| اسلام آباد (نمائندہ جنگ) وفاقی کابینہ نے موسم سرما کے دوران گیس کی لوڈ مینجمنٹ، شوگر پالیسی 2009-10ء اور دھان کی خریداری سے متعلق پالیسی کی منظوری دیدی ہے جبکہ سرکاری اداروں میں دو چھٹیوں سمیت کفایت شعاری سے متعلق اقدامات پر غوروخوض آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں 10 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس میں ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بیرون ملک سے 5 لاکھ ٹن سفید اور 5 لاکھ ٹن خام چینی درآمد کی جائیگی جس سے فی ٹن 80 سے 100ڈالر کی بچت ہوگی جبکہ لوڈ مینجمنٹ پالیسی کے تحت 15 نومبر 2009ء سے 15 مارچ 2010ء تک صنعتوں اور سی این جی سٹیشنوں کو ہفتہ میں دو دن گیس کی فراہمی معطل رہے گی۔ دوسری جانب رواں سال بھی ملک میں دھان کی اچھی فصل کی توقع ہے، رواں اور گزشتہ سال کی فصلوں سے 57 لاکھ 60 ہزار ٹن اضافی چاول برآمد کیلئے دستیاب ہونے کا تخمینہ ہے۔ بدھ کو یہاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے میڈیا کے نمائندوں کو کابینہ اجلاس کے فیصلوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ موسم سرما کے دوران گیس کی طلب اور رسد میں عدم توازن کے باعث گیس کی لوڈ مینجمنٹ کا فیصلہ بادل ناخواستہ کیا گیا ہے جس کے تحت سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کے علاقوں میں صنعتی اداروں اور سی این جی سٹیشنوں کو ہفتہ میں دو دو دن گیس کی فراہمی بند رہے گی، ان دو دنوں کے دوران صنعتی یونٹوں کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے متبادل ایندھن پر انحصار کرنا پڑیگا۔انہوں نے کہاکہ کے ای ایس سی کے گیس پر چلنے والے چند پلانٹ بھی لوڈ مینجمنٹ سے متاثر ہونگے، بجلی کی فراہمی کو جاری رکھنے کیلئے ان پلانٹس کو متبادل ایندھن پر چلایا جائیگا اور گیس اور متبادل ایندھن کی قیمتوں کے درمیان فرق کے باعث پڑنے والے اضافی اخراجات وفاقی حکومت برداشت کریگی۔ انہوں نے کہا کہ لوڈ مینجمنٹ پالیسی کے تحت 15 نومبر سے 15 فروری تک صنعتی اور تجارتی مقاصد کیلئے گیس کے نئے کنکشن نہیں دیئے جائینگے تاہم گھریلو صارفین اس پابندی سے مستثنیٰ ہونگے۔ کابینہ نے پرانے منصوبوں کی تکمیل تک نئے دیہات اور قصبوں کو گیس کی فراہمی کے منصوبے شروع نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاہم بلوچستان اور گیس پیدا کرنے والے اضلاع اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 2 سالوں میں ایل پی جی کی درآمد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، صارفین اور صنعتوں کو ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ایل پی جی کی درآمد جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ کابینہ نے چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ اور چیف سیکرٹریز، شوگر ملز مالکان اور کاشتکاروں سمیت تمام فریقین سے تفصیلی مشاورت کے بعد تشکیل دی گئی شوگر پالیسی 2009-10ء کی بھی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے پانچ لاکھ ٹن خام چینی اور پانچ لاکھ ٹن سفید چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خام چینی شوگر ملز مالکان کی مشاورت سے منگوائی جائیگی اور اسے مقامی ملوں میں صاف کیا جائیگا۔ |
|