سکھر(بیورورپورٹ)آل پاکستان پیپر مرچنٹ ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ باہر سے درآمد کئے جانے والے پرنٹنگ پیپرکو” را میٹریل“قرار دے کر اس پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کی جائے کیونکہ اس پر عائد 33 فیصد سے زائد ڈیوٹی کے باعث کاغذ ملک میں انتہائی مہنگا فروخت ہورہا ہے اور کاغذ مہنگا ہونے سے کاغذ سے بننے والی تمام اشیاء خصوصاً ٹیکسٹ بک اور کاپیوں کی گذشتہ چند سالوں میں قیمت کئی سوگنا بڑھ چکی ہے۔ان خیالات کا اظہار آل پاکستان پیپر مرچنٹ ایسوسی ایشن سندھ، بلوچستان کے صدر محمد شعیب نے ”جنگ“ سے خصوصی ملاقات کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جو کاغذبنایا جارہا ہے وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے پیپر مرچنٹس کو دنیا کے دوسرے ممالک سے پیپر درآمد کرنا پڑتا ہے اس وقت پیپر اور ڈپلیکس کی زیادہ تر درآمد انڈونیشیا سے کی جارہی ہے لیکن حکومت پاکستان کی جانب سے اس پر اتنی زیادہ ڈیوٹی عائد ہے کہ پاکستان میں پیپر دنیا کے مقابلے میں بہت زیادہ مہنگا فروخت ہورہا ہے انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا سے آفسٹ پیپر 66 ہزار 800 روپے فی ٹن پاکستان پہنچا کر دیا جارہا ہے جبکہ پاکستان میں اس پرعائد ڈیوٹیز کے باعث یہ پیپر ایک لاکھ 3 ہزار روپے فی ٹن پیپر مرچنٹس کو ملتا ہے یہی وجہ ہے کہ پیپر مرچنٹس آفسٹ پیپر سے لے کر درآمد کئے جانے والے دیگر پیپرز کو مہنگا فروخت کرنے پر مجبور ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح ڈپلیکس بورڈ جو ادویات کی پیکنگ میں استعمال کیا جاتا ہے یہ پیپر انڈونیشیا سے 46 ہزار روپے فی ٹن درآمد ہورہا ہے لیکن پاکستان میں اس پر جو ڈیوٹیز عائد ہیں اس کے باعث اس کی قیمت 82 ہزار روپے فی ٹن ہوجاتی ہے۔