کوئٹہ ، 36بچوں کا باپ اندراج کے لئے مردم شماری کا منتظر | Daily Jang News
| |
Home Page
اتوار یکم رمضان المبارک 1438ھ 28 مئی 2017ء
March 30, 2017 | 03:58 pm
کوئٹہ ، 36بچوں کا باپ اندراج کے لئے مردم شماری کا منتظر

Waiting For Father Census Registration Of Quetta 36 Children

Waiting For Father Census Registration Of Quetta 36 Children
راشد سعید
کوئٹہ میں ریکارڈ تعداد کےحامل خاندان کاسربراہ پہلی بار مردم شماری میں اپنی تین بیویوں اور 36بچوں کےاندراج کےلئے عملےکامنتظر ہے۔

جی ہاں۔۔۔آخری بار ہوئی پانچویں مردم شماری سے چھٹی مردم شماری کےدوران انیس سال میں اس کےکنبےمیں تین بیویوں سمیت 39افرادکااضافہ ہوا۔

کوئٹہ کےنواحی علاقے میں مقیم جان محمدکی تین بیویوں سے 36بچےہیں۔ان میں22 بیٹیاںاور 14بیٹے شامل ہیں۔پیشےکےاعتبارسےکوالیفائیڈ میڈیکل پریکٹیشنر اورجزوقتی بزنس مین جان محمد کی پہلی شادی 1999میں ہوئی۔پہلی بیوی سے 2000میں بیٹی شگفتہ نسرین پیدا ہوئی جس کی عمر اب سترہ سال ہے۔

پہلی شادی کےبعد جان محمد نےوقتافوقتا دومزید شادیاںکیں۔تینوں بیویوں سےاس کےہاں ویسے تو اکیالیس بچوں کی پیدائش ہوئی تاہم پانچ بچے دوران ولادت انتقال کرگئے۔ اس وقت اس کےبچوں کی تعداد 36ہے۔

ان میں حال ہی میں پیداہونے والی ایک بچی بھی شامل ہےجبکہ رواں سال اس کےگھر دو مزید بچوں کی ولادت متوقع ہےاور پہلی بار اس کےچھتیس 36بچوں کااندراج قومی خانہ و مردم شماری میں ہوگا۔

کوئٹہ کےنواحی علاقے مشرقی بائی پاس سے ملحقہ علاقے میں رہائش پذیر جان محمد کا گھر دوسرے مرحلےکےبلاک میں شامل ہونےکےباعث مردم شماری کاعملہ تاحال اس کےگھر خانہ ومردم شماری کےلئے نہیں پہنچاتاہم وہ ان کامنتظر ضرور ہے۔

دوسری جانب چوالیس سالہ جان محمد کاکہنا ہے کہ اولاد اللہ کی دین ہےاور اس کی خواہش ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سنچری مکمل کرےاوراگر اللہ نے اسے توفیق دی تو وہ چوتھی شادی بھی ضرور کرےگااور اپنی نسل کو آگے بڑھائے گا۔

معاش کےحوالےسےاس کا کہناتھا کہ اللہ نے دنیا میں ہرذی روح کےرزق کاوسیلہ پیدا کیا ہے،اس کا کہناتھا کہ ہرماہ اس کےکنبےپرتقریباً ایک لاکھ روپے کےاخراجات ہیں۔وہ اپنی تین بیویوں اور چھتیس بچوں کےساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہاہے۔جب کبھی اسے وقت اور موقع ملتا ہے تو وہ بچوں کےساتھ فٹبال اور کرکٹ بھی کھیلتا ہےاور ان کےساتھ گپ شپ بھی کرتاہے۔

جان محمد کے چھتیس بچوں میں سے 18بچے مختلف کلاسوں میں زیرتعلیم ہیں اور سب سے بڑی بچی شگفتہ نسرین نے ابھی حال ہی میں میٹرک کاامتحان دیا ہےلیکن بدقسمتی سے چند روز قبل وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کےلئے کھانابناتےہوئے پریشر ککر پھٹنےسےکچھ زخمی ہونےکی وجہ سے مقامی سول اسپتال میں زیرعلاج ہے۔