| اسلام آباد (نمائندہ جنگ) مسلم لیگ ن اور ق کی مخالفت پر حکومت نے غریب اور نادار افراد کو بلامعاوضہ قانونی معاونت کی فراہمی کا بل واپس لے لیا۔ اس بل کو اتفاق رائے کیلئے دوبارہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اجلاس پیر کو تعطیل کے باعث آج ہوگا جبکہ اجلاس میں جمعہ کو دوسرے روز بھی قرضے معاف کرانے والوں کی فہرستیں سامنے لانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔ محمد افضل سندھو نے نادار افراد کی مفت قانونی معاونت کا بل ایوان میں پیش کیا، ن لیگ کے شاہد حامد نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بل صوبائی خود مختاری کیخلاف ہے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے میثاق جمہوریت میں کنکرنٹ لسٹ ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے اس بل کے ذریعہ وفاقی حکومت کو صوبے اور اضلاع کی سطح پر مزید اختیارات مل جائینگے۔ مسلم لیگ ق کے رکن ریاض حسین پیرزادہ نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل صوبائی معاملات میں مداخلت ہے قانون انصاف کی وزارت اپنی فتوحات کا دائرہ صوبوں اور اضلاع تک بڑھانا چاہتی ہے۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب نے اپوزیشن کی جانب سے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئے روز دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں ان کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ملوث ہیں حکومت دہشتگردی میں ملوث ممالک اور دیگر عناصر کو بے نقاب کرے۔واضح رہے کہ امن و امان کی صورتحال پر اپوزیشن ارکان کی طرف سے جمع کرائی گئی تمام تحاریک التواء کو یکجا کرکے دو روز قبل ایوان نے بحث کیلئے منظوری دی تھی۔ اجلاس میں مسلم لیگ ق کے رکن شیخ وقاض اکرم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے 100 سیکشن آفیسروں کی آسامیوں پر ریٹائرڈ آفیسران کو کنٹریکٹ پر بھرتی کرنے کی سمری کو مسترد کیا جائے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ اس وقت سیکرٹریٹ میں 225 سیکشن آفیسر ڈیپوٹیشن پر کام کر رہے ہیں جبکہ ان کی 160 آسامیاں خالی ہیں۔ |
|