سکھر: ضلع میں خانہ و مردم شماری کے انتظامات کے سلسلے میں اجلاس
| |
Home Page
منگل 02 شوال المکرم 1438ھ 27 جون 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
سکھر: ضلع میں خانہ و مردم شماری کے انتظامات کے سلسلے میں اجلاس

Todays Print

سکھر (بیورو رپورٹ)25 اپریل سے سکھر ضلع میں شروع ہونے والی خانہ اور مردم شماری کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے ڈی سی آفس سکھر میں ڈپٹی کمشنر رحیم بخش میتلو اور پاک آرمی کی جانب سے مقررکردہ ڈسٹرکٹ ریسپانسیبل لیفٹننٹ کرنل خالد کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، اجلاس میں ریونیو ، شماریات، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سکھر رحیم بخش میتلو نے چارج اورسرکل سپروائیزر کو ہدایت کی کہ وہ اپنے علاقوں کی حدود اور نقشوں کے متعلق اچھی طرح سے معلومات حاصل کرلیں تا کہ خانہ ومردم شماری کے مراحل کے دوران کوئی تکلیف درپیش نہ آئے ۔ انہوں نے کہاکہ خانہ اور مردم شماری کے عمل کو سول اور ملٹری کے مشترکہ ٹیم ورک اور کوششوں سے کامیاب کیا جائیگا۔ اجلاس کے دوران قانون نافذکرنے والے اداروں اور پولیس کو مردم شماری عملے ،مٹیریل اور کیمپوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ پاک آرمی کے لیفٹننٹ کرنل خالد نے اجلاس کو بتایا کہ سکھر ضلع میں مردشماری کے لیے 23چارجز اور118سرکلز کے لیے 499ٹیمیں کام کریں گی جن کی سکیورٹی کے لئے پاک فوج کے اہلکار وں کے ساتھ ساتھ 977پولیس اہلکار بھی موجود رہیں گے  جبکہ مردم شماری کے مرحلے کے لیے 171مختلف گاڑیاں بھی استعمال کی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے دوران گھرانے کے سربراہ کا شناختی کارڈ ہونا لازمی ہوگا۔ شناختی کارڈ نہ ہونے کی صورت میں فارم کے پیچھے انگوٹھے کا نشان لیکر نادرا سے تصدیق کی جائیگی۔ پاک آرمی کی ٹیمز مشکوک ڈیٹا کی صورت میں نادرا کی جانب سے اسپیشل موبائل سمز کے ذریعے تصدیق کریں گی ۔ ڈپٹی کمشنر سکھر رحیم بخش میتلو نے ڈی ایچ اوز کو ہدایت کی کہ مردم شماری کے مرحلے کے دوران محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کی ایمبولینسز اور عملے کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور مختارکارآرمی افسران سے مکمل رابطے میں رہیں اور اس سلسلے میں کوئی بھی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔