Editorial Note - آوازِ دوست بھی خاموش ہوئی! - column - 2017-04-17
| |
Home Page
اتوار 3؍شعبان المعظم 1438ھ 30 اپریل 2017ء
ادارتی نوٹ
April 17, 2017 | 12:00 am
آوازِ دوست بھی خاموش ہوئی!

Awaz E Dost Bh Khamoosh Huee

موت سے کسی کو رستگاری نہیں ہے مگر معاشرے سے باغ و بہار شخصیات کا رخصت ہونا وہ خلا پیدا کرتا ہے جو کبھی نہیں بھرا جا سکتا۔ ایسی ہی ایک شخصیت سابق بیوروکریٹ، صاحب طرز ادیب اور ممتاز دانشور مختار مسعود تھے جو گزشتہ روز 91برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ کافی عرصہ سے صاحبِ فراش تھے اور حرکت ِقلب بند ہو جانے کے باعث اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ سینکڑوں سوگواران، اہل علم و ادب اور ممتاز سیاسی شخصیات نے ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی، بعد ازاں انہیں شادمان کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ مختار مسعود 15دسمبر 1926ء کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، تقسیم ِہند کے بعد انہوںنے پاکستان ہجرت کی اور 1949ء میں مقابلے کا امتحان پاس کرنے کے بعد سول سروسز میں شمولیت اختیار کی جہاں وہ کمشنر لاہور اور وفاقی سیکرٹری سمیت متعدد اہم عہدوں پر فائز رہے۔ بطور کمشنر لاہور انہوں نے مینارِ پاکستان اور مسجد ِشہداء کی تعمیر کروائی۔ وہ جتنے اچھے سول سرونٹ تھے اسی پائے کے مصنف بھی تھے اور ان کی پہچان منفرد انداز کے ادیب کی ہے جس نے ادب میں نئے رحجانات کو متعارف کروایا۔ انہوں نے متعدد کتب تحریر کیں مگر تین تصانیف آوازِ دوست، سفرِ نصیب اور لوحِ ایام کا شمار شاہکار کتابوں میں ہوتا ہے۔ آوازِ دوست مینارِ پاکستان کی تعمیر کے حوالے سے ایک دستاویزی قسم کی کتاب ہے۔ ان کا شمار یقیناً اعلیٰ پائے کے ادیبوں میں کیا جائے گا کیونکہ ان کے جملوں کی کاٹ، حساسیت اور اس میں پنہاں طنز و سنجیدگی کو فراموش کرنا ممکن نہیں۔ صدرِ مملکت، وزیراعظم، وزیر اطلاعات و نشریات سمیت ادبی و سماجی شخصیات نے مختار مسعود کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ خدائے تعالیٰ مرحوم کی اگلی منزلوں کو آسان تر فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین!

.