| اسلام آباد (نمائندہ جنگ) قومی اسمبلی نے کام کرنے کی جگہ پر ہراساں کرنے کی ممانعت کا بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا ہے، وزیرمملکت قانون و انصاف افضل سندھو کی طرف سے خواتین کے تحفظ کے لیے کام کرنے کی جگہ پر ہراساں کرنے سے ممانعت کا بل تعزیرات پاکستان 1860ء اور ضابطہ فوجداری 1898ء میں ترامیم کا بل ایوان میں پیش کیا گیا، رائے شماری کے وقت کسی رکن نے اس بل کی مخالفت نہیں کی بل کی منظوری کے بعد خواتین اراکین نے بل کی حمایت میں زوردار تقاریریں کیں تاہم بعض اراکین نے بل پر تحفظات کا اظہار بھی کیا، بل پر رائے شماری سے قبل سابق وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمن مختلف اراکین کے پاس جاکر بل کے حق میں لابنگ بھی کرتی رہیں، قبل ازیں توجہ دلاوٴ نوٹس پر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ اسلام آباد زون فور ماسٹر پلان میں شامل تھا یہ پارک ایریا تھا سابق حکومت کوئی پالیسی تشکیل نہ دے سکی اور ہاوٴسنگ اسکیموں کو کچھ علاقہ دے دیا گیا اب سی وی اے اراضی کے حصول کا عمل قانون کے تحت شروع کر رہی ہے، محترمہ انوشہ رحمن نے کہا کہ یہ بل بہت اچھی کاوش ہے پہلی دفعہ خواتین کی بہبود اور تحفظ کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، اس بل سے بچوں کو گھر چھوڑ کر ملازمت پر جانے والی خواتین کو تحفظ ملے گا، خواتین پولیس کے پاس جاکر شکایت کر سکیں گی پولیس کو بھی اس ضمن میں ہدایات جاری کی جائیں، محترمہ شیری رحمن نے کہا کہ اس بل کی منظوری پر پارلیمنٹ اور حکومت مبارکباد کے مستحق ہیں اس بل کا دائرہ کار گھروں میں کام کرنے والی خواتین پر بھی ہوتا ہے، وویمن کمیشن کو بااختیار بنانا بھی ضروری ہے، اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ حکومت وویمن کمیشن کو بااختیار بنانے کی تجویز پر بھی غور کرے۔ |
|