پاناما کیس کے فیصلے پر سکاٹ لینڈ کے پاکستانیوں نے مختلف ردعمل کا اظہار
| |
Home Page
منگل 02 شوال المکرم 1438ھ 27 جون 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
پاناما کیس کے فیصلے پر سکاٹ لینڈ کے پاکستانیوں نے مختلف ردعمل کا اظہار

Todays Print

گلاسگو (طاہر انعام شیخ) پاناما کیس کے فیصلے پر سکاٹ لینڈ کے پاکستانیوں نے مختلف ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان فورم سکاٹ لینڈ کے صدر اور بیلی کونسلر حنیف راجہ نے کہا کہ دو سینئر ججوں نے کہا ہے کہ نوازشریف نے قوم اور پارلیمنٹ کے سامنے جھوٹ بولا تھا۔ لہٰذا ان کو قومی اسمبلی کی نشست سے نااہل قرار دیا جائے۔ نوازشریف کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اس فیصلے کے بعد خود ہی حکومت سے استعفیٰ دے دیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) سکاٹ لینڈ کے صدر امین مرزا نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نوازشریف کو ایک بار پھر سرخرو کیا ہے۔ عمران خان عدالت میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکے ہیں۔ وہ صرف الزامات لگانے اور دھرنا دینے کے بادشاہ ہیں۔ تحریک انصاف ویسٹ آف سکاٹ لینڈ کے صدر میاں علی احمد صوفی نے کہا کہ دو ججوں نے نوازشریف کو واضح طور پر مجرم جب کہ تین نے ان کے بارے میں مزید تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔ نوازشریف اور ان کے بیٹے اس بات کا کوئی جواز پیش نہیں کرسکے کہ فلیٹ خریدنے کے لیے بنیادی رقم کہاں سے آئی تھی۔ جے آئی ٹی بنانا ان کی طرف سے پیش کردہ تمام دستاویزات پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ اگر نوازشریف کو اخلاق اور جمہوریت کا ذرا سا بھی پاس ہے تو ان کو فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ممتاز سیاس و سماجی رہنما زبیر ملک نے کہا کہ ہم سب کو چاہیے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو تسلیم کریں۔ ورنہ ملک میں انتشار پیدا ہوجائے گا جو کئی پاکستان دشمن قوتوں کا ایجنڈہ ہے۔ عمران خان کے لیے بہتر ہے کہ وہ دوبارہ کرکٹ میں نیٹ پریکٹس شروع کردیں۔ پیپلز پارٹی سکاٹ لینڈ کے سابق صدر سرفراز مرزا نے کہا کہ اگر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو اس عدالتی فیصلے کے بعد نوازشریف کو فوراً حکومت چھوڑ دینی چاہیے۔ اگر تحقیقاتی کمیٹی ان کو بری کرتی ہے تو پھر وہ دوبارہ آکر اپنا عہدہ سنبھال لیں۔ مسلم لیگ گلاسگو کے صدر عمران ملک نے کہا کہ نوازشریف نے شروع سے ہی عدالت کے سامنے اپنا سر جھکا دیا تھا اور انہو ںنے اپنے پورے خاندان کو سپریم کورٹ کے بنچ کے سامنے پیش کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت بحال رکھی ہے۔ پیپلز پارٹی کے سابق جنرل سیکرٹری سید تنویر گیلانی نے کہا کہ ہمیں عدالت عظمیٰ سے کسی دوٹوک فیصلے کی امید تھی۔ لیکن بدقسمتی سے اس نے معاملے کو مزید لٹکا دیا ہے۔ لیکن ہم دو سینئر ججوں کے اس اختلافی فیصلے سے سو فیصد متفق ہیں جنہوں نے نوازشریف کو نااہل قرار دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ دو ججوں نے نوازشریف کو تو مجرم قرار دیا ہے لیکن بقایا تین ججوں نے بھی ان کو بری نہیں کیا بلکہ مزید تحقیقات اور تفتیش کرنے کو کہا ہے اصل کیس اور انکوائری تو اب شروع ہوئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری کونسلر شاہد فاروق نے کہا کہ عمران خان کے پاس پاناما سلسلہ میں کوئی ثبوت نہیں تھے۔ وہ صرف سیاسی کارڈ کھیل رہے تھے۔ عدالت کا فیصلہ جمہوریت کی فتح ہے، اس سے ملک میں استحکام پیدا ہوا ہے اور سٹاک ایکسیچینج میں ایک دم تیزی آئی ہے۔ ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت میجر ماجد حسین نے کہا کہ عدالت کو چاہیے تھا کہ جب تک جے آئی ٹی کی رپورٹس نہیں آتی، نوازشریف کو اس وقت تک کے لیے معطل کردیتی۔ نوازشریف کی کرپشن پوری قوم کے سامنے ہے۔ اب جب ان کے خلاف کمیٹی میں تفصیلی تحقیقات ہوں گی تو مزید انکشافات ہوں گے۔ وہ قوم کے مجرم ہیں اور مجرم کو سخت سزا ملنی چاہیے۔ پاکستان مسلم لیگ ن برمنگھم کے ملک فتح حسین، چوہدری عارف، ملک محمدحسین،راجہ حق نواز جانباز،چوہدری اظہر محمود او ر دیگر نے کہا کہ فیصلے سے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ ہوگا۔پی پی پی کے چوہدری شاہ نواز، کشمیر پی ٹی آئی کے بیرسٹر کرامت حسین اور چوہدری عبدا لغفور کھاڑک نے کہا ہے کہ فیصلے سے صورتحال واضح نہ ہو سکی وزیرا عظم استعفیٰ د ے کر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں۔