لدھا/کرم ایجنسی/ تیمرگرہ/ بونیر (نمائندگان جنگ)آپریشن راہ نجات میں سیکورٹی فورسز عسکریت پسندوں کے ایک اور مضبوط مرکز لدھا میں داخل ہو گئی ہیے جس کے بعد وہاں کی گلی گلی میں پاک فوج اور جنگجوؤں کے درمیان شدید جنگ چھڑ گئی ہے،تازہ کارروائیوں میں 30 جنگجو ہلاک اور دو افسروں سمیت 8 اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ کرم ایجنسی اور باجوڑ میں 5 جنگجو مارے گئے ، تیمرگرہ میں طالبان کا اہم کمانڈرجبکہ سوات سے طالبان کی مالی معاونت کرنے والے فنانس منیجر کو گرفتار کرلیا ہے جن سے بھاری رقم بھی برآمد کی گئی ہے،سوات اور شانگلہ میں سرچ آپریشن کے دوران 29 مشتبہ جگنجوؤں کو گرفتار کیا گیا، خار میں جنگجوؤں نے دو خواتین استاذہ کو قتل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایس پی آر نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ آپریشن راہ نجات میں 30 جنگجو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مارے گئے ہیں۔ فورسز عسکریت پسندوں کے مضبوط گڑھ لدھا میں داخل ہو چکی ہیں۔ بیان کے مطابق سراروغہ کا بڑا حصہ محفوظ بنا لیا گیا ہے جبکہ سراروغہ میں 16 جنگجو مارے گئے اور 8اہلکار جن میں دو افسر اور ایک جونیئر کمیشنڈ افسر بھی شامل ہیں زخمی ہوگئے ۔ کنی گرام اور شکئی کی طرف فوج لدھا میں داخل ہوگئی ہے۔ گلی گلی میں شدید لڑائی میں 10 جنگجو مارے گئے ۔ رزمک اور مکین میں فورسز نے چائنا گاؤں میں پوزیشنیں مکمل مستحکم کرلیں اور 4 جنگجوؤں کو ہلاک کردیا۔ مالاکنڈ اور سوات میں 24 عسکریت پسند گرفتار کئے گئے جبکہ دو دہشت گردوں نے سرنڈرکرلیا۔