آرمی چیف کی ہدایت پر آپریشن، 100 سے زائد دہشتگرد ہلاک | Daily Jang News
| |
Home Page
پیر 22 جمادی الاوّل 1438ھ 20 فروری 2017ء
February 17, 2017 | 09:00 pm
آرمی چیف کی ہدایت پر آپریشن، 100 سے زائد دہشتگرد ہلاک

Operation On Coas Directionmore Then 100 Terrorists Killed

Operation On Coas Directionmore Then 100 Terrorists Killed
آرمی چیف کی ہدایت پر ملک بھر میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن میں 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک کردیے گئے، جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو بلاتفریق اور بے رحمانہ انداز سے ٹارگٹ کریں گے، دہشت گرد کہیں بھی ہوں، انھیں نہیں چھوڑیں گے۔

آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کسی خطرے کی صورت میں ملت پاکستان کی حفاظت کیلئے ہے، پوری قوم کو اپنی مسلح افواج کے ساتھ اعتماد کے ساتھ ثابت قدم رہنا ہے، دشمن کے کسی بھی منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے سہون شریف کا دورہ کیا اور زخمیوں سے ملاقات کی، انہوں نے دو ٹوک انداز میں اعلان کیا کہ دہشت گردوں کو بلاتفریق اور بے رحمانہ انداز سے ٹارگٹ کریں گے، وہ کہیں بھی ہوں، نہیں چھوڑیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کے حکم پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کئی کومبنگ آپریشنز کیے گئے، جن میں اب تک ایک سو سے زائد دہشت گردوں کو مارا گیا ہے، انٹیلی جنس ادارے حالیہ واقعات کے پیچھے نیٹ ورکس بے نقاب کرنے میں پیشرفت کررہے ہیں،ان واقعات میں سرحد پار سے تعاون کے روابط موجود ہیں، سیکورٹی وجوہات پر بارڈر گزشتہ رات سےبند کردیا گیا ، افغانستان سے پاکستان کسی کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، سیکورٹی فورسز کو بارڈر پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں، پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو موثر طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں اور ان کے سلیپرز سیل کے خاتمے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، دوسری جانب آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈر راولپنڈی کی زیر صدارت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام کی کانفرنس ہوئی جس میں راولپنڈی شہر میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا، گرینڈ سرچ آپریشن میں 34 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مانسہرہ، تورگر اور بٹگرام دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے جہاں سے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ذرائع کے مطابق یہ اسلحہ سی پیک پر کام کرنے والے چینی باشندوں کے خلاف استعمال ہونا تھا، ملک کے دیگر علاقوں کی طرح ہزارہ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی چھاپےمارے گئے۔