Editorial Note - ترکی:نئے دور کا آغاز - column - 2017-04-18
| |
Home Page
اتوار 3؍شعبان المعظم 1438ھ 30 اپریل 2017ء
ادارتی نوٹ
April 18, 2017 | 12:00 am
ترکی:نئے دور کا آغاز

Turkey Naey Dour Ka Aghaz

برادر مسلم ملک ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب ایردوان کی عوامی مقبولیت صدارتی نظام کے حق میں عوام کی واضح اکثریت کے فیصلے سے ایک بار پھر ثابت ہوگئی ہے ۔ گزشتہ روز ہونے والے ملک گیر تاریخی ریفرینڈم کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق صدارتی نظام کے حق میں اکیاون اعشاریہ تین فی صد سے زیادہ اور مخالفت میں اڑتالیس اعشاریہ سات فی صد سے کم ووٹ پڑے۔ طیب ایردوان کی عوامی مقبولیت کا ایک بے مثال مظاہرہ گزشتہ جولائی میں ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک انتہائی منظم کوشش کی شدید عوامی مزاحمت کے باعث ناکامی کی شکل میں دنیا دیکھ چکی ہے۔ بلاشبہ ترک عوام کی واضح اکثریت رجب ایردوان سے ملک و قوم کے لیے ان کی غیرمعمولی خدمات کے سبب محبت کرتی ہے ۔انہوں نے تین مسلسل ادوار حکومت میں کامیاب حکمت عملی کے ذریعے اپنے ملک کو بدترین معاشی زبوں حالی سے نجات دلانے، تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں انقلابی اقدامات کے ساتھ ساتھ سیکولرازم کے نام پر مسلم عوام پر مسلط کی جانے والی غیرضروری پابندیاں بھی ختم کیں اور مسلم ملک کی حیثیت سے ترکی کے قومی ہی نہیں بین الاقوامی کردار کو بھی بحال کیا۔ رجب طیب ایردوان کی عوامی مقبولیت بلاشبہ مصنوعی نہیں حقیقی ہے ۔تازہ ریفرینڈم جیتنے کے بعد انہیں اصلاحات کے لیے غیرمعمولی اختیارات مل جائیں گے اور آئندہ صدارتی انتخابات میں بھی کامیاب ہوئے تو 2029ء تک برسراقتدار رہ سکیں گے۔ان کے مخالفین اگرچہ ان پر آمرانہ طور طریقے اپنانے کے الزامات لگاتے ہیں اور اپنے مخالفین کے خلاف ان کے سخت اقدامات بظاہر قابل اعتراض نظر بھی آتے ہیں لیکن ان کے حامیوں کا موقف ہے کہ ترکی کے غیرمعمولی حالات میں یہ اقدامات ملک کے مفاد کا ناگزیر تقاضا ہیں۔ تاہم توقع ہے کہ صدر مملکت کی حیثیت سے غیرمعمولی اختیارات حاصل کرنے کے بعد وہ جمہوری حدود میں اختلاف رائے کی آزادیاں پوری طرح بحال کردیں گے اور سیاسی مخالفین کو ان کے جائز حقوق سے محروم نہیں رکھیں گے۔

.