| کراچی(راجہ طارق، نیوز ڈیسک) پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کے درمیان آئندہ دو روز میں دبئی میں اہم مذاکرات ہونگے۔ اس سلسلے میں بدھ کی شب گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اسلام آباد سے دبئی روانہ ہوگئے جبکہ فاروق ستار اور بابر غوری بھی جمعرات کو دبئی جائینگے۔ پیپلز پارٹی کے اہم رہنما بھی دبئی روانہ ہونگے۔ ذرائع کے مطابق دونوں پارٹیوں کے مذاکرات میں صدر کے استعفے پر بھی بات چیت ہوگی۔ ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں صدر متنازع نہ بنیں اداروں کے استحکام کیلئے سترہویں ترمیم ختم کریں اپنا سیاسی کردار ادا کریں اور صدارت سے استعفیٰ دیدیں۔ دبئی میں دونوں پارٹیوں کے رہنما موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کرینگے۔ نیوز ڈیسک کے مطابق بگڑتے ہوئے حالات پر قابو پانے کیلئے ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت اور وزیر داخلہ رحمان ملک کے درمیان دبئی میں جمعرات کوایک ہنگامی ملاقات ہو گی جبکہ گورنر سندھ عشرت العباد بھی اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کرنے کے چند گھنٹوں بعد دبئی روانہ ہو گئے ہیں ،صدر اور گورنر کی ملاقات کی تفصیلات کا علم نہیں ہو سکا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ایم کیو ایم کو اتحاد کے دھارے میں باالخصوص این آر او کے ایشو پر واپس لانے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف ہے ،گورنر عشرت العباد بدھ کی شب دبئی کیلئے روانہ ہو چکے ہیں ۔ دوسری جانب انور بھائی کی قیا دت میں ایم کیو ایم کا ایک اہم وفد رحمن ملک سے ہونے والے مذاکرات میں شرکت کیلئے لندن سے دبئی پہنچ رہا ہے ،دریں اثناء اسلام آباد سے خبریں آرہی ہیں کہ ایم کیو ایم ناظم کراچی کی حالیہ حیثیت کو برقرا ر رکھنے سمیت مطالبات کی ایک لمبی فہرست پیش کر سکتی ہے جنہیں ماننا پیپلز پارٹی کیلئے خاصا دشوار ہو گا کیونکہ اس سے پیپلز پارٹی اپنی جماعت کے دیہی حلقہ انتخاب میں تنہائی کا شکار ہو جائے گی۔دبئی سے ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم اپنے دروازے بند کر کے سو گئی ہے اور اس موقع پر کسی قسم کی خفیہ ملاقاتیں ایم کیو ایم کو حالیہ پوزیشن سے واپس نہیں لا سکتی ہیں، جے یو آئی کی جانب سے بھی این آر او کی قسمت پر اس وقت تالے لگ گئے تھے جب اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا کہ اگر یہ متنازعہ قانون پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تو ان کی جماعت اس کے خلاف ووٹ دے گی ۔ |
|