پشاور + اسلام آباد (جنگ نیوز) سرحد اسمبلی کی استحقاق کمیٹی نے رویت ہلال کمیٹی کے مرکزی چیئرمین مفتی منیب الرحمن کو طلب کرنے کے لیے دوبارہ سمن بھیج دیا۔ استحقاق کمیٹی کے چیئرمین اور ڈپٹی اسپیکر سرحد اسمبلی خوشدل خان نے کہا کہ مفتی منیب الرحمن اب پیش نہ ہوئے تو وارنٹ گرفتاری جاری ہوسکتے ہیں جبکہ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کے ماتحت نہیں، اس لیے وہ سرحد اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق ایک انٹرویو میں اسپیکر سرحد اسمبلی خوشدل خان نے کہاکہ مفتی منیب الرحمن کو استحقاق کمیٹی نے17 اکتوبرکو پیش ہونے کے لیے نوٹس بھیجا تھا لیکن وہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے جس پر مفتی منیب الرحمن کو 18 نومبرکوکمیٹی میں پیش ہونے کے لیے سمن بھیج دیا گیا ہے۔ سمن اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ذریعے بھجوایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مفتی منیب الرحمن اب بھی کمیٹی میں پیش نہ ہوئے تو ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کے ماتحت نہیں، اس لیے وہ سرحد اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں وفاقی حکومت کے تحت کام کر رہا ہوں، میں نے اپنا جواب وفاقی وزارت مذہبی امورکوبھیج دیا ہے، میں سرحد اسمبلی میں نہیں جاؤں گا۔