ممبئی (جنگ نیوز) فلمی دنیا کی ممتاز شخصیت گیت نگار جاوید اختر نے کہا ہے کہ ”بندے ماترم“ کا ترانہ انتہا پسند سادھوؤں کا الاپ ہے جسے بیگم چندرا چڑجی کی ناول ”انندٹھ“ میں دکھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات میں اختلاف ہے کہ ”بندے ماترم“ جو ہندوستان کے قومی ترانے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اس ناول کا حصہ ہے بھی یا نہیں؟ کیونکہ اس ناول کے سارے ولین کردار مسلمان ہیں۔ اس ناول میں مصنف اس بات سے خوش ہے کہ انگریزوں نے ہندوؤں کو مسلمانوں کی غلامی سے نجات دلائی۔ انہوں نے کہا کہ اس ترانے کے دو بند انتہائی متعصب نوعیت کے ہیں جن کے متعلق کانگریس نے اسے ترانے میں سے نکالنے کوکہا تھا اس ترانے کے باعث ”انندٹھ“ ناول ایک مسلم مخالف کتاب بن گئی ہے۔ جاوید اخترکا کہنا ہے کہ اگر آپ اس ترانے کو نہیں پڑھنا چاہتے تو نہ پڑھیں کوئی آپ کواس پرمجبور نہیں کرسکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو بنیادی ایشو نہ بنایا جائے میں نے جو بندے ماترم لکھا ہے وہ فلم ”سزائے کالا پانی“ کے لیے لکھا تھا جبکہ اسے دھردون کی ملٹری اکیڈمی میں پڑھا جانا ہے۔