| کراچی (اسٹاف رپورٹر) پیپلز پارٹی کے رہنما نفیس احمد صدیقی نے کہا ہے کہ ڈیڑھ ماہ قبل لندن میں الطاف حسین سے میری ملاقات کو غلط رنگ دیا گیا، میں آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی کا کارکن ہوں لیکن مجھے وہ عزّت نہیں مل رہی ہے جس کا حق دار ہوں، میرے اعلیٰ قیادت سے اختلافات ہیں، موجودہ حکومت کے پاس مسائل کے حل کے لیے نہ شعور ہے اور نہ ہی سیاسی بصارت ہے، ملکی مسائل کے حل کے لیے غیرسیاسی طور پر زندگی کے مختلف شعبہ جات کے افراد پر مبنی سینٹر فار ڈیولپمنٹ اینڈ ڈیموکریسی کے نام سے تھنک ٹینک کا پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا ہے جو جلد اپنی سرگرمیاں شروع کرے گا، جمعہ کو اپنی رہائشگاہ پر پیپلز پارٹی کے رکن قاضی اسد عابد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نفیس صدیقی نے کہا کہ ملک شدید معاشی بحران میں مبتلا ہے، دہشت گردی کی جنگ سے ملک متاثر ہو رہا ہے، ہندوستان بھی موقع سے فائدہ اُٹھاکر ہم پر مزید دباوٴ بڑھا رہا ہے جبکہ امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کا میڈیا، حکومتی عہدیداروں، اپوزیشن، فوج اور سول سوسائٹی سے براہ راست ملاقات کرنا تشویش کا باعث ہے، اُنہوں نے کہا کہ وفاقی یونٹس اب مطمئن نہیں ہیں اور حکومت و اپوزیشن دونوں ہی عوامی مسائل کے حل میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں، سیاسی جماعتیں بھی عوامی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا نہیں کر پا رہیں، ان حالات میں زندگی کے مختلف شعبہ جات کے افراد نے دنیا بھر کے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کی طرح عوامی مسائل کے حل کے لیے سینٹر فار ڈیولپمنٹ اینڈ ڈیموکریسی کے نام سے تھنک ٹینک تشکیل دیا ہے، اُنہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے اختلافات کے باعث ہی میں سندھ کے جنرل سیکرٹری کے عہدے سے مستعفی ہوا تھا تاہم اعلیٰ قیادت نے اب تک نہ ہی میرا استعفیٰ منظور کیا ہے اور نہ ہی مجھ سے اب تک کوئی رابطہ کیا ہے۔ |
|