Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Saturday, November 21, 2009, Zil`Haj 03, 1430 A.H
 
  یورپ سے 
 
لندن (رپورٹ/ رضیہ سلطانہ) برطانوی وزیر انصاف جیک سٹرا نے کہا ہے کہ بعض عناصر اپنے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کے لئے اسلام کے نام پر دہشت گردی کر کے اس کے چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز برطانیہ میں مسلمانوں کے ادغام کے لئے درپیش چیلنجز اور مواقع کے عنوان سے رائل کامن ویلتھ سوسائٹی میں ایک پینل ڈسکشن کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ معاشرتی ہم آہنگی اور تنوع کی بہترین مثال ہے کہ جہاں دنیا کے تمام مذاہب اور ماننے والے بڑے امن و سکون کے ساتھ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ یہاں ہر ایک کو بلاتخصیص رنگ و نسل آگے بڑھنے کے یکساں مواقع حاصل ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا ایک طرف بی این پی کی شکل میں فار رائٹ جماعتیں تو دوسری طرف اسلام کی آڑ میں دہشت گردوں کا ٹولہ اس معاشرتی ہم آہنگی اور یگانگت کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔دونوں عناصر کمیونٹی کو تقسیم کرنے کیلئے مختلف حربے استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کر رہی ہیں۔ ان عناصر نے بحث کو دہشت گردی سے ہٹا کر مسلم اور غیر مسلم کی واضح تفریق میں تقسیم کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ اور مسلمان میں تضاد کا نہیں بلکہ احترام کا رشتہ ہے جس کا واضح ثبوت یہاں آباد دو ملین مسلمان ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ کسی فرد کی دو شناختیں یعنی مسلمان اور برطانوی ہونا اس کی ترقی کی راہ میں حائل نہیں۔انہوں نے زور دیا کہ کمیونٹی کی سطح پر اتحاد اور بردباری سے ان عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکتا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاشرتی ادغام اور ہم آہنگی کی ان کوششوں کا دائرہ کمیونٹی کے دیگر طبقوں تک پھیلایا جائے۔ مسائل اور تضادات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے نفرت کی بجائے بات چیت سے ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ باہمی اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے جبکہ نفرت اور کینہ اتحاد کے دشمن ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وہی قومیں آج کامیاب ہیں جہاں کمیونٹی کے تمام طبقوں نے ذاتی اور گروہی اختلافات کو پس منظر میں ڈال کر آنے والے چیلنجوں کا متحد ہوکر مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اور برطانیہ کے درمیان تعلقات آج کے نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ہیں۔اسلام اور برطانیہ کے مابین تجارت کے بھی واضح شواہد موجود ہیں۔ برطانوی معاشرے پر بھی اسلامی تہذیب اور تمدن کی گہری چھاپ محسوس کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اور برطانیہ میں رابطوں کو اس اس وقت مزید استحکام حاصل ہوا جب 1950ء کی دہائی میں مسلمان تارکین وطن کی بڑی تعداد نے تلاش معاش کے لئے برطانیہ کا رخ کیا اور یہاں لنکاشائر، یارکشائر، سکاٹ لینڈ اور مڈلینڈز کی صنعتوں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے اور برطانوی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ انکے حلقے بلیک برن میں گجرات اور کشمیر سے آئے تارکین وطن نے ٹیکسٹائل انڈسٹری میں لیبر کی کمی کو پورا کیا۔ برطانوی معاشرے کو آج اس مقام تک پہنچانے میں مسلمانوں کی خدمات کو صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ جیک سٹرا نے کہا برطانیہ میں آباد دو ملین مسلمان طب، سیاست، کھیل، بزنس، فنانس اور تعلیم سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں مصروف عمل ہیں۔ لیبر حکومت میں پہلی بار مسلمان پارلیمان، ہاؤس آف لارڈز کے رکن بننے کے علاوہ آج وزیر کے طور پر بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔اسلام برطانوی زندگی کا ایک اہم جزو ہے اور دوسرا سب سے بڑا اور تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔ ان کے حلقے میں مسلمان کمیونٹی بڑی تعداد میں آباد ہے یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ نہ صرف ان کے حلقے بلکہ دیگر علاقوں میں رمضان میں افطار اور عیدالفطر کی تقریبات میں مسلمان اور غیر مسلم ایک ساتھ شریک ہوتے ہیں جس سے انہیں ایک دوسرے کو جاننے کا موقع ملتا ہے۔ انہیں بھی ذاتی طور پر تہواروں میں شرکت، مسلمان دوستوں سے بات چیت، خوشی اور غمی کے دوران بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ دی آرٹ آف انٹیگریشن کے عنوان سے فوٹوگرافر پیٹر سینڈرز عرف عبداللہ عظیم کے کام کی تعریف کرتے ہوئے جیک سٹرا نے کہا کہ برطانیہ میں اسلام اور مسلمان کمیونٹی کی خدمات کو تصاویر کی شکل میں دوسروں کے سامنے پیش کرنے کا کام یقیناً قابل تعریف ہے اور معاشرتی ادغام کی بہترین مثال ہے۔ پیٹر کی تصاویر میں ایک ہی پیغام پوشیدہ ہے کہ تقسیم کرنیوالی باتوں کے مقابلے میں متحد کرنیوالے پہلو کہیں زیادہ ہیں۔ قبل ازیں پینل ڈسکشن کے دوران ایٹن کالج کے امام منور نے زور دیا کہ بدقسمتی سے اسلام کو سیاسی رنگ دے کر اس کی اصل تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا تدارک اسی وقت ممکن ہے کہ جب کمیونٹی کے اندر سے اس کے خلاف مزاحمت پیدا ہو اور وہ سمجھتے ہیں یہی وہ نکتہ ہے کہ جس پر حکومت کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سکولوں کی سطح پر طالبعلموں کے مابین سرگرمیوں اور نیٹ ورک کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ انسٹیٹیوٹ فار کمیونٹی کوہیژن کی الوینہ ملک نے کہا کہ پریونٹ پالیسی، ایم پیز کے اخراجات سمیت دیگر حکومتی پالیسیوں کی بدولت فار رائٹ جماعتوں کو فروغ ملا جبکہ مسلمان کمیونٹی کی جانب سے حکومت پر اعتماد میں شدید کمی ہوئی ہے۔ مسلمان اس معاشرے کا اہم حصہ ہیں تاہم معاشی و سیاسی طور پر آگے بڑھنے میں مسلمان کمیونٹی کو بسا اوقات مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کی نظر میں معاشرتی ادغام اور ہم آہنگی کیلئے زہر قاتل ہے۔ جیوئش کرانیکل اینڈ نیوز ڈیل آف دی مائنڈ کے پولیٹیکل ایڈیٹر مارٹن برائٹ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صرف مسلمان کمیونٹی پر توجہ سے دیگر کمیونٹیوں میں احساس محرومی جنم لے رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر معاشرتی ادغام کی کوشش کریں۔ فوٹوگرافر پیٹر سینڈر نے کہا کہ برطانیہ میں آباد مسلمان کمیونٹی کے حوالے سے عام لوگوں کو محض موٹی موٹی تین چار باتوں کا ہی علم تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اس معاشرے کا بڑا متحرک اور سرگرم حصہ ہیں۔ لندن انڈر گراؤنڈ میں کام کرنے والے کارکن ہوں، پولیس افسر یا ٹیلیفون آپریٹر غرض زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو مسلمان بڑی خاموشی اور محنت کے ساتھ معاشرے کی خدمت پر سربستہ ہیں۔ انہیں اس منصوبے کی تکمیل میں پانچ برس کا عرصہ لگا تاہم عصر حاضر سے مطابقت کے تناظر میں وہ اپنے کام میں مزید جدت لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ قبل ازیں یوگو و ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے صدر پیٹر کیلنر نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ بی بی سی ورلڈ سروس کی مشعل حسین کی میزبانی میں پینل نے برطانوی معاشرے میں مسلمانوں کے ادغام کے حوالے سے حکومت پر یکساں مواقعوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ قبل ازیں دی آرٹ آف انٹیگریشن کے عنوان سے تصاویری نمائش کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ پیٹر سینڈرزکی تصاویر میں برطانیہ میں زندگی کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ مسلمان مردو خواتین کی بڑی خوبصورت عکاسی کی گئی جس کو شرکا نے سراہا۔ بعد ازاں دی آرٹ آف انٹیگریشن کی تیاری پر مبنی مختصر دورانئے کی ایک فلم بھی دکھائی گئی۔  
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback