Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Sunday, November 22, 2009, Zil`Haj 04, 1430 A.H
 
  ملک بھر سے  
 
اسلام آباد (طارق بٹ) صدر آصف علی زرداری نے 28 نومبر کو این آر او کی 120 روزہ مدت کے خاتمے کے بعد اسے دوسری مرتبہ بطور آرڈی ننس جاری نہ کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح قومی مصالحتی آرڈیننس ختم ہو جائیگا اور صدر زرداری اور انکے ساتھی اپنے خلاف دائر مقدمات بحال ہونے پر عدالتوں میں ان کا سامنا کرینگے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی نے این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تا ہم بعض اطلاعات کے مطابق صدر زرداری گزشتہ روز گورنر سندھ کے ساتھ ملاقات کے بعد اسے پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔ ایوان صدر میں اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاسوں میں شریک پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے ”دی نیوز“ کو بتایا کہ ایوان صدر میں گزشتہ 2 یوم میں ہونے والے اجلاسوں کے دوران ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ این آر او کے مقدر کا فیصلہ بالآخر سپریم کورٹ ہی کرے گی لہٰذا اس آرڈی ننس کو دوسری بار نافذ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ مذکورہ سینئر رہنما کے مطابق صدر زرداری نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر این آر او کو پارلیمنٹ منظور کر بھی لے تو پھر بھی سپریم کورٹ اس کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت کریگی اور اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ این آر او کو بطور قانون جاری رہنا چاہیے یا نہیں۔ مذکورہ رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ تسلیم کیا کہ پیپلز پارٹی کے اہم اتحادیوں کی جانب سے این آر او کی حمایت کرنے سے جارحانہ انکار اور پھر میڈیا کی جانب سے اس معاملے کو اچھالے جانے کے بعد رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی اور ایوان صدر اس معاملے کے بارے میں انتہائی خوفزدہ ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ 31 جولائی کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل صدر زرداری این آر او کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے کیلئے تیار نہیں تھے اور ان کا خیال تھا کہ اس اقدام کی کوئی ضرورت ہی نہیں لیکن فیصلہ آنے کے بعد آرڈی ننس کو پارلیمنٹ کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ این آر او کے خاتمے سے متاثرہ افراد قانون کے تمام تقاضے پورے کریں گے اور اگر ضرورت پڑی تو ضمانت قبل از گرفتاری بھی کرائی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کی سیکرٹری جنرل فوزیہ وہاب نے ”دی نیوز“ کو بتایا کہ این آر او کے بارے میں پارلیمانی کارروائی سے ملک مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا تھا۔ جس کا فائدہ وزیرستان میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرنے والوں سمیت پاکستان کے دشمنوں کو پہنچنے کا احتمال تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب صدر زرداری اور پیپلز پارٹی کے متعدد دیگر رہنماؤں کیخلاف سال ہا سال سے مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کا کوئی نتیجہ برآمدنہیں ہوا تو کیسز بحال ہونے پر بھی کوئی الزام ثابت نہیں کیا جا سکے گا۔ پیپلز پارٹی سے وفاداری تبدیل کرنے والے ایک اہم رہنما نے ”دی نیوز“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب اس بات کا بغور مشاہدہ اور مانیٹرنگ کرنا ہو گی کہ موجودہ اہم عہدوں پر براجمان اہم شخصیات میں سے کون کون 28 نومبر سے قبل غیر ملکی دوروں کے نام پر یکطرفہ ٹکٹ لے کر گرفتاری سے بچنے کیلئے بیرون ملک روانہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانونی ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ این آر او کے خاتمے پر اس آرڈی ننس سے مستفید ہونے والوں کو گرفتاریوں سے بچنے کیلئے ضمانت قبل از گرفتاری کرانا ہو گی۔ ایک ا ور ذرائع نے بتایا کہ حکومت میں موجود تین اہم رہنماؤں نے نیب کو اپنے خلاف عدالتوں میں پیروی کرنے سے روک دیا تھا۔ این آر او ختم ہونے کے بعد مذکورہ شخصیات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔  
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback