کراچی(رپورٹ: …جاوید رشید) مجھے یہ کہنے میں کوئی آر نہیں کہ پاکستان میں بننے والا کپڑا عالمی معیار کا ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی مصنوعات معیاری اور دیرپا ہیں بہترین مشینری سے تیار کردہ کپڑے کی مصنوعات کو جدید کمپیوٹر سسٹم سے آراستہ کیا گیا ہے۔ مجھے پاکستانی ٹیکسٹائل کی ترقی پر خوشی ہے پر پاکستانی حکومت نے تجارتی سطح پر پاکستانی ٹیکسٹائل کو بھارت میں متعارف نہیں کرایا نہ ہی تجارتی طورسے بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوچا ہے ان خیالات کا اظہار بھارت کے مرکزی وزیر ٹیکسٹائل دیاندھی مارن نے بدھ کے روز نئی دہلی میں اپنے آفس سے ٹیلی فون پر جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل کے تاجر اگر بھارت کا رخ کریں تو انہیں تمام وسائل مہیا کرسکتے ہیں بھارتی حکومت تجارتی میدان میں آگے آنے کے لئے کئی مرتبہ پاکستانی عہدیداروں کو میدان تجارت میں اشتراک کرنے کی دعوت دے چکی ہے لیکن اس کا کوئی مثبت جواب تک سامنے نہیں آیا۔انہوں نے کہا انڈین (کھادی) کھدر کا معیار اب بھی بھارت میں اچھا ہے اور پہنا بھی جاتا ہے ہمارے منسٹر اور سیاست دان اب بھی کھادی کا استعمال کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ ختم ہوگیا ہے برائے نام ہی یہ کپڑا پہنا جاتا ہے جبکہ بھارتی رسم میں بھی اس کپڑے کو اہمیت حاصل ہے اور سستا بھی ہے لیکن پاکستان میں بننے والا کپڑا عالمی معیار کا ہے پاکستان چاہے تو بھارت کی مارکیٹ میں اسے لاسکتا ہے لیکن پاکستانی تاجروں کی مجبوری ہے کہ انہیں بھارت سے تجارت کرنے میں دشواری ہے جس کا تذکرہ پاکستانی تاجر ہماری فیڈریشن سے کرچکے ہیں انہوں نے کہا میرا کہنا ہے دونوں ملکوں کی تجارت شروع ہونا چاہئے اس سے تعلقات میں اچھائی پیدا ہوگی۔