹ پروجیکٹ آرچی کے اسد سجاد، شکر گنج فوڈ پروڈکٹس کے انجم سلیم، شیزان لمیٹڈ لاہور کے منیر شاہ نواز، زینت ایسوسی ایٹ کے ڈائریکٹر آصف غیاث، الشہیر کارپوریشن کراچی کے کامران احمد خلی اور عبدالعزیز نے وزیر خارجہ کی معاونت کی۔