پاناما کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ حق کی فتح ہے،وزیراعظم اخلاقی طور پر مستعفی ہوجائیں،پاکستانی کمیونٹی کا ملا جلا ردعمل
| |
Home Page
اتوار 3؍شعبان المعظم 1438ھ 30 اپریل 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
پاناما کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ حق کی فتح ہے،وزیراعظم اخلاقی طور پر مستعفی ہوجائیں،پاکستانی کمیونٹی کا ملا جلا ردعمل

Todays Print

لندن/ برمنگھم/ بریڈ فورڈ/ ہیلی فیکس/ پیرس/ وٹفورڈ (ودود چوہدری/ محمد رجاسب مغل، ابرار مغل، نمائندگان جنگ/ پ ر) برطانیہ اور یورپ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے پاناما کیس کے فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کا تسلسل برقرار رہے گا اور جمہوری ادارے مستحکم ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں اور کارکنوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اسے حق کی فتح اور پاکستان کے لیے فائدہ مند قرار دیا جب کہ پیپلز پارٹی، تحریک انصاف کے رہنما و کارکنوں اور بعض دیگر کمیونٹی شخصیات نے کہا کہ عدالت نے وزیراعظم اور ان کے خاندان کو کلین چٹ ہرگز نہیں دی اور وزیراعظم نوازشریف کو اخلاقی طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔ مسلم لیگ ن لندن کے نائب صدر وارث خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اسے حق کی فتح اور ملک کے لیے فائدہ مند قرار دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلے کے بعد میاں نوازشریف کی قیادت میں ملک مزید ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو چاہیے کہ منفی سیاست ترک کرکے ملکی ترقی میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلے نے ثابت کیا ہے کہ ملکی ادارے آزاد ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر کارکنوں میں مٹھائی تقسیم کی۔ بریڈ فورڈ سے نمائندہ جنگ کے مطابق پاناما کیس کے حوالے سے بریڈ فورڈ میں مختلف جماعتوں کی جانب سے ردعمل کا اظہار کیا گیا ، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے رہنما راجہ مصدق خان نے کہا کہ عدالت نے نوازشریف کے اس موقف کی تائید کی، کہ اس حوالے سے ایک تحقیقاتی کمیشن بنانے کا فیصلہ سنایا ہے۔ مخالف جماعتوں کا صرف میاں نوازشریف کو ہٹانے کا منصوبہ تھا جو ناکام ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کے راجہ اے ڈی خان نے کہا کہ پاناما کیس کا فیصلہ خوش آئند ہے، الزام تراشی کرنے والوں کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما شرجیل ملک نے کہا کہ عدالت نے احتیاط سے کام لیتے ہوئے اسے مزید تحقیقات کی راہ پر ڈال دیا ہے جوکہ ایک لمبا پراسس ہوگا۔ ہم نوازشریف اور کرپشن زدہ سیاستدانوں کا پیچھا کرتے رہیں گے۔ عدالت کی جانب سے نوازشریف اور ان کے بچوں کو جے ٹی آئی کے سامنے پیش ہونے کا حکم خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کے شانہ بشانہ پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ گلگت اور بلتستان کے اعزازی مشیر ہارون رشید نے عدالت کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورا ایک سال چلنے والے مقدمے میں نہ کسی کی ہار ہوئی اور نہ کسی کی جیت ہوئی ہے۔ عدالت واضح فیصلہ دینے میں ناکام رہی، اس فیصلے میں جج تقسیم تھے۔ پوری قوم کنفیوژن کا شکار ہورہی ہے۔ برمنگھم سے نمائندہ جنگ کے مطابق پاناما لیکس کیس کے تاریخ ساز فیصلے پر برمنگھم میں بھی مسلم لیگی رہنمائوں اور کارکنوں نے خوشی کا اظہار کیا اور اس فیصلے کو وزیراعظم نوازشریف کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کو سب کو تسلیم کرنا ہوگا۔ آزاد کشمیر مسلم لیگ (ن) مڈ لینڈ کے صدر راجہ امجد خان نے کہا کہ فیصلہ حق و سچ پر مبنی ہے۔ اوورسیز کوآرڈینیٹر ٹو ایم ایل اے و مسلم لیگی رہنما چوہدری محمد شکیل نے کہا کہ اس تاریخ ساز فیصلے کے بعد مسلم لیگی رہنمائوں کے سر فخر سے بلند ہوگئے ہیں۔ پاناما لیکس دراصل ملکی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا پروپیگنڈا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) برطانیہ کے قائم مقام جنرل سیکرٹری صاحبزادہ محمد فاروق القادری نے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سب سازشیں بے نقاب ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعمیر و ترقی کے مخالفین اس فیصلے کو تسلیم کرکے پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے دیں۔ سینیٹر مسلم لیگی رہنما چوہدری اظہر محمود نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام سیاسی قیادت اس فیصلے کو قبول کرکے اپنی اپنی جمہوری باری کا انتظار کرے، دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ دراصل پاناما لیکس کی تصدیق ہے اور اس کیس پر جے آئی ٹی کا قیام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاناما لیکس کرپشن پر مبنی اور قابل تحقیقات معاملہ ہے۔ پی پی پی برطانیہ کے نوجوان رہنما راجہ امجد مظہر نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد پی پی پی کی قیادت نے جو مطالبہ کیا ہے اس پر عمل کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستانی اخلاقی طور پر مستعفی ہوجائیں۔ کشمیر پی ٹی آئی مڈ لینڈ کے چیف آرگنائزر چوہدری خادم حسین نے کہا کہ فیصلہ کسی طرح بھی نوازشریف کو بے گناہ قرار نہیں دے رہا ہے۔ اخلاقی طور پر وزیراعظم نوازشریف کو حکومت میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ سیاسی و سماجی شخصیت چوہدری پہلوان راسب آف سیاکھ نے کہا کہ ملک کے وسیع تر مفاد کی خاطر تمام قیادت اس فیصلہ کو تسلیم کرکے پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے کردار ادا کرے۔ پاکستان رابطہ کونسل کے چیئرمین مفتی فضل احمد قادری اور جنرل سیکرٹری حافظ محمد ادریس نے پاناما لیکس پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا کہ ملک مزید بحران کا شکار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ دیا ہے اس کے نتائج بھی یہی ہوں گے۔ وزیراعظم کی موجودگی میں عدالت کوئی تحقیقات نہیں کرسکی تو اب کچھ نہیں ہوگا، دو ماہ فیصلہ محفوظ رہنے کے بعد یہ فیصلہ آنا تھا، اس کیس میں اندرونی اور بیرونی بڑی قوتیں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بڑے اور بااثر لوگوں کو سزا نہیں ہوتی عام لوگ بھی کسی قانون کی پابندی نہیں کریں گے، تھانوں سے لے کر عدالتوں تک کیس سے عوام کو جو توقع تھی وہ ختم ہوگئی۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) سلائو کے صدر ملک مظہر نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف ایک مرتبہ پھر سرخرو ہوگئے۔ پاکستان کی ترقی کے دشمنوں کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے۔ پاکستان وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں ترقی کرتا رہے گا جب کہ عمران خان کی پارٹی حسب سابق رونے کی پالیسی پر کاربند رہے گی۔ وٹفورڈ سے نمائندہ جنگ کے مطابق وٹفورڈ کی سیاسی و سماجی جماعتوں کے رہنمائوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کو متنازع فیصلہ قرار دیا ہے۔ ممتاز کشمیری رہنما پروفیسر لیاقت علی خان نے پاناما لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر کہا کہ پانچ ججز متفقہ فیصلہ نہیں کرسکے۔ دو ججوں نے فیصلے میں کہا ہے کہ نوازشریف صادق و امین نہیں رہے، قوم کو بحران سے نکالنے کے لیے پورے ملک میں ازسرنو انتخابات کرائے جائیں۔ ممتاز کشمیری رہنما سردار جاوید عباسی ناٹنگھم نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اصل فیصلہ جی آئی ٹی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد آئے گا۔ بہتر یہی ہے وزیراعظم نوازشریف تحقیقاتی کمیشن میں پیش ہونے کے بجائے اخلاقی طور پر مستعفی ہوکر ملک میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کردیں۔ انتخابات تک ملک میں عبوری حکومت قائم کی جائے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ محمد شبیر ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالف جماعتیں سیاست نہ کریں بلکہ عدالت کے فیصلے کا احترام کریں۔ عوامی لیگ کے رہنما حاجی محمد منیر نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے قوم مایوس ہوئی ہے۔ یہ ایک غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کریڈٹ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور شیخ رشید کو جاتا ہے کہ انہوں نے ان کرپٹ لیڈروں کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ۔ ممتاز کشمیری رہنما نواز کشمیری نے کہا کہ امید ہے جوائنٹ تحقیقاتی کمیشن انصاف کے تقاضے پورے گا اور کرپٹ لوگوں کو سخت سزا دی جائے۔ ہیلی فیکس سے ممتاز مسلم لیگی رہنما چوہدری عمر نے وزیراعظم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ پاکستان میاں نوازشریف کی قیادت میں دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے گا۔ چوہدری عمر نے کہا کہ سی پیک جیسے منصوبے پاکستان میں لانے کا سہرا صرف اور صرف وزیراعظم کے سر جاتا ہے اور مسلم لیگ (ن) آئندہ الیکشن میں بھی شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔ پاک سرزمین پارٹی برطانیہ اور یورپ کے میڈیا ترجمان مرزا فیصل محمود نے کہا کہ جسٹس آصف کھوسہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم میاں نوازشریف صادق اور امین نہیں رہے، مگر حکومتی وزرا پر جو شاہ سے بھی زیادہ شاہ کے وفادار ہیں اور نیب کا ادارہ بھی اپنا آئینی کام نہیں کررہا۔ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے کر قوم کو لال بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف حکمرانی کرنے کا اخلاقی جواز کھو بیٹھے ہیں۔ علاوہ ازیں فرانس میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے بڑے بنچ کی طرف سے پاناما کیس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) فرانس کے صدر چوہدری ریاض بھاپا،چیئرمین چوہدری شاہین اختر، چیف آرگنائزر میاں محمد حنیف ان کے دیگر رفقا نے فیصلہ کو حق اور سچ کی فتح قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قائد نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ آج بھی وزیراعظم ہوں اور کل بھی رہوں گا اور آئندہ سال انتخابات مقرر وقت پر ہی ہوں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے قاری فاروق احمد فاروقی نے کہا کہ ہم اس فیصلہ سے متفق نہیں۔ عدالتیں صرف پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت حکومتوں اور رہنمائوں کے خلاف ہی فیصلہ دیتی ہیں۔ میاں برادران کا کبھی احتساب نہیں ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف فرانس کے رہنمائوں مشتاق خان جدون، ابرار کیانی، ملک اصغر، محمد برہان اور دیگر نے کہا کہ ہمارے قائد عمران خان کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ عدالت اعظم کے ججز نے میاں نوازشریف کی ایمانداری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ لہٰذا اخلاقی طور پر ان کو اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔ ہیلی فیکس سے نمائندہ جنگ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن برطانیہ کے رہنمائوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر شاہد، مرکزی رہنما اسد سجاد بٹ، ڈاکٹر شازیہ خان، عثمان ذوالفقار، حارث زاہد اور دیگر نے اسے پاکستان کی فتح قرار دیا۔ ان رہنمائوں کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حق اور سچ کی فتح ہے۔ پاکستان اس وقت ترقی اور خوشحالی کی طرف گامزن ہے، ایسے وقت میں ملک کسی ایسی طرف نہیں جاسکتا جس سے ترقی کا سفر رک جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ترقیاتی کام دیکھ کر آئندہ الیکشن میں موت نظر آرہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہوگئی۔ جمیعۃ علما برطانیہ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا اسلام علی شاہ نے پاناما لیکس کے فیصلے کے بارے میں کہا کہ فیصلہ اچھا اور مناسب ہے۔ ہر فریق خوش اور جشن منا رہا ہے۔ کرپشن ملک سے ہر حال میں ختم ہونی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ نوازشریف کے علاوہ جن لوگوں کا ملک سے پیسہ باہر آیا ہوا ہے ان کے پیسوں کو واپس لانے کے لیے کب عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ عمران خان صرف اقتدار کے لیے یہ سب کچھ کررہے ہیں۔