انتخابات کا اعلان،برطانیہ میں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں نے تیاری شروع کردی
| |
Home Page
اتوار 29 رمضان المبارک 1438ھ 25 جون 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
انتخابات کا اعلان،برطانیہ میں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں نے تیاری شروع کردی

Todays Print

برمنگھم/ ہیلی فیکس/بینبری(آصف محمود/ زاہد انور مرزا/وسیم فیصل) برطانیہ بھر کی طرح دوسرے بڑے شہر برمنگھم میں بھی آئندہ آٹھ جون کو الیکشن کے اعلان کا زبردست خیرمقدم کرتے ہوئے لیبر ڈیمو کریٹ کے ترجمان و سابق کونسلر راجہ شوکت خان نے کہا کہ یہ درست وقت ہےکہ بریگزٹ کے پراسس پر نئی منتخب قیادت اپنا نیا مینڈیٹ لے کر مذاکرات کا عمل شروع کرے، لب ڈیم ویسٹ مڈ کی تمام نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔ بالخصوص سائوتھ یارڈلے کی سیٹ نئے مینڈیٹ سے حاصل کرے گی۔ معروف کمیونٹی رہنما اور لیبر پارٹی واشو ووڈ ہیتھ کے چیئرمین ایم پی لیام برن کے قریبی ساتھی پہلوان راسب چوہدری نے کہا کہ ہماری پارٹی بریگزٹ کے خلاف تھی، ہم یورپین یونین میں رہنا چاہتے تھے، مگر عوام نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ عوام کا فیصلہ تسلیم کرتے ہیں، مڈ ٹرم الیکشن میں عوام جس کو چاہیں مینڈیٹ دیں۔ لیبر پارٹی اکثریت حاصل کرکے سب کو حیران کرے گی۔ جرمی کوربن پارٹی لیڈر ہیں۔ پوری کمیونٹی کو پارٹی قیادت پر اعتماد ہے، ویسٹ مڈ لینڈ سے پہلے کی نسبت بھاری اکثریت کے ساتھ عوامی مینڈیٹ حاصل کریں گے۔ بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد ٹوری کا حکومت میں رہنا عوام کے فیصلے کی توہین تھی۔ ٹوری حکومت کو یہ فیصلہ بہت پہلے کرلینا چاہئےتھا۔ یوکے انڈیپینڈنٹ پارٹی (UKIP) مڈ لینڈ کے خزانچی الحاج راجہ گلتاسب نئے الیکشن کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔ ہم جمہوری لوگ ہیں اور جمہوری پراسس کی حمایت کرتے ہیں۔ پوری قوم کنفیوژن کا شکار تھی، ملک میں سیاسی عدم استحکام تھا۔ اب8جون کو الیکشن پر لوگ بریگزٹ کے عمل کو سامنے رکھ کر ووٹ دیں گے، جسے مینڈیٹ ملے گا وہ عوامی اعتماد کی عکاسی کرے گا۔ دریں اثناء وزیراعظم تھریسامے کے اعلان کے بعد کالڈر ڈیل میں بھی تمام سیاسی جماعتوں نے الیکشن کی تیاریاں شروع کردی ہیں، حکمران جماعت ٹوری پارٹی کے رہنما اور ممبر یورپین پارلیمنٹ امجد بشیر بھی ہیلی فیکس سے الیکشن کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش میں مصروف ہیں، وہ پاکستان میں ایک وفد کے ہمراہ دورے پر تھے کہ وزیراعظم تھریسامے کے الیکشن کے اعلان کے بعد گزشتہ روز برطانیہ واپس پہنچ گئے، شیڈول کے مطابق انہوں نے جمعہ کو واپس آنا تھا۔ اگر ٹوری پارٹی امجد بشیر کو ٹکٹ جاری کرتی ہے تو یہ امجد بشیر کے لیے انتہائی سازگار ثابت ہوگا، کیونکہ لیبر پارٹی کی نیشنل اور لوکل پوزیشن بہتر نظر نہیں آرہی جبکہ لب ڈیم کے کالڈرڈیل کونسل میں گروپ لیڈر جیمز بیکر نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ لب ڈیم یارک وارڈ سمیت پورے ہیلی فیکس سے الیکشن میں حصہ لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ جبکہ لیبر پارٹی نے بھی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے تیاری شروع کردی ہے، یہاں اگر لوکل ممبر پارلیمنٹ جن کا تعلق لیبر پارٹی سے ہے ذکر کیا جائے تو مقامی لیبر پارٹی کے کارکنوں میں مایوسی پائی جاتی ہے، مگر یہ آئندہ چند ہفتوں میں واضح ہوگا کہ یارک وارڈ کی مسلم کمیونٹی کس کی حمایت کرتی ہے۔ وزیراعظم تھریسامے نے ملک میں اچانک جنرل الیکشن کا اعلان کرکے ملک و قوم کو حیران کردیا، لیکن ہائوس آف کامنز میں522ایم پیز کی حمایت نے ان کے اس فیصلے کو مستحکم کرکے انتخابات کے عمل کو ہموار راستہ فراہم کردیا ہے۔ اب ملک میں آٹھ جون کو عام انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔ وزیراعظم کی جماعت کنزرویٹو پارٹی کے ایم پیز کی بڑی تعداد نے بھی مسزمے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہی میں بینبری کی ایم پی وکٹوریہ پیرنٹس نے بھی وزیراعظم کے انتخابات کے فیصلے کو صحیح وقت کا درست فیصلہ قرار دیا ہے۔ نمائندہ جنگ بینبری سے خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ عوام کی بات سننا چاہتی .ہیں اور بھاری مینڈیٹ سے دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوکر بریگزٹ کی مزید بات چیت کو ٹھیک طرح سے آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔ میں وزیراعظم کو پوری طرح سے سپورٹ کرتی ہوں، تاکہ ملک میں معاشی استحکام لایا جاسکے، جس کی ضرورت ہے اس اہم وقت میں تاکہ یورپی یونین سے باہر رہ کر ترقی کے نئے راستوں پر گامزن ہونے میں مدد مل سکے۔