نیویارک (سمیع ابراہیم) پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی جو اس وقت بروکلین میں افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار ہے،نے منگل کویہاں امریکی وفاقی عدالت کے جج کو بتایا کہ مجھے میری خواہش کے برعکس اس عدالت میں لایا جارہا ہے اور میں اپنے وکلاء میں سے کم ازکم 2وکلاء چارلس سوفٹ اور ڈان کارڈی پر اعتماد بھی نہیں کرتی۔ڈاکٹر عافیہ کے خاندانی ذرائع اور اس موقع پر عدالت میں موجود افرادکے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے جج کو بتایا کہ وہ اس عدالت میں آنا نہیں چاہتی کیونکہ جیل حکام ہربار ان کے حراستی مرکزسے جانے اور واپس آنے پر ان کی جسمانی تلاشی لیتی ہے اوریہ میرے مذہب کے خلاف ہے کہ میں کسی کواپنا جسم چھونے کی اجازت دوں۔امریکی وفاقی جج رچرڈبرمن ،جنہوں نے کچھ عرصے قبل جیل حکام کو جسمانی تلاشی کا متبادل حل تلاش کرنے کے لئے کہا تھا ،کو جیل حکام نے آگاہ کیا کہ جیل قوانین کے مطابق ایسا کوئی متبادل حل نہیں ہے۔جج برمن نے بعدازاں ڈاکٹر عافیہ کو بروکلین کے حراستی مرکز ،جہاں اسے زیر حراست رکھا جارہا ہے ،سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس مقدمے کی عدالتی کارروائی میں شامل ہونے کی پیشکش کردی۔کمرہ عدالت میں موجود ایک عینی شاہد کے مطابق اس موقع پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے جج سے کہا کہ ”میں آپ کو بتاچکی ہوں کہ میں کسی پر اعتماد نہیں کرتی ،لیکن کم ازکم یہ دونوں وکلاء چارلس سوفٹ اور ڈان کارڈی تو میرے وکلاء ہوہی نہیں سکتے۔اس کے بعد ڈاکٹرعافیہ نے کہا کہ فلاں فلاں امریکی فوجیوں کواس عدالت میں بلایا جائے جنہوں نے کابل میں مجھ پر گولی چلائی،میں ان سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ میں نے ان کے ساتھ کیا غلط کیا تھا،مجھ پر کیوں گولی چلائی گئی۔“واضح رہے کہ حکومت پاکستان تین وکلاء بشمول چارلس سوفٹ اورڈان کارڈی کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے میں پاکستانی حکومت کی جانب سے پیروی کرنے کے لئے 15لاکھ ڈالر اداکرچکی ہے۔ان تینوں وکلاء کو بہترین قراردیا جاتا ہے،جو،ماضی میں ،اسی طرح کے مقدمات جیت چکے ہیں۔ان وکلاء کا انتخاب ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے خاندان کے افراد سے مشورے کے بعد کیا گیا۔دن 2بجے جب عدالت نے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیاتو اس مقدمے کی پیروی کرنے والے وکلاء کی جج کے ساتھ کانفرنس میٹنگ کی وجہ سے جج نے ہرایک سے کہا کہ وہ کمرہ عدالت سے باہر چلا جائے ۔بعدازاں جج نے مقدمے کی سماعت 19جنوری تک ملتوی کردی۔انسانی حقوق کی ایک بڑی تعدادبشمول پاک امریکا فریڈم فورم ،ایسوسی ایشن آف وومن پروگریس،انٹرنیشنل کولیشن اورسابق امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک کی قیادت میں انسانی حقوق کے گروپ نے نیویارک میں کمرہ عدالت کے سامنے مظاہرہ کیا۔ پاکستان امریکا فریڈم فورم کے سیکرٹری جنرل شاہد کامریڈ نے بتایا کہ یہ مظاہرہ پاکستان میں لاپتہ افراد کے لئے بھی تھا۔انہوں نے چیف جسٹس افتخار چوہدری سے اپیل کی کہ وہ لاپتہ افرادکے مقدمات کو بھی عدالتوں میں اٹھائیں کیونکہ عوام کو پاکستان کی آزادعدلیہ سے بہت سی امیدیں ہیں۔