چمن+ کابل (مانیٹرنگ سیل) ترجمان افغان فوج نے کہا ہے کہ شمالی افغانستان میں آپریشن کے دوران 90 مزاحمت کاروں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ ثناء نیوزکے مطابق جنرل وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ کندوز میں آپریشن کے دوران 22 طالبان کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ 6 غیر ملکی و افغان فوجیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ آپریشن میں طالبان کمانڈر قاری بشیر اور 6 ازبک اور متعدد غیر ملکی بھی ہلاک ہوئے۔ ادھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو بتایا ہے کہ کندوز کی لڑائی میں6 غیر ملکی و افغان فوجیوں کو ہلاک کیا اور ایک مجاہد شہید ہوا ہے۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ سویلین لوگوں کو طالبان ظاہر کرکے کامیابی کے دعوے کرتے ہیں۔ دریں اثناء طالبان نے کہا ہے کہ افغانستان سے اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی واپسی ہماری کامیابی ہے جبکہ نیٹو ترجمان کے مطابق جنوبی افغانستان میں ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے2 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ مزید برآں پینٹاگون حکام نے افغان جنگ کی صورتحال پر نیٹو حکام کو وائٹ ہاؤس میں اہم بریفنگ دی جبکہ نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مزید نفری بھیجنے کے حوالے سے بات آئندہ ماہ کے اجلاس میں ہوگی۔ دوسری جانب افغانستان میں ایساف کے جرمن کمانڈر جنرل ایگان ریمز نے خبردارکیا ہے کہ افغانستان میں قوت اتحادیوں کے خلاف ہے اور دنیا بھرکے سیاستدان آخرکار اپنے عوام کے دباؤ کے خلاف فیصلے نہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اے پی پی کے مطابق نیٹو چیف کی درخواست کے باوجود ناروے نے افغانستان میں مزید فوجی بھیجنے سے انکارکر دیا ہے۔ اوسلوکے دورے کے موقع پر نیٹو سربراہ نے نیٹوکے ممبر ممالک سے کہا تھا کہ وہ افغانستان میں مزید فوجی بھیجیں، تاہم ناروے کے وزیراعظم نے اس حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔ قبل ازیں راسموسین نے کہا کہ اس وقت ہم افغان گروپس کی جتنی زیادہ تربیت کریں گے مستقبل میں ہمیں اس حوالے سے کم کوششیں کرنا پڑیں گی اور فائدہ ہوگا۔