Editorial Note - سندھ کو گیس کی فراہمی:افہام و تفہیم سے کام لیں - column - 2017-04-15
| |
Home Page
منگل 02 شوال المکرم 1438ھ 27 جون 2017ء
ادارتی نوٹ
April 15, 2017 | 12:00 am
سندھ کو گیس کی فراہمی:افہام و تفہیم سے کام لیں

Sindh Ko Gas Ki Farahami Afham O Tafheem Se Kam Len

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں صوبائی حکومت کے تعمیر کردہ نوری آباد پاور پلانٹ کو گیس فراہم نہ کئے جانے کی صورت میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفتر پر دھاوا بولنے اور گیس پائپ لائن پر قبضہ کرلینے کی دھمکی دے کر ان تمام لوگوں کو حیرت میں مبتلا کردیا جو معاملہ فہمی، دھیمے مزاج اور سوجھ بوجھ کے حوالے سے ان کے بارے میں ہمیشہ خوش گمان رہے ہیں ۔بلاشبہ وزیر اعلیٰ سندھ کی حیثیت سے ان کا یہ رویہ ان کے معمول کے طرز عمل کے بالکل برعکس ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے پورے ایوان کی جانب سے سوئی سدرن گیس کمپنی اور وفاقی حکومت کو متنبہ کیاکہ پلانٹ کو ایک ہفتے میں گیس فراہم نہ کی گئی تو سندھ سے ملک بھر میں جانے والی گیس بند کردیں گے۔وزیر اعلیٰ سندھ کے اس موقف کی امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما سید سردار احمد کی جانب سے بھی حمایت کی گئی ہے۔تاہم سوئی سدرن گیس کمپنی کے چیئرمین مفتاح اسماعیل کی یہ وضاحت لائق توجہ ہے کہ پلانٹ کی انتظامیہ مطلوبہ سیکوریٹی ڈیپازٹ کی رقم جو ایک ارب روپے بنتی ہے جوں ہی جمع کرائے گی، پاور پلانٹ کو گیس کی فراہمی شروع کردی جائے گی۔ وزیر اعظم کے ترجمان مصدق ملک نے بھی ایک ٹی وی انٹرویو میںنوری آباد پاور پلانٹ کو گیس کی فراہمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے اس معاملے کو دو صوبوں کا تنازع نہ بنانے اور افہام و تفہیم سے حل کیے جانے پر زور دیا ہے۔ حتیٰ کہ خود پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے وزیر اعلیٰ کے بیان کو وفور جذبات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ پائپ لائن پر قبضہ اور گیس کی بندش کی دھمکی مناسب ہے نہ قابل عمل۔ سید خورشید شاہ کا یہ اظہار خیال یقینا ہوشمندی پر مبنی ہے اور مسئلے کا حل بظاہر یہی ہے کہ نوری آباد پلانٹ کی انتظامیہ سیکوریٹی ڈیپازٹ کی رقم ادا کردے ، اس کے بعد بھی اگر گیس کی فراہمی میں ٹال مٹول سے کام لیا جائے تب بلاشبہ حکومت سندھ کے پاس پرامن احتجاج کا مکمل جواز ہوگا۔

.