Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Sunday, November 22, 2009, Zil`Haj 04, 1430 A.H
 
  یورپ سے 
 
دی ہیگ (راجہ فاروق، نمائندہ جنگ) ہالینڈ میں کشمیریوں کی تعداد اگرچہ بہت زیادہ نہیں لیکن اس بات میں مبالغہ آرائی نہیں کہ یہاں بسنے والی کشمیری کمیونٹی کشمیر کاز کیلئے بہت متحرک ہے جبکہ ہر موقع پر پاکستانی کمیونٹی بھی کشمیریوں کے شانہ بشانہ رہی ہے، پاکستانیوں نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں ہونے والی تمام تقریبات میں معاونت کی اور ساتھ دیا یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کشمیر کاز کیلئے پوری پاکستانی قوم متحد ہے، ہالینڈ میں گاہے بہ گاہے کشمیر کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد ہوتا رہتا ہے یہاں کشمیریوں کی متعدد تنظیمیں متحرک ہیں، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر پرانا مسئلہ ہے ڈچ کمیونٹی بھی پوری طرح اس سے باخبر ہے، ماریہ لوکسی کشمیر پر گذشتہ 15 سال سے کام کررہی ہے، وہ آئی کے وی نامی این جی او کی سینئر پروگرامنگ آفیسر ہیں وہ کئی مرتبہ مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے دورے کرچکی ہیں اور گذشتہ سال2008ء کے دوران نام نہاد انتخابات کی رپورٹ بھی شائع کرچکی ہیں، 30/ اکتوبر دی ہیگ میں کشمیر سینٹر ہالینڈ کے زیر اہتمام راؤنڈ ٹیبل ٹاک کا انعقاد کیاگیا اس تقریب کے مہمان خصوصی سفیر پاکستان اعزاز احمد چوہدری تھے، دیگر کئی سپیکرز کے علاوہ محترمہ ماریہ لوکس سپیکر تھیں، سفیر پاکستان اعزاز احمد چوہدری نے کشمیر سینٹر ہالینڈ کے ڈائریکٹر راجہ زیب خان کو پروگرام کو کامیاب بنانے میں گائیڈنس اور خصوصی تعاون فراہم کیا، اس تقریب میں ڈچ پاکستانیز تھنک ٹینک میڈیا، سول سوسائٹی طلباء پروفیشنلز ہالینڈ اور بلجئیم میں رہنے والے کشمیریوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا، کشمیر سنٹر ہالینڈ کے ڈائریکٹر راجہ زیب خان نے حاضرین کو کشمیر سنٹر کی جانب سے خوش آمدید کہتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی کمیونٹی اور سول سوسائٹی کو مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو ہرگز ہرگز نہیں بھولنا چاہئے، سفیر پاکستان اعزاز احمد چوہدری نے حکومت پاکستان کی کشمیر پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اس مسئلہ کو باوقار طریقہ اور کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی جانب سے منظور شدہ قراردادوں کے مطابق کرنے کا خواہاں ہے، سفیر پاکستان اعزاز احمد چوہدری نے کہاکہ پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے، ماریہ لوکس نے کشمیر اور گرد ونواح کے ملکوں کے حالات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات 2008ء اور این جی او کی جانب سے جاری رپورٹ کا تذکرہ کیا انہوں نے کہاکہ کشمیر کو انتخابات کے موقع پر اوباما انتظامیہ نے صحیح تناظر میں جائزہ نہیں لیا، ماریہ لوکس نے انڈین وزیراعظم من موہن سنگھ کے اس بیان پر اطمینان کا اظہار کیا کہ انہوں نے کہاہے کہ پاکستان سے مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر گفت وشنید جاری رکھنا چاہتے ہیں۔  
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback