میں جلد سو جانے والوں میں سے ہوں۔ کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔ شاید رات کے ساڑھے گیارہ بجے تھے۔ میرے فون کی گھنٹی بجی۔ اندھیرے میں ادھر ادھر ٹٹولتے اور آنکھیں ملتے ہوئے میں نے فون اٹھایا۔ نیم خوابی کی حالت میں بھی مجھے اس ستم رسیدہ آواز کو پہچاننے میں ایک لمحہ بھی نہ لگا۔ عافیہ صدیقی کی ماں کا فون جب بھی آتا ہے، میں بری طرح لفظوں کے افلاس کا شکار ہوجاتا ہوں۔ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کہوں۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں ہی مجرم ہوں۔ میں نے ہی اسے بچوں سمیت اغوا کیا، میں نے ہی اسے امریکیوں کے ہاتھ بیچا، میں نے ہی ڈالروں سے اپنی جیب بھری، میں نے ہی اسے سفاک درندوں کی کھوہ میں ڈالا۔ کرب کی آگ میں جلتی بلکتی ماں جانے کیا کیا کچھ کہتی رہتی ہے اور میں ”ہوں ہاں“ کے سوا کچھ کہہ نہیں پاتا۔ کہنا چاہوں بھی تو کیا کہوں؟ وہ حرف تسلی کہاں سے لاؤں جو ہجر کی چتا میں تڑپتی ماں کے زخموں کا مرہم بن سکے؟ ابھی تک کسی زبان کی لغت میں وہ لفظ جگہ نہیں پاسکا جو ممتا کی ساری جہتوں کا احاطہ کرتا ہو۔ جو وحشیوں کے غول میں گھر جانے والی بیٹی کی ماں کا حال دل کہہ سکے؟ ماں بولتی رہی، میں سنتا رہا۔ دیر بعد فون تو بند ہوگیا لیکن میں ساری رات سو نہ سکا۔ سینے میں دل اور دل میں درد رکھنے والا کوئی بھی شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ عافیہ کی ماں کس کیفیت سے دوچار ہوگی اور اس پیرانہ سالی میں زندگی کا ایک ایک لمحہ اس پر کتنا بھاری ہوگا؟ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ غیرت کو گالی بنا دینے والے ہمارے لبرل فاشسٹ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے اس رویّے کو موضوع کیوں نہیں بنا رہے جو اس نے ایک بے بس و لاچار سی پاکستانی لڑکی کے بارے میں اختیار کر رکھا ہے؟ اگر کوئی امریکی خاتون، طالبان کی قید میں ہوتی اور وہ اس کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو جمہوریت پرست اور انسانی حقوق کے پرچم بردار امریکیوں نے اختیار کر رکھا ہے تو ان کے قلم شمشیر آبدار بن جاتے اور ان کی زبانیں شعلے اگلنے لگتیں۔ اگر طالبان امریکی خاتون قیدی کو قاضی کی عدالت میں لے جانے سے پہلے اسے حکم دیتے کہ تمہارے سامنے یہ بائبل کے نسخے دھرے ہیں اور تم ان پر پاؤں دھرتی ہوئی آگے بڑھو، اگر وہ تلاشی کے نام پر اسے مادر زاد برہنہ کردیتے، اگر داڑھیوں اور پگڑیوں والے لمبے تڑنگے طالبان اسے دونوں بازوؤں سے پکڑ کے دھکے دیتے ہوئے کمرہ عدالت میں لاتے تو قیاس کیجئے کہ ہمارے ان لبرل فاشسٹوں پہ کیا گزرتی؟ کیا ایک قیامت نہ بپا ہوجاتی؟ کیا ساری دنیا کا میڈیا آسمان سر پہ نہ اٹھا لیتا؟ کیا کرہٴ ارض کے ہر گوشے سے طالبان کی انسانیت سوزی کے نوحے بلند نہ ہونے لگتے؟ کیا ہر مہذب ملک کی حکومت ایک نہتی خاتون سے ایسے ظالمانہ سلوک پر بیان جاری نہ کرتی؟ کیا اقوام متحدہ کے در و دیوار میں ایک غلغلہ نہ اٹھتا؟ کیا سلامتی کونسل کی قرارداد فیکٹری چالو نہ ہوجاتی؟ کیا امریکہ طالبان کو گئے زمانوں کے درندہ صفت وحشیوں کے طور پر نہ پیش کرنے لگتا؟ لیکن غیرت کو گالی بنا دینے اور صبح و شام ملا محمد عمر کے قبیلے پر تبریٰ بھیجنے والوں کو امریکہ کے کسی بندی خانے میں ایک پنجرے کے اندر پڑی عافیہ صدیقی سے کچھ غرض نہیں اس لئے کہ اس کی قبائیں نوچنے اور برہنہ کردینے والوں کے رنگ گورے ہیں۔ ان کے چہروں پر داڑھیاں ہیں نہ سروں پہ پگڑیاں۔ اور وہ گڑیا جیسی بیٹی، جس کی عفت و عصمت کی قسم فرشتے بھی کھا سکتے ہیں، اس لئے ان کے لئے بھیڑ بکری سے بھی کم تر ہے کہ اس کا نام عافیہ ہے، اس کا خمیر پاکستان کی مٹی سے اٹھا ہے اور اس کے لہو میں ابوبکر صدیق کے لہو کی خوشبو ہے۔ اور عوام کے جذبہ و احساس کی نمائندگی کرنے اور پاکستان کی آبرو کے پرچم لہرانے والی اس حکومت کو کیوں سانپ سونگھ گیا ہے کہ اس نے پاکستان کی ایک بیٹی کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے؟ مشرف تو جاچکا۔ مجھے یقین ہے کہ جامعہ حفصہ کی بچیوں کا لہو اور عافیہ صدیقی کا المیہ دور تک اس سیاہ رو آمر کا تعاقب کرے گا۔ وہ ایک عبرت ناک انجام سے بچ نہیں سکتا۔ ساڑھے چھ برس قبل اسی کے گرگوں نے عافیہ صدیقی کو بچوں سمیت کراچی سے اغوا کیا، کچھ دن اپنی تحویل میں رکھا اور پھر امریکیوں کے ہاتھ بیچ دیا۔ چھ برس بعد اس کا بیٹا احمد بازیاب ہوا لیکن ابھی تک مریم کا کچھ پتہ نہیں جو اب دس سال کی ہوچکی ہوگی۔ سلیمان کی کچھ خبر نہیں جو تب صرف چھ ماہ کا تھا اور اب سات برس کا ہو چلا ہے۔ مشرف تو بردہ فروش تھا۔ اس نے خود اپنی کتاب میں بردہ فروشی اور ڈالر وصول کرنے کا ذکر کیا ہے لیکن موجودہ حکومت نے کتنی سنجیدگی دکھائی ہے؟ ہم امریکہ کے کروسیڈ کو اپنے گھروں تک لے آئے ہیں ہر روز سیکڑوں پاکستانیوں کے لہو سے اس کی آبیاری کررہے ہیں۔ ہمارے فوجی جانباز جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔ کیا اس سب کچھ کے عوض ہم امریکیوں سے اتنا بھی نہیں کہہ سکتے کہ خدا کے لئے عافیہ صدیقی کو واپس بھیج دو۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جانے والی یہ لڑکی دنیا کی سپرپاور کا کیا بگاڑلے گی؟ اس پہ عائد جرم صرف یہ ہے کہ اس نے دوران حراست کسی امریکی گارڈ پہ گولی چلاکر اسے زخمی کردیا تھا۔ یہ جرم بھی ایک سال پہلے عائد ہوا حالانکہ وہ مارچ 2003ء سے امریکی عقوبت خانوں میں گل سڑ رہی ہے۔ کیا صدر آصف زرداری، جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ہر رات سونے سے پہلے اعلیٰ امریکی عہدیداروں سے ہم کلام ہوتے ہیں، اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ صدر امریکہ سے معافی تلافی کے لئے کہیں؟ کیا امریکہ میں بیٹھے طوطی ہزار بیاں حسین حقانی اپنا ہنر نہیں آزما سکتے؟ کیا یہ پارلیمینٹ بروئے کار نہیں آسکتی؟ جناب زرداری ملک کے سربراہ ہیں ان کے لئے عافیہ کی حیثیت وہی ہونی چاہئے جو بختاور اور آصفہ کی ہے۔ وہ کیوں اس معاملے کو ایک اہم ترجیح نہیں بنارہے؟ مجھے یقین ہے کہ اگر حکومت پورے عزم سے اس مسئلے کو حل کرنے پر کمربستہ ہوجائے تو چند دنوں میں عافیہ رہا ہوسکتی ہے۔ سعودی عرب میں بھی منشیات کے حوالے سے قانون انتہائی سخت ہیں لیکن بھرپور سفارتی کوششیں بارآور ثابت ہوئی اور بے گناہ افراد رہا ہوکروطن آگئے۔ عافیہ کے حوالے سے یہ سرد مہری کیوں ہے؟ اور مجھے اپنے میڈیا کے دوستوں سے بھی گلہ ہے۔ انہوں نے بھی عافیہ کو بھلا دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ پوری قوت سے دباؤ ڈالیں تو نہ صرف ہماری حکومت کی آنکھیں کھل جائیں گی بلکہ امریکہ بھی اپنی روش بدلنے پر مجبور ہوجائے گا۔ سعودی عرب کے قیدیوں کے بارے میں میڈیا کی حساسیت نے ہی ایک انہونی کو ممکن کر دکھایا۔ جو کچھ پاکستان کی ایک معصوم بیٹی پر بیت رہی ہے، اس کا تذکرہ بھی محال ہے اور جو کچھ ہم من حیث القوم کررہے ہیں، شاید اس کی نظیر بھی نہ ملے۔ کیا کوئی قبیلہ اپنی بیٹیوں کے بارے میں اتنا بے حس، ایسا سنگ دل بھی ہوسکتا ہے؟