Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Sunday, November 22, 2009, Zil`Haj 04, 1430 A.H
 
  اہم خبریں 
 
اسلام آباد (عثمان منظور) ملکی آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر زرداری کو یا تو پارک لین اسٹیٹس کی ڈائریکٹر شپ چھوڑنا ہوگی یا صدر کے عہدے پر استعفیٰ دینا ہوگا کیونکہ بیک وقت دونوں عہدے رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ تمام ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ صدر نے ایک نجی کمپنی کا ڈائریکٹر بن کر آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کی درستی کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ان کا اپنے عہدے سے ہٹ جانا ہے۔ پی پی کے وکلاء اس موضوع پر بات کرنے سے گریزاں ہے۔ سینیٹر رضا ربانی اور سینیٹر جہانگیر بدر سے جب اس نامہ نگار نے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ میٹنگ میں ہیں لیکن اس کے بعد انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ مشرف کے 2000ء والے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکارکرنے والے جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ اگر صدر مسلسل آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور ان کا عملی طور پر مواخذہ نہیں ہو سکتا تو پھر سپریم کورٹ آرٹیکل 184 (3) کے تحت نوٹس لے سکتی ہے اور کہہ سکتی ہے کہ صدر اپنے عہدے سے محروم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک صدر نہ صرف کسی نجی کمپنی کے ڈائریکٹر نہیں بن سکتے بلکہ وہ کسی سیاسی پارٹی کے شریک چیئرمین بھی نہیں بن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مواخذے کا عمل واضح طور پر آئین میں بیان کیا گیا ہے لیکن اگر صدر مسلسل آئین کی خلاف ورزی کر رہے اور یہ بھی یقین ہو چکا ہے کہ ان کا مواخذہ ممکن نہیں تو پھر عدالتیں حرکت میں آسکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ (آصف زرداری) نجی کمپنی کے ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ بھی دیں تو پھر بھی آئین کی خلاف تو ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اس خلاف ورزی کا نوٹس لے سکتی ہے کیونکہ آئین پر عملدرآمد کرانا عدالت کی ذمہ داری ہے۔ سینیٹر خالد رانجھا نے کہا کہ دی نیوز کو بتایا کہ آصف علی زرداری آئین کی خلاف ورزی ہے جو ان کی نااہلی کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل (1)43 کے مطابق ”صدر ملازمت پاکستان میں کوئی منفعت بخش عہدہ نہیں رکھ سکتے نہ ہی وہ کوئی ایسا عہدہ اپنے پاس رکھ سکتے جس کے تحت سرانجام دی گئی خدمات کے عوض وہ معاوضہ حاصل کرنے کے حق دار ہوں“۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو اپنے دونوں عہدوں میں ایک چھوڑنا ہوگا کیونکہ یہ چیز ان کی آئینی عہدے کیلئے نااہلی کا باعث بن سکتی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین سید اقبال حیدر نے کہاکہ نہ صرف صدر بلکہ کوئی صوبائی یا وفاقی وزیر بھی کسی نجی کمپنی میں شراکت دار یا اس کی ڈائریکٹر شپ نہیں رکھ سکتا، اس لئے کہ یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ایوان صدر اور لینڈ سکینڈل، پی ایس او سیکنڈل اور پاکستان سٹیل ملز سکینڈل میں ملوث لوگوں کی خاموشی ان سکینڈلوں کی توثیق کرتی ہے“۔ انہوں نے کہا کہ ”بدیہی طور پر صدر کی نااہلی کا سبب بنتی ہے“۔ اقبال حیدر نے کہا کہ اگر اعلیٰ ترین آئینی عہدیدار مشکوک سرگرمیوں یا عہدوں کی چھینا جھپٹی میں ملوث ہوگا تو لوگ ایوان صدر پر اعتراض کریں گے اور صورتحال کسی بھی طرح پسندیدہ نہیں ہو سکتی۔ ایوان صدر کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔ سینیٹر ایس ایم ظفر نے کہا کہ اگر صدر کسی کمپنی کے ڈائریکٹر کا عہدہ اپنے پاس رکھتے ہیں تو پھر آرٹیکل (1)43 کا دوسرا حصہ ”خدمات کے عوض معاوضے کا حق دار ٹھہرنا“ موثر ہوگا جو کہ مس کنڈکٹ کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مس کنڈکٹ کی درستگی / تلافی صرف صدر کے مواخذے کی صورت میں ہوسکتی ہے۔ ایس ظفر نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متنازع / مفادات کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صدر اعلیٰ ترین آئینی عہدے پر براجمان ہوتے ہوئے ایک نجی کمپنی سے کس طرح فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔  
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback