کراچی، لاہور ( جنگ نیوز)ملک میں 6لاکھ ٹن جبکہ شوگر ملوں میں3لاکھ87ہزار ٹن چینی کا ذخیرہ موجود ہونے اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کم وبیش تمام مارکیٹوں اور ہول سیل ڈیلروں کو چینی کی مطلوبہ مقدار میں فراہمی کے باوجود ملک بھر میں چینی کی قلت کا سلسلہ جاری ہے اور پرچون دکانوں سے چینی غائب ہے، جس کی وجہ سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ جبکہ پرچون فروش بحران کا ذمہ دار ڈیلرز اور شوگر ملز کو ٹھہرارہے ہیں۔ادھر کراچی میں بھی چینی کے بحران نے سنگین صورت اختیار کرلی ہے اور شہری چینی کے حصول کیلئے سرگرداں نظر آرہے ہیں لیکن عوام کو چینی کی دستیابی میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ شہر کی زیادہ تر دکانوں میں چینی دستیاب نہیں ہے اور اگر کسی جگہ چینی میسر ہے بھی تو 70 اور 90 روپے فی کلو کے حساب سے دی جارہی ہے۔ حکومت کی جانب سے چینی کی فراہمی اور انتظامیہ کی جانب سے چینی کی تقسیم کے نظام میں ہونے والی ممکنہ بدانتظامی اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کے باوجود مارکیٹوں میں چینی کی مصنوعی قلت کا سلسلہ جار ی ہے۔ گزشتہ دو تین روز سے ہول سیل مارکیٹ اکبری منڈی میں چینی کے حصول کیلئے آنے والے دکانداروں کو لائنوں میں لگنے کے باوجود چینی میسر نہیں، جس کی وجہ سے شہر کی پرچون کی دکانوں پر چینی یا تو غائب ہے یا مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہے۔لوگوں کی جانب سے شکایات میں کہا گیا ہے کہ دکانوں پر 40روپے فی کلو گرام چینی کی دستیابی کے بینرز تو آویزاں ہیں لیکن متعدد جگہوں پر چینی موجود ہی نہیں ۔