Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Saturday, November 21, 2009, Zil`Haj 03, 1430 A.H
 
  ادارتی صفحہ 
 
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جمعرات کے روز قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے جمہوریت کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں مگر تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ اس ملک میں صرف سیاستدان ہی کرپٹ ہیں اور باقی سب نیک نام ہیں جبکہ ایسا ہرگز نہیں کیونکہ جب اس حوالے سے تفصیلات سامنے آئیں گی تو سب کو پتہ چل جائے گا کہ این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں سیاستدان کم اور دوسرے زیادہ ہیں اس لئے جب تک حقائق پوری طرح منظر عام پر نہ آ جائیں اس وقت تک کوئی بات کہنے سے احتراز کیا جائے کیونکہ سیاستدانوں کا امیج پہلے ہی اچھا نہیں اس لئے کسی کو یہ موقع نہ دیا جائے کہ وہ یہ کہہ سکے کہ ہم اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے اہل نہیں ہمارا تو ہر دم احتساب ہو رہا ہے ہم پارلیمنٹ اور عوام کو بھی جواب دہ ہیں، عدلیہ بھی ہمارے کسی بھی قدم کا نوٹس لے سکتی ہے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی اخبارات میں کرپشن کی کسی بھی خبرپر کارروائی کرنے کا ہر اختیار رکھتی ہے تاہم سب سے پہلے ایسی شکایات پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے۔
وزیراعظم نے اپنے مذکورہ بالا خطاب میں تمام محل نظر اور متنازع معاملات کو سب سے پہلے ملک کے سب سے مقتدر اور خود مختار ادارے پارلیمنٹ میں لانے اور ان کی چھان پھٹک کرنے کی جو بات کی ہے اس کی صحت و صداقت سے کسی کو کوئی انکار نہیں ان کا یہ کہنا بھی بالکل بجا کہ سیاستدان کسی ایک کو نہیں بلکہ متعدد اداروں کے سامنے جوابدہ ہیں کیونکہ وہ صرف حکومتی سطح پر قائم کئے جانے والے اداروں کے احتساب کی زد میں ہی نہیں بلکہ میڈیا کی عقابی نگاہیں بھی ان پر جمی ہوئی ہیں لیکن ہم نہایت ادب کے ساتھ گزارش کریں گے کہ ان کے اس فرمان سے اتفاق کرنا مشکل ہے کہ صرف سیاستدان ہی کرپشن میں ملوث نہیں بلکہ بہت سے دوسرے بھی ہیں کیونکہ اس سے بالواسطہ طور پر صاف مترشح ہوتا ہے کہ اہل سیاست میں بھی بدعنوان عناصر بہرحال موجود ہیں اس لئے یہ کہہ دینا کہ اس حمام میں صرف سیاستدان ہی نہیں اور لوگ بھی ہیں کسی مثبت سوچ کی نشاندہی ہرگز نہیں کرتی اور غالباً یہی سبب ہے کہ جب پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ارکان کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے متفقہ طور پر ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی تو مسلم لیگ ق کے ارکان نے اسے دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ راستہ اختیار کرنے سے سوائے تاخیر کے کچھ حاصل نہیں ہو گا اور اس کا حشر بھی سترہویں ترمیم اور میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کے لئے بنائی گئی کمیٹیوں سے کچھ مختلف نہیں ہو گا اس لئے اس بارے میں احتساب کی ایک سیدھی اور واضح قرارداد سامنے لائی جانی چاہئے ہمارے خیال میں درست راستہ بھی یہی ہے کیونکہ سیاستدانوں کو بدعنوانی کی ہر امکانی آلائش سے پاک رکھنا اس لئے ضروری ہے کہ اگر دوسروں کو کرپشن سے روکنے والے خود اس میں الجھ کر رہ جائیں گے تو پھر وہ انہیں اس دلدل سے نکالنے کی جدوجہد کیسے کر سکیں گے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت احتساب کا ایک آزاد اور خود مختار ادارہ قائم کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے اور اس ضمن میں اپوزیشن کی اچھی تجاویز اور سفارشات پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنے اور انہیں شایان شان جگہ دینے پر بھی آمادہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت آخر کب تک محض زبانی جمع خرچ کرنے میں مصروف رہے گی اور اپنے عمل کا خانہ ہمیشہ خالی رکھے گی۔ احتسابی عمل کا ایسا مستقل قومی نظام قائم کرنا جس پر اقتدار کے ایوانوں میں آنے والی کوئی تبدیلی کسی طرح اثر انداز نہ ہو وقت کی ایک ایسی ناگزیر ضرورت ہے جسے مزید التواء میں ڈالنا کسی طرح ملکی مفاد میں نہیں کیونکہ اب ہمارے ہاں ہونے والی بدعنوانیوں کے چرچے بہت دور تک جا پہنچے ہیں اور ہمیں دی جانے والی ترقیاتی امداد تک مختلف قدغنوں کی زد میں آتی جا رہی ہے، لیکن احتساب کا یہ نظام قائم کرتے ہوئے اس امر کو ملحوظ خاطر رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس کا مقصد محض اپنے حریفان سیاست کو بدنام کرنا یا انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا کسی طرح نہ ہو ورنہ اس کا انجام بھی پروڈا، ایبڈو اور نواز شریف اور بے نظیر کے ادوار میں نافذ کئے جانے والے احتسابی قوانین سے کسی طرح مختلف نہیں ہو گا۔
پاکستان کو آزاد ہوئے 62 برس ہو چکے ہیں اگرچہ قوموں کی زندگی میں یہ کوئی زیادہ طویل مدت نہیں لیکن ہم نے اس عرصہ میں ترقی معکوس کے جو ریکارڈ قائم کئے ہیں اس نے عوام کو بہت بدظن کر دیا ہے لیکن ان گئے گزرے حالات میں بھی اس ملک کے عوام نے وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے مل کر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے ساتھیوں کی بحالی کے لئے پورے ایک برس تک جو شاندار تحریک چلائی ہے وہ اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم کے اندر کچھ کر گزرنے کی بے پناہ قوت موجود ہے اور اگر اسے مناسب رہنمائی مل جائے، نشان منزل متعین ہو جائیں تو وہ اب بھی کرشماتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتی ہے اور اب جبکہ عدلیہ پوری طرح آزاد ہے تو پھر انتظامیہ کو بھی کرپشن سے پاک کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہئے اور اس سلسلے میں مقتدر پارٹیوں اور اپوزیشن سب کو مل کر آگے کی جانب قدم بڑھانا چاہئے کیونکہ اقوام عالم کی دوڑ میں ہم اس قدر پیچھے رہ گئے ہیں کہ بنیادی انسانی ضروریات کا حصول بھی ہمارے لئے مشکل ہو گیا ہے چینی جیسی عام استعمال کی چیز دستیاب نہیں بجلی کی قلت اتنی زیادہ ہے کہ کئی کئی گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور اس کی چوری کا یہ عالم ہے کہ ایک خبر کے مطابق صرف کراچی شہر میں چھ لاکھ کنڈے لگے ہوئے ہیں۔ امن و امان کی حالت اتنی دگرگوں ہو گئی ہے کہ پشاور سے کراچی تک شاید ہی کوئی بڑا شہر ایسا ہو گا جو خود کش حملوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں سے بچا ہو اور یہ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس ایسے ترقی یافتہ ممالک تو درکنار بھارت جیسا ملک جہاں امن عامہ کی صورتحال کسی طور قابل ستائش نہیں وہ بھی اپنے باشندوں کو پاکستان کا سفر کرنے سے منع کر رہا ہے۔
صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں میں پاک افواج اپنی جاں بازی و جاں سپاری کی شاندار روایات کو زندہ رکھتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مصروف پیکار ہیں اور انہوں نے سوات اور مالا کنڈ کے بعد جنوبی وزیرستان میں بھی دہشت گردوں کی اس طرح کمر توڑ کر رکھ دی ہے کہ اس پر پاکستان کے دشمن بھی انگشت بدنداں ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس صورتحال میں ہر شعبہ زندگی میں اپنے پورے کلچر کو بدعنوانی کی ہر آلودگی سے بچانا نہایت ضروری ہے اس لئے ہمیں وزیراعظم سے دردمندانہ گزارش کریں گے کہ وہ سیاستدانوں کو کرپشن سے پاک کرنے کا بیڑا اٹھائیں اس کے بعد دوسرے انشاء اللہ خود بخود ان کے پیچھے چلیں گے اور پورا معاشرہ بدعنوانی سے صاف ہو جائے گا۔
 
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback