|
|
|
 |
 |
 |
| وزیر خزانہ شوکت ترین نے این ایف سی کے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر کراچی میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ چاروں صوبے آبادی، رقبے، ریونیو اور پسماندگی کے کثیر المعیاراتی فارمولے کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم پر متفق ہو گئے ہیں اور توقع |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
| چینی کے کم داموں میں فروخت کے تمام وعدوں کے باوجود کراچی سمیت ملک بھر میں لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ حیدرآباد اور کئی دیگر شہروں میں سرکاری نرخوں پر چینی ملنے کی امید میں جانے والوں کی بڑی تعداد کو چینی تو نہ مل سکی مگر دھکم پیل |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
| زرعی ترقیاتی بینک کی ہدایت پر زرعی ترقی کے متعدد منصوبوں کیلئے 14.685ارب روپے کے قرضے فراہم کئے گئے ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کی جانب سے مجموعی طور پر 36.915ارب روپے کے زرعی قرضے دیئے گئے۔ اس معاملے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ مذکورہ قرضے ماضی کی طرح |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
کیا امریکہ کا خوف ہماری ہڈیوں کے گودے تک گھس گیا ہے؟ کیا اس کے ڈرون ہمارے دل و دماغ کو بھی کھنڈر کررہے ہیں؟ کیا اب ہم اپنے معاملات کو بھی امریکی عینک سے دیکھتے، امریکی ذہن سے سوچتے اور امریکہ کی زبان سے اظہار مدعا کرنے لگے ہیں؟ میں |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
| اس وقت ہمارے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس کے متعلق اتنے سازشی نظریات ہیں کہ ان سے حقیقت کا کھوج لگانا مشکل ہے۔ ان سازشی نظریات میں عام طور پر امریکہ، مغرب، اسرائیل اور زیادہ تر بھارت کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ سازش کا یہ مرض صرف غیر تعلیم |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
| بہت عرصے سے کچھ لفظ بہت عام ہوگئے ہیں اسے آپ لفظوں کی ارزانی بھی کہہ سکتے ہیں مثلاً ایک جذبہ محبت ہے جسے ہر ایک کے سامنے سرنڈر نہیں کیا جاسکتا لیکن ہم اس کا استعمال ”پہلے آؤ ، پہلے پاؤ“ کی بنیاد پر کرتے ہیں، پرانے زمانے میں |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
صرف ایک ہی راستہ ہے، آئین کی پاسداری کا راستہ… اگر یہ نہیں تو جیسا کہ شہباز شریف کہتے ہیں ایک دن قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے گا، ڈرو اس وقت سے ڈرو… باز آؤ اور زندہ رہو۔ نصرت جاوید پریشان تھے انہوں نے کہا۔ گیلپ کے تازہ ترین |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
| شفیق احمد خان اپنے آپ کو بلوچستانی کہتے تھے اور انہوں نے کھلے عام بلوچ عوام کے حقوق کی بات کی، نواب اکبر بگٹی کی شہادت پر سوگ منایا اور جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں ان کی شہادت کی بھرپور مذمت بھی کی، لیکن اس کے باوجود انہیں انہی لوگوں |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
| ماں باپ کی دعاؤں کا اثر ہے یا پھر بڑے صوبے کا نمائندہ ہونے کا نتیجہ لیکن بہرحال میاں نواز شریف بڑے خوش قسمت واقع ہوئے ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کا نظر انتخاب بنے ‘ جماعت اسلامی جیسی تنظیموں نے انہیں اٹھانے کے لئے |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
| بدقسمتی سے اس ملک پر چند طبقوں اور چند خاندانوں نے قبضہ جمایا ہوا ہے قطع نظر اس کے کہ اس ملک میں جمہوریت تھی یا آمریت انہی چند خاندانوں کی حکمرانی چلتی آرہی ہے ان میں سے آدھے حکومت کا حصہ ہوتے ہیں اور آدھے اپوزیشن میں۔ اس کا |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
| گزشتہ روز ایم کیو ایم کے شائننگ سٹار‘ مصطفی کمال لاہور آئے‘ تو ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس میں آنے والے دنوں کی دھندلی سی ایک تصویر ابھرآئی۔ آپ کو یاد ہو گا کہ عمران خان چند روز پہلے تک عوام سے وعدے کر رہے تھے کہ وہ |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
| شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ بنے توبعض سیاسی اور سفارتی حلقوں نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا اور یہ برملا کہا گیا کہ ایک ”ضلع ناظم“ اس قدر اہم وزارت کو چلا پائے گا اور کیا وہ خورشید محمود قصوری جیسے زیرک، دبنگ اور جہاندیدہ شخص کی جاں |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
| 1994ء میں امریکہ میں اسٹون ایمرسن کی ایک ڈاکومنٹری فلم پیش کی گئی جسے زیادہ تر ٹی وی اسٹیشنوں سے نشر کیا گیا۔ جس کا نام ”امریکہ میں جہاد“ اس فلم کے بنانے والوں نے جہاد کو اس انداز میں پیش کیا جیسے یہ کوئی ٹک ٹک کرتا ٹائم بم |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
| کبھی گئے برسوں میں ایک قصہ پڑھا تھا جو نہ جانے کیوں آج کل بار بار ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے شاید اس کا سبب کسی قدر وہ مماثلت ہے جو موجودہ دور اور اس قصے میں کہیں پائی جاتی ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ کسی ریاست میں |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
| یہ جو ہم راہ چلتے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے نظر آتے ہیں کوئی صاحب اس عمل کو مشکوک نگاہوں سے نہ دیکھیں۔ اکثر ہم راہ گیروں سے ٹکرا جاتے ہیں تو یہ ہماری نیت کا فتور نہیں ہے اس کی وجہ بھی ہمارا اِدھر اُدھر دیکھنا ہے۔ ہم آخرکار ایک |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
جنگ جاری ہے تخریب کاروں کے ساتھ جلد مٹ جائے گا ان کا نام و نشاں کام تخریب کاری کا ہوگا تمام خیر کب تک منائے گی بکرے کی ماں |
|
 |
|
| |
|
|
|
 |
 |
 |
| یہ محض محاورہ نہیں ایک عالمی نفسیاتی حقیقت بھی ہے کہ اگر کوئی کہے کہ کتا تمہار کان لے جا رہا ہے تو ہم کان کو چھو کر اس کی تصدیق کرنے سے پہلے کتے کے پیچھے بھاگ اٹھتے ہیں۔افواہیں پھیلانے اور ”درفنطنی“چھوڑنے والے اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ |
|
 |
|
| |