قاری تصور الحق مدنی کی مولانا اختر الزماں غوری سے ملاقات
| |
Home Page
منگل 02 شوال المکرم 1438ھ 27 جون 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
قاری تصور الحق مدنی کی مولانا اختر الزماں غوری سے ملاقات

Todays Print

برمنگھم(پ ر)جنرل سیکرٹری جمعیت علما برطانیہ چیئرمین جامع مسجد علیؓ اہلسنت والجماعت برمنگھم اور منتظم اعلیٰ 27 ویں سالانہ تین روزہ سیرت کانفرنس برمنگھم مولانا قاری تصور الحق مدنی نے معروف کمیونٹی رہنما عبدالغفار بھٹی کے ہمراہ ڈاکٹر مولانا اختر الزمان غوری مرکزی امیر جمعیت علما برطانیہ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ان کی عیادت کی۔ یاد رہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے ان کی طبعیت ناساز ہے۔ بعدازاں جامع مسجد علیؓ اہل سنت والجماعت آسٹن چرچ روڈ سالٹلے برمنگھم 8میں جمعہ ، ہفتہ ، اتوار، بمطابق 29،28 اور 30 اپریل کو منعقد ہونے والی 27 ویں تین روزہ سیرت کانفرنس کے سلسلہ میں اب تک کی تیاریوں پر تفصیلاً گفتگو کی، منتظم اعلیٰ نے امیر جمعیت علما برطانیہ کو بتایا کہ ملک بھر کی مساجد انتظامیہ کو اشتہارات اور دعوت نامے روانہ کردیئے گئے اور بیرونی مہمانوں کو بھی فائنل کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے امیر جمعیت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امسال کانفرنس کے تینوں دن تمام شرکا کے لئے کھانے کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ خواتین کے لئے مکمل پردہ میں شرکت کا بھی اہتمام ہے، کانفرنس کا آغاز جمعۃ المبارک کے بیان سے ہوگا جبکہ اسی شام محفل حمد ونعت کا خصوصی پروگرام مغرب کی نماز کے بعد ہوگا، مقامی ثنا خوانوں کے علاوہ عالمی شہرت رکھنے والے ثنا خوان حافظ ابو بکر حیدری، حافظ سید عزیز الرحمن شاہ اور حافظ طاہر بلال چشتی شرکت کریں گے۔ 29اپریل ہفتہ کی شام 6 بجے شروع ہونے والے انگلش پروگرام کی میزبانی شیخ محمد نجیب، صاحبزادہ عدیل تصور ایڈووکیٹ، نوید عبدالرحمن اور امام مسجد مولانا طلحہٰ کریں گے جبکہ بیانات کرنے والوں میں ویسٹ انڈیز کے معروف سکالر شیخ عبدالسلام ٹرینڈار، شیخ توقیر چوہدری دبئی، ڈاکٹر احمد الدبیان لندن، شیخ ظہیر محمود برمنگھم، شیخ عبدالماجد کرالے اور مفتی ابن آدم لیسٹر شامل ہیں، کانفرنس کے آخری دن بھارت ، کشمیر، پاکستان سائوتھ افریقہ اور دیگر ممالک کے ممتاز مذہبی سکالرز رونق بخشیں گے۔ اس موقع پر امیر جمعیت علما برطانیہ مولانا ڈاکٹر اختر الزمان غوری نے کانفرنس کے انتظامات کو تسلی بخش قراردیتے ہوئے کہا کہ سیرت کانفرنس ہمیشہ کی طرح امسال بھی مسلمانان ویورپ کیلئے ان کی دینی پیاسی کو بجھانے کا ذریعہ ثابت ہوگی۔ انہوں نے اپنے تمام متعلقین سے خصوصاً اور عام مسلمانوں سے عموماً اپیل کی کہ وہ اس پروگرام کو ترجیح دیتے ہوئے تمام تر مصروفیات کے باوجود ضرور شرکت کریں۔